ملوں اس سے تو ملنے کی نشانی مانگ لیتا ہوں
Zafar Iqbal (b. 1932)ملوں اس سے تو ملنے کی نشانی مانگ لیتا ہوں
تکلف برطرف پیاسا ہوں پانی مانگ لیتا ہوں
سوال وصل کرتا ہوں کہ چمکاؤں لہو دل کا
میں اپنا رنگ بھرنے کو کہانی مانگ لیتا ہوں
یہ کیا اہل ہوس کی طرح ہر شے مانگتے رہنا
کہ میں تو صرف اس کی مہربانی مانگ لیتا ہوں
وہ سیر صبح کے عالم میں ہوتا ہے تو میں اس سے
گھڑی بھر کے لیے خواب جوانی مانگ لیتا ہوں
جہاں رکنے لگے میرے دل بیمار کی دھڑکن
میں ان قدموں سے تھوڑی سی روانی مانگ لیتا ہوں
مرا معیار میری بھی سمجھ میں کچھ نہیں آتا
نئے لمحوں میں تصویریں پرانی مانگ لیتا ہوں
زیاں کاری ظفرؔ بنیاد ہے میری تجارت کی
سبک ساری کے بدلے سرگرانی مانگ لیتا ہوں
اگر کبھی ترے آزار سے نکلتا ہوں
تو اپنے دائرۂ کار سے نکلتا ہوں
ہوائے تازہ ہوں رکنا نہیں کہیں بھی مجھے
گھروں میں گھستا ہوں اشجار سے نکلتا ہوں
کبھی ہے اس کے مضافات میں نمود مری
کبھی میں اپنے ہی آثار سے نکلتا ہوں
میں گھر میں جب نہیں ہوتا تو گھاس کی صورت
دریچہ و در و دیوار سے نکلتا ہوں
اسی کنارۂ دریائے ذات پر ہر دم
غروب ہوتا ہوں اس پار سے نکلتا ہوں
وداع کرتی ہے روزانہ زندگی مجھ کو
میں روز موت کے منجدھار سے نکلتا ہوں
رکا ہوا کوئی سیلاب ہوں طبیعت کا
ہمیشہ تندئ رفتار سے نکلتا ہوں
اسے بھی کچھ مری ہمت ہی جانیے جو کبھی
خیال و خواب کے انبار سے نکلتا ہوں
لباس بیچتا ہوں جا کے پہلے اپنا ظفرؔ
تو کچھ خرید کے بازار سے نکلتا ہوں
ترے آسماں کی زمیں ہو گیا ہوں
ہوا ہوں تو اپنے تئیں ہو گیا ہوں
ملی ہے جگہ دل میں تھوڑی سی اس کے
سمجھ لو کہ گوشہ نشیں ہو گیا ہوں
یہاں پر میں ہونا نہیں چاہتا تھا
مگر ہوتے ہوتے یہیں ہو گیا ہوں
ترے پاؤں پڑنے سے انکار کر دوں
میں اتنا تو خود سر نہیں ہو گیا ہوں
جہاں مجھ کو ہونے سے روکا تھا اس نے
نہیں باز آیا وہیں ہو گیا ہوں
مکاں جس کا نقشہ ابھی بن رہا ہے
میں فی الحال اس کا مکیں ہو گیا ہوں
توجہ کا طالب ہوں اس طرح سے بھی
اگر آپ کا نکتہ چیں ہو گیا ہوں
بڑھاپے سے اگلی یہ منزل ہے کوئی
جواں ہو گیا ہوں حسیں ہو گیا ہوں
اسے بھی ظفرؔ میری ہمت ہی سمجھو
کہیں ہو نہ پایا کہیں ہو گیا ہوں