اب دیکھیں پھر ہم اے ہمدم کس روز منہ اِس کا دیکھیں گے

Nazeer Akbarabadi (1735–1830)

اب دیکھیں پھر ہم اے ہمدم کس روز منہ اِس کا دیکھیں گے

وُہ زلف وُہ تِل وہ خال وُہ خد وُہ رنگ وُہ نقشہ دیکھیں گے

جب پاس صنم کہ بیٹھیں گے خوش ہو کہ اس کہ لطف سے ہم

وُہ بزم وُہ خط وُہ عیش وُہ مے وُہ جام وُہ مینا دیکھیں گے

مسرور بہت دِل ہووے گا خُوش جی بھی ہوگا کیا کیا جب

وُہ ناز وہ دھج وُہ آن وُہ سج وُہ زیب وُہ بالا دیکھیں گے

وُہ کاجل چنچل آنکھوں کا وُہ مہندی نازک ہاتھوں کی

وُہ پان وُہ لب وُہ حُسن وُہ چھب وُہ گوش وُہ بالا دیکھیں گے

ہے جُو جُو خواہش دِل میں نظیرؔ آوے گا ادھر محبوب تُو ہم

وُہ ربط و دہن وُہ چین وُہ سکھ وُہ سیر وُہ چرچا دیکھیں گے