تمہیں اب اس سے زیادہ سزا نہیں دوں گا

Liaqat Jafri

تمہیں اب اس سے زیادہ سزا نہیں دوں گا

دعائیں دوں گا مگر بد دعا نہیں دوں گا

تری طرف سے لڑوں گا میں تیری ہر اک جنگ

رہوں گا ساتھ مگر حوصلہ نہیں دوں گا

تری زبان پہ موقوف میرے ہاتھ کا لمس

نوالہ دوں گا مگر ذائقہ نہیں دوں گا

میں پہلے بوسہ سے نا آشنا رکھوں گا تمہیں

پھر اس کے بعد تمہیں دوسرا نہیں دوں گا

پھر ایک بار گزر جاؤ میرے اوپر سے

میں اس کے بعد تمہیں راستہ نہیں دوں گا

کہ تو تلاش کرے اور میں تجھ کو مل جاؤں

میں تیری آنکھ کو اتنی سزا نہیں دوں گا

بھگائے رکھوں گا اپنی عدالتوں میں تمہیں

تمام عمر تمہیں فیصلہ نہیں دوں گا

میں اس کے ساتھ ہوں جو اٹھ کے پھر کھڑا ہو جائے

میں تیرے شہر کو اب زلزلہ نہیں دوں گا

تری انا کے لیے صرف یہ سزا ہے بہت

تو جا رہا ہے تو تجھ کو صدا نہیں دوں گا

کہ اب کی بار لیاقتؔ ہوا ہوا سو ہوا

میں اس کے ہاتھ میں اب آئنا نہیں دوں گا