Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اک کلی گلاب کیکوچۂ چمن میں ہےMunir Niazi (1928–2006)
  2. ان دنوں یہ حالت ہے میری خواب ہستی میںپھر رہا ہوں میں جیسے اک خراب بستی میںMunir Niazi (1928–2006)
  3. اے شہر بے مثال ترے بام و در کی خیراے حسن لا زوال ترے بام و در کی خیرMunir Niazi (1928–2006)
  4. بین کرتی عورتیںرونقیں ہیں موت کیMunir Niazi (1928–2006)
  5. پرے سے دیکھو تو صرف خوشبو قریب جاؤ تو اک نگر ہےطلسمی رنگوں سے بھیگتے گھر نسائی سانسوں سے بند گلیاںMunir Niazi (1928–2006)
  6. پہلی بات ہی آخری تھیاس سے آگے بڑھی نہیںMunir Niazi (1928–2006)
  7. پھیلتی ہے شام دیکھو ڈوبتا ہے دن عجبآسماں پر رنگ دیکھو ہو گیا کیسا غضبMunir Niazi (1928–2006)
  8. تھوڑی دیر کو ساتھ رہے کسی دھندلے شہر کے نقشے پرہاتھ میں ہاتھ دیے گھومے کہیں دور دراز کے رستے پرMunir Niazi (1928–2006)
  9. تیغ لہو میں ڈوبی تھی اور پیڑ خوشی سے جھوما تھاباد بہاری چلی جھوم کے جب اس نے مجھ کو دیکھا تھاMunir Niazi (1928–2006)
  10. جب بن سیاہ رات کے تاروں سے بھر گئےکنج چمن میں چمکے شگوفے نئے نئےMunir Niazi (1928–2006)
  11. جب میرا جی چاہے میں جادو کے کھیل دکھا سکتا ہوںآندھی بن کر چل سکتا ہوں بادل بن کر چھا سکتا ہوںMunir Niazi (1928–2006)
  12. چاروں سمت اندھیرا گھپ ہے اور گھٹا گھنگھوروہ کہتی ہے کونMunir Niazi (1928–2006)
  13. چھ رنگوں کے پھول کھلے ہیںمیرے گھر کے آگےMunir Niazi (1928–2006)
  14. چھوٹا سا اک گاؤں تھا جس میںدیئے تھے کم اور بہت اندھیراMunir Niazi (1928–2006)
  15. حسن تو بس دو طرح کا خوب لگتا ہے مجھےآگ میں جلتا ہواMunir Niazi (1928–2006)
  16. دور ہی دور رہی بس مجھ سےپاس وہ میرے آ نہ سکی تھیMunir Niazi (1928–2006)
  17. رات بے حد چپ ہے اور اس کا اندھیرا شرمگیںشام پڑتے ہی دمکتے تھے جو رنگوں کے نگیںMunir Niazi (1928–2006)
  18. رات ہے کتنی گہری کالیدکھ کی بات سجھانے والیMunir Niazi (1928–2006)
  19. ستارے جو دمکتے ہیںکسی کی چشم حیراں میںMunir Niazi (1928–2006)
  20. سڑکوں پہ بے شمار گل خوں پڑے ہوئےپیڑوں کی ڈالیوں سے تماشے جھڑے ہوئےMunir Niazi (1928–2006)
  21. شام کا بادل نئے نئے انداز دکھایا کرتا ہےکبھی وہ ننھا بچہ بن کر میرے سامنے آتا ہےMunir Niazi (1928–2006)
  22. شہر کے مکانوں کےسرد سائبانوں کےMunir Niazi (1928–2006)
  23. کچھ باتیں ان کہی رہنے دوکچھ باتیں ان سنی رہنے دوMunir Niazi (1928–2006)
  24. کسی کی شربتی نظرکوئی مہکتا پیرہنMunir Niazi (1928–2006)
  25. کل وہ ملی جو بچپن میں میرے بھائی سے کھیلا کرتی تھیجانے تب کیا بات تھی اس میں مجھ سے بہت ہی ڈرتی تھیMunir Niazi (1928–2006)
  26. کمرے میں خاموشی ہے اور باہر رات بہت کالی ہےاونچے اونچے پیڑوں پر سیاہی نے چھاؤنی ڈالی ہےMunir Niazi (1928–2006)
  27. کہہ بھی دے اب وہ سب باتیںجو دل میں پوشیدہ ہیںMunir Niazi (1928–2006)
  28. کھلی سڑک ویران پڑی تھیبہت عجب تھی شامMunir Niazi (1928–2006)
  29. گھر تھا یا کوئی اور جگہ جہاں میں نے رات گزاری تھییاد نہیں یہ ہوا بھی تھا یا وہم ہی کی عیاری تھیMunir Niazi (1928–2006)
  30. لاکھوں شکلوں کے میلے میں تنہا رہنا میرا کامبھیس بدل کر دیکھتے رہنا تیز ہواؤں کا کہرامMunir Niazi (1928–2006)
  31. منہ دھو کر جب اس نے مڑ کر میری جانب دیکھامجھ کو یہ محسوس ہوا جیسے کوئی بجلی چمکی ہےMunir Niazi (1928–2006)
  32. موسم سرما کی بارش کا یہ پہلا روز ہےدھند ہے اطراف میں سورج کے خواب گرم پرMunir Niazi (1928–2006)
  33. میرے جسم میں زہر ہے تیرامیرا دل ہے تیرا گھرMunir Niazi (1928–2006)
  34. میں اس کی آنکھوں کو دیکھتا رہتا ہوںمگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتاMunir Niazi (1928–2006)
  35. میں بھی دل کے بہلانے کو کیا کیا سوانگ رچاتا ہوںسایوں کے جھرمٹ میں بیٹھا سکھ کی سیج سجاتا ہوںMunir Niazi (1928–2006)
  36. میں ہوں ایک عجیب سپیراناگ پالنا کام ہے میراMunir Niazi (1928–2006)
  37. نہ تو حقیقت ہے اور نہ میںاور نہ تیری میری وفا کے قصےMunir Niazi (1928–2006)
  38. وہ خوبصورت لڑکیاںدشت وفا کی ہرنیاںMunir Niazi (1928–2006)
  39. ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہوMunir Niazi (1928–2006)
  40. یہ صدایہ صدائے بازگشتMunir Niazi (1928–2006)
  41. دئے ابھی نہیں جلےدرخت بڑھتی تیرگی میں چھپ چلےMunir Niazi (1928–2006)
  42. ذرا اس خود اپنے ہیجذبوں سے مجبور لڑکی کو دیکھوMunir Niazi (1928–2006)
  43. روز ازل سے وہ بھی مجھ تک آنے کی کوشش میں ہےروز ازل سے میں بھی اس سے ملنے کی کوشش میں ہوںMunir Niazi (1928–2006)
  44. کسی سائے کا نقش گہرا نہیں ہےہر اک سایہ اک آنکھ ہےMunir Niazi (1928–2006)
  45. وہاں جس جگہ پر صدا سو گئی ہےہر اک سمت اونچے درختوں کے جھنڈMunir Niazi (1928–2006)
  46. وہ میری آنکھوں پر جھک کر کہتی ہے ''میں ہوں''اس کا سانس مرے ہونٹوں کو چھو کر کہتا ہے ''میں ہوں''Munir Niazi (1928–2006)
  47. اچھی مثال بنتیں ظاہر اگر وہ ہوتیںان نیکیوں کو ہم تو دریا میں ڈال آئےMunir Niazi (1928–2006)
  48. تم میرے لیے اتنے پریشان سے کیوں ہومیں ڈوب بھی جاتا تو کہیں اور ابھرتاMunir Niazi (1928–2006)
  49. شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداسرونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیںMunir Niazi (1928–2006)
  50. کوئی تو ہے منیرؔ جسے فکر ہے مرییہ جان کر عجیب سی حیرت ہوئی مجھےMunir Niazi (1928–2006)