مرے کرتے کی بوڑھی جیب سے کل
Nida Fazli (1938–2016)مرے کرتے کی بوڑھی جیب سے کل
تمہاری یاد!
چپکے سے نکل کر
سڑک کے شور و غل میں کھو گئی ہے
بڑی بستی ہے
کس کو فکر اتنی!
کہ کس کھولی میں کب سے تیرگی ہے
یہاں
ہر ایک کو اپنی پڑی ہے
مرے کرتے کی بوڑھی جیب سے کل
تمہاری یاد!
چپکے سے نکل کر
سڑک کے شور و غل میں کھو گئی ہے
بڑی بستی ہے
کس کو فکر اتنی!
کہ کس کھولی میں کب سے تیرگی ہے
یہاں
ہر ایک کو اپنی پڑی ہے