پڑے پڑے نئی زر خیزیاں نکل آئیں
Liaqat Jafriپڑے پڑے نئی زر خیزیاں نکل آئیں
کٹے درخت میں پھر ٹہنیاں نکل آئیں
اس آئنے میں تھا سرسبز باغ کا منظر
چھوا جو میں نے تو دو تتلیاں نکل آئیں
میں توڑ ڈالا گیا تو عمارت جاں میں
کہاں کہاں سے مری چابیاں نکل آئیں
میں آسمان پہ پہنچا تو لڑکھڑانے لگا
بلندیوں میں عجب پستیاں نکل آئیں
ٹھہر گئے تو میسر ہوئی نہ جائے اماں
جو چل پڑے تو کئی بستیاں نکل آئیں
وہی نصیب کہ میں شہریار جس سے بنا
اسی نصیب میں تنگ دستیاں نکل آئیں
مرے علاج کو اللہ استقامت دے
مرے مریض کی پھر پسلیاں نکل آئیں
میں آسمان سے اترا زمین کی جانب
زمیں سے میری طرف سیڑھیاں نکل آئیں
وہی سوراخ جہاں چھپکلی کا ڈیرا تھا
اسی سوراخ سے پھر چیونٹیاں نکل آئیں
ابھی ابھی تو سنبھالا گیا تھا گرد و غبار
حصار دشت میں پھر آندھیاں نکل آئیں
سنبھال رکھا تھا امی نے جس کو موت تلک
اسی کباڑ سے کچھ تختیاں نکل آئیں
میں آخری تھا جسے سرفراز ہونا تھا
مرے ہنر میں بھی کوتاہیاں نکل آئیں