اسی کے دم پہ تو یہ دوستی بچی ہوئی تھی
Liaqat Jafriاسی کے دم پہ تو یہ دوستی بچی ہوئی تھی
ہمارے بیچ میں جو ہم سری بچی ہوئی تھی
ہمارے بیچ میں اک پختگی بچی ہوئی تھی
بچی ہوئی تھی مگر عارضی بچی ہوئی تھی
اسی کے نور سے یہ روشنی بچی ہوئی تھی
مرے نصیب میں جو تیرگی بچی ہوئی تھی
اسی کے دم پہ منایا تھا اس نے جشن مرا
کہ دشمنی میں بھی جو دوستی بچی ہوئی تھی
کمال یہ تھا کہ ہم بحث ہار بیٹھے تھے
ہمارے لہجے کی شائستگی بچی ہوئی تھی
اگرچہ ختم تھے رشتے پڑوسیوں والے
ہمارے بیچ میں ہمسائیگی بچی ہی تھی
بدل چکا تھا وہ اپنا مزاج میرے لئے
مگر دکھاوے کو اک بے رخی بچی ہوئی تھی
اسی کے نور سے پر نور تھا یہ سارا جہاں
ہماری آنکھ میں جو روشنی بچی ہوئی تھی
اب اس مقام پہ پہونچا دیا تھا ہم نے عشق
جنون ختم تھا دیوانگی بچی ہوئی تھی
اسی نے جوڑ کے رکھا ہوا تھا رشتے کو
ہمارے بیچ میں جو برہمی بچی ہوئی تھی
اس ایک بات کی شرمندگی نے مار دیا
مرے وجود تری تشنگی بچی ہوئی تھی
عبور کر لیا صحرا تو پھر سے لوٹ آئے
جنون باقی تھا آشفتگی بچی ہوئی تھی
میں گاہے گاہے اسے یاد کر ہی لیتا تھا
اسی بہانے مری زندگی بچی ہوئی تھی
اسی کے دم پہ پڑھے بھی گئے سنے بھی گئے
ہمارے لہجے میں جو چاشنی بچی ہوئی تھی
زمانے تیری ہنر کوش رزم کے ہاتھوں
میں لٹ چکا تھا مگر شاعری بچی ہوئی تھی
وہ کون راز تھا جس کو بیان کر نہ سکے
وہ کون بات تھی جو جعفریؔ بچی ہوئی تھی