گر روح نہ پابند تعین ہوتی

Ismail Meeruthi (1844–1917)

گر روح نہ پابند تعین ہوتی

یوں درد فراق سے نہ ہر دم روتی

جب تک کہ ہے درمیاں صدف کا پردہ

دریا میں بھی دریا سے جدا ہے موتی