مسلسل اشک باری کر رہا تھا
Liaqat Jafriمسلسل اشک باری کر رہا تھا
میں اپنی آبیاری کر رہا تھا
مجھے وہ خواب پھر سے دیکھنا تھا
میں خود پہ نیند طاری کر رہا تھا
کئی دن تک تھا میری دسترس میں
میں اب دریا کو جاری کر رہا تھا
مجھے رک رک کے پنچھی دیکھتے تھے
میں پتھر پر سواری کر رہا تھا
گزرنا تھا بہت مشکل ادھر سے
دریچہ چاند ماری کر رہا تھا
کوئی ایٹم تھا میرے جسم و جاں میں
میں جس کی تاب کاری کر رہا تھا
سفینے سب کے سب غرقاب کر کے
سمندر آہ و زاری کر رہا تھا
مجھے فطرت بھی گھستی جا رہی تھی
میں خود بھی ریگ ماری کر رہا تھا
میری ڈیوٹی تھی خیموں کی حفاظت
مگر میں آب داری کر رہا تھا
ستارے ٹمٹمانا رک گئے تھے
میں پھر اختر شماری کر رہا تھا
مجھے بھڑنا تھا کس وحشی سے لیکن
میں کس پاگل سے یاری کر رہا تھا
بہت سے کام کرنے تھے لیاقتؔ
جنہیں میں باری باری کر رہا تھا