کوئی ذی روح نہ تھا
Faisal Hashmiکوئی ذی روح نہ تھا
اطراف میں ویرانی تھی
وقت بیمار تھا دم توڑ رہا تھا شاید
شام کے موڑ پہ
کچھ دھوپ پڑی تھی جس میں
ایک بے شکل سے سائے کا لرزتا ہوا عکس
رینگتے رینگتے
اک لمبی صدا کے پیچھے
ان گنت شمسی نظاموں کے جہاں سے نکلا
آخر کار وہ اس کار گراں سے نکلا