پہلے جو تھا وہی ہے حال میاں
Rafeeq Jabir (b. 1931)پہلے جو تھا وہی ہے حال میاں
عشق کو ہے کہاں زوال میاں
ایک دل ہی نہیں بہت کچھ ہے
جس کے لٹنے کا ہے ملال میاں
رزم گاہ حیات میں کیا کیا
کام آئی ہے غم کی ڈھال میاں
آدمی وقت کی جبیں پر ہے
آج سب سے بڑا سوال میاں
دل ہلاک غم زمانہ ہوا
پڑ گیا آئنے میں بال میاں
قیس و فرہاد سے نہ دو تشبیہ
آپ اپنی ہوں میں مثال میاں
اک یہی روشنیٔ طبع تو ہے
میری پونجی مری منال میاں
اس غم زیست کے تلاطم میں
کیا فراق اور کیا وصال میاں
کب ہوا ہم سے بے کلاہوں کا
کج کلاہوں سے اتصال میاں
ہم قلندر ہیں ہم سے مت الجھو
آ گیا گر کہیں جلال میاں
سچ ہے جابرؔ کا دم غنیمت ہے
اب کہاں ایسے خوش مقال میاں