Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. قلاش ہے قوم تو پڑھے گی کیوں کرپسماندہ ہے اب تو پھر بڑھے گی کیوں کرIsmail Meeruthi (1844–1917)
  2. کافر کو ہے بندگی بتوں کی غم خوارمومن کے لئے بھی ہے خدائے غفارIsmail Meeruthi (1844–1917)
  3. کہتے ہیں جو اہل عقل ہیں دور اندیشمخلوق کو ہے عدم کا رستہ درپیشIsmail Meeruthi (1844–1917)
  4. کہتے ہیں سبھی مسدام اللہ اللہکرتے ہیں برائے نام اللہ اللہIsmail Meeruthi (1844–1917)
  5. کیا کہتے ہیں اس میں مفتیان اسلامجب بیع مساجد سے نہیں چلتا کامIsmail Meeruthi (1844–1917)
  6. کیفیت و ذوق اور ذکر و اوراددین و اسلام اور کفر و الحادIsmail Meeruthi (1844–1917)
  7. گر جور و جفا کرے تو انعام سمجھجس کام سے وہ خوش ہو اسے کام سمجھIsmail Meeruthi (1844–1917)
  8. گر روح نہ پابند تعین ہوتییوں درد فراق سے نہ ہر دم روتیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  9. گر نیک دلی سے کچھ بھلائی کی ہےیا بد منشی سے کچھ برائی کی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  10. لاکھوں چیزیں بنا کے بھیجیں انگریزسب کرتے ہیں دندان ہوس ان پر تیزIsmail Meeruthi (1844–1917)
  11. مجموعۂ خار و گل ہے زیب گلزارنیکی و بدی ہے جلوہ گاہ اظہارIsmail Meeruthi (1844–1917)
  12. مقصود ہے قید جستجو سے باہروہ گل ہے دلیل رنگ و بو سے باہرIsmail Meeruthi (1844–1917)
  13. مکشوف ہوا کہ دید حیرانی ہےمعلوم ہوا کہ علم نادانی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  14. ہر خواہش و عرض و التجا سے توبہہر فکر سے ذکر سے دعا سے توبہIsmail Meeruthi (1844–1917)
  15. ہوتی نہیں فکر سے کوئی افزائشچپکے رہنے میں ہے بڑی آسائشIsmail Meeruthi (1844–1917)
  16. ہے بار خدا کہ عالم آرا تو ہےدانائے نہان و آشکارا تو ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  17. ہے شکر درست اور شکایت زیباہے کفر درست اور ہدایت زیباIsmail Meeruthi (1844–1917)
  18. ہے عشق سے حسن کی صفائی ظاہررندی سے ہوئی ہے پارسائی ظاہرIsmail Meeruthi (1844–1917)
  19. یا رب کوئی نقش مدعا بھی نہ رہےاور دل میں خیال ماسوا بھی نہ رہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  20. یہ قول کسی بزرگ کا سچا ہےڈالی سے جدا نہ ہو تو پھل کچا ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  21. یہ مسئلۂ دقیق سنئے ہم سےآدم ہے مراد ہستئ عالم سےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  22. ابر بادل ہے اور سحاب گھٹاجس کی ہم دیکھتے ہیں آج بہارIsmail Meeruthi (1844–1917)
  23. ایک پودا اور گھاسIsmail Meeruthi (1844–1917)
  24. ہوا اور سورج کا مقابلہIsmail Meeruthi (1844–1917)
  25. چھوٹے کام کا بڑا نتیجہIsmail Meeruthi (1844–1917)
  26. کچھوا اور خرگوشIsmail Meeruthi (1844–1917)
  27. دال کی فریادIsmail Meeruthi (1844–1917)
  28. تھوڑا تھوڑا مل کر بہت ہو جاتا ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  29. تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایاکیسی زمیں بنائی ، کیا آسماں بنایاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  30. قوس قزحIsmail Meeruthi (1844–1917)
  31. ملمع کی انگوٹھیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  32. صبح کی آمدIsmail Meeruthi (1844–1917)
  33. چڑیا کے بچےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  34. ہماری گائےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  35. کورانہ انگریز پرستیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  36. سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچہے بھلے مانسوں کا پیشہ سچIsmail Meeruthi (1844–1917)
  37. شفقIsmail Meeruthi (1844–1917)
  38. نصیحتIsmail Meeruthi (1844–1917)
  39. کس لئے پروانہ خاکستر ہواشمع کیوں اپنی جلن میں گھل گئیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  40. کیا یہی ہے جس پہ ہم دیتے ہیں جاںیا کوئی دنیائے فانی اور ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  41. بارش کا پہلا قطرہIsmail Meeruthi (1844–1917)
  42. راتIsmail Meeruthi (1844–1917)
  43. اونٹIsmail Meeruthi (1844–1917)
  44. گرمی کا موسمIsmail Meeruthi (1844–1917)
  45. پن چکیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  46. قلعۂ اکبرآبادIsmail Meeruthi (1844–1917)
  47. برساتIsmail Meeruthi (1844–1917)
  48. وہی سائل وہی مسؤل وہی حاجت مندگر ہو مقرون اجابت تو سوال اچھا ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  49. وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی منزلیں اور وہی مرحلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوIsmail Meeruthi (1844–1917)
  50. ہوا چلیIsmail Meeruthi (1844–1917)