کسی کی شربتی نظر
Munir Niazi (1928–2006)کسی کی شربتی نظر
کوئی مہکتا پیرہن
دمکتی سرخ چوڑیاں
چمکتا ریشمی بدن
کئی جھکے جھکے شجر
ہرے بنوں میں گھومتی
کوئی اداس رہ گزر
حنا کے رنگ میں بسے
کسی نگر کے بام و در
رہیں گے یاد عمر بھر
کسی کی شربتی نظر
کوئی مہکتا پیرہن
دمکتی سرخ چوڑیاں
چمکتا ریشمی بدن
کئی جھکے جھکے شجر
ہرے بنوں میں گھومتی
کوئی اداس رہ گزر
حنا کے رنگ میں بسے
کسی نگر کے بام و در
رہیں گے یاد عمر بھر