ہر خواہش و عرض و التجا سے توبہ
Ismail Meeruthi (1844–1917)ہر خواہش و عرض و التجا سے توبہ
ہر فکر سے ذکر سے دعا سے توبہ
از بس کہ محال ہے سمجھنا اس کا
جو آئے سمجھ میں اس خدا سے توبہ
ہر خواہش و عرض و التجا سے توبہ
ہر فکر سے ذکر سے دعا سے توبہ
از بس کہ محال ہے سمجھنا اس کا
جو آئے سمجھ میں اس خدا سے توبہ