پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہے

Parveen Shakir (1952–1994)

پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہے

پھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح