مجھے خبر ہے
Obaidullah Aleem (1939–1998)مجھے خبر ہے
تمہاری آنکھوں میں جو چھپا ہے
تمہارے چہرے پہ جو لکھا ہے
لہو جو ہر آن بولتا ہے
مجھے بتا دو
اور اپنے دکھ سے نجات پا لو
مجھے خبر ہے
تمہاری آنکھوں میں جو چھپا ہے
تمہارے چہرے پہ جو لکھا ہے
لہو جو ہر آن بولتا ہے
مجھے بتا دو
اور اپنے دکھ سے نجات پا لو