پریوں ایسا روپ ہے جس کا لڑکوں ایسا ناؤں

Zafar Iqbal (b. 1932)

پریوں ایسا روپ ہے جس کا لڑکوں ایسا ناؤں

سارے دھندے چھوڑ چھاڑ کے چلیے اس کے گاؤں

پکی سڑکوں والے شہر میں کس سے ملنے جائیں

ہولے سے بھی پاؤں پڑے تو بج اٹھتی ہیں کھڑاؤں

آتے ہیں کھلتا دروازہ دیکھ کے رک جاتے ہیں

دل پر نقش بٹھا جاتے ہیں یہی ٹھٹکتے پاؤں

پیاسا کوا جنگل کے چشمے میں ڈوب مرا

ابھی نئی بازی ہوگی پھر سے پتا ڈالیں گے

کوئی بات نہیں جو ہار گئے ہیں پہلا داؤں