کسی گرداب کی پھینکی پڑی ہے
Liaqat Jafriکسی گرداب کی پھینکی پڑی ہے
لب ساحل جو اک کشتی پڑی ہے
حقیقت میں وہی سیدھی پڑی ہے
مجھے اک چال جو الٹی پڑی ہے
سفر الجھا دئے ہیں اس نے سارے
مرے پیروں میں جو تیزی پڑی ہے
وہ ہنگامہ گزر جاتا ادھر سے
مگر رستے میں خاموشی پڑی ہے
مرے کانوں کی زد پر ہیں مناظر
مری آنکھوں میں سرگوشی پڑی ہے
ہوا ہے قتل بے داری کا جب سے
یہ بستی رات دن سوئی پڑی ہے
یہ مصرعہ میں ادھورا چھوڑتا ہوں
مرے بستے میں اک تختی پڑی ہے
پتنگ کٹنے کا باعث اور ہے کچھ
اگرچہ ڈور بھی الجھی پڑی ہے
ذرا کوئل کا پنجرہ کھل گیا تھا
ابھی تک خوف سے سہمی پڑی ہے
مکمل ایک دنیا اور بھی ہے
جو اک دنیا کی ان دیکھی پڑی ہے
بڑی بنجر تھی یہ کھیتی لیاقتؔ
مگر کچھ روز سے سینچی پڑی ہے