کوئی سمجھاؤ دریا کی روانی کاٹتی ہے

Liaqat Jafri

کوئی سمجھاؤ دریا کی روانی کاٹتی ہے

کہ میرے سانس کو تشنہ دہانی کاٹتی ہے

میں باہر تو بہت اچھا ہوں پر اندر ہی اندر

مجھے کوئی بلائے ناگہانی کاٹتی ہے

میں دریا ہوں مگر کتنا ستایا جا رہا ہوں

کہ بستی روز آ کے میرا پانی کاٹتی ہے

زمیں پر ہوں مگر کٹ کٹ کے گرتا جا رہا ہوں

مسلسل اک نگاہ آسمانی کاٹتی ہے

میں کچھ دن سے اچانک پھر اکیلا پڑ گیا ہوں

نئے موسم میں اک وحشت پرانی کاٹتی ہے

کہ راجہ مر چکا ہے اور شہزادے جواں ہیں

یہ رانی کس طرح اپنی جوانی کاٹتی ہے

نظر والو تمہاری آنکھ سے شکوہ ہے مجھ کو

زباں والو تمہاری بے زبانی کاٹتی ہے