Poetry
Poet
Meter
- کبھی ایسا بھی ہووے ہے روتے روتےجگر تھام کر مسکرانا پڑے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- کل کہتے رہے ہیں وہی کل کہتے رہیں گےہر دور میں ہم ان پہ غزل کہتے رہیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
- کیا ستم ہے کہ وہ ظالم بھی ہے محبوب بھی ہےیاد کرتے نہ بنے اور بھلائے نہ بنےKaleem Aajiz (1926–2015)
- گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گےہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
- مرنا تو بہت سہل سی اک بات لگے ہےجینا ہی محبت میں کرامات لگے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- موسم گل ہمیں جب یاد آیاجتنا غم بھولے تھے سب یاد آیاKaleem Aajiz (1926–2015)
- میری غزل کو میری جاں فقط غزل نہ سمجھاک آئنہ ہے جو ہر دم ترے مقابل ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- میں محبت نہ چھپاؤں تو عداوت نہ چھپانہ یہی راز میں اب ہے نہ وہی راز میں ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- مے کدے کی طرف چلا زاہدصبح کا بھولا شام گھر آیاKaleem Aajiz (1926–2015)
- وہ کہتے ہیں ہر چوٹ پر مسکراؤوفا یاد رکھو ستم بھول جاؤKaleem Aajiz (1926–2015)
- ہمارے قتل سے قاتل کو تجربہ یہ ہوالہو لہو بھی ہے مہندی بھی ہے شراب بھی ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گاجو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گاKaleem Aajiz (1926–2015)
- آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہمہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہمSaadat Nazeer (b. 1926)
- آشیاں اجڑا مرا تو کیا ہواغم تو اس کا ہے چمن صحرا ہواSaadat Nazeer (b. 1926)
- آئیں گے وہ کبھی مگر زیست کا اعتبار کیالائے گا رنگ دیکھیے عالم انتظار کیاSaadat Nazeer (b. 1926)
- ابھی گلوں میں کوئی جوشش نمو تو نہیںابھی بہار پہ دنیائے رنگ و بو تو نہیںSaadat Nazeer (b. 1926)
- بلبل کہیں ہے پھول کہیں باغباں کہیںاللہ پھر دکھائے نہ ایسا سماں کہیںSaadat Nazeer (b. 1926)
- بہار تھی نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھاعجیب رنگ میں گزرا ہوا زمانہ تھاSaadat Nazeer (b. 1926)
- خدا معلوم جب غنچے ہنسے شبنم پہ کیا گزریتبسم کی فضا میں دیدۂ پر نم پہ کیا گزریSaadat Nazeer (b. 1926)
- خود بہ خود دیدہ و دل میں جو سمایا جائےہائے اس شخص کو کس طرح بھلایا جائےSaadat Nazeer (b. 1926)
- رہے دل کی دل میں زباں تک نہ پہنچےمرا غم حدود بیاں تک نہ پہنچےSaadat Nazeer (b. 1926)
- غم خوشی حسرت ہوس امید و یاسزندگی ہنگامۂ جذبات ہےSaadat Nazeer (b. 1926)
- کون مرتا ہے زندگی کے لیےجی رہا ہوں تری خوشی کے لیےSaadat Nazeer (b. 1926)
- کہا کس نے کہ مرنا قید سے غم کی نکلنا ہےاجل تو اک حیات عشق کا پہلو بدلنا ہےSaadat Nazeer (b. 1926)
- میرے دل وحشی کی بس اتنی حقیقت ہےاک درد کا عالم ہے دنیائے محبت ہےSaadat Nazeer (b. 1926)
- نہ ہو اعجاز کیوں حسن بیاں میںتمہیں تم ہو ہماری داستاں میںSaadat Nazeer (b. 1926)
- وہ زندگی جو شب انتظار گزری تھیترے کرم سے بہت خوش گوار گزری تھیSaadat Nazeer (b. 1926)
- اٹھو قدم قدم سے ملاتے چلے چلوسب مل کے ایک راہ بناتے چلے چلوSaadat Nazeer (b. 1926)
- ٹوٹیں ظلم کی قیدیں ٹوٹیںپھوٹیں امن کی کرنیں پھوٹیںSaadat Nazeer (b. 1926)
- لہرا ترنگے لہرا ہوا میںبھر دے رنگ و نور فضا میںSaadat Nazeer (b. 1926)
- ہم سے ہی پھولوں کی پھبن ہےہم سے ہی شاداب چمن ہےSaadat Nazeer (b. 1926)
- اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دوچلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دوZafar Hameedi (b. 1926)
- تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتاپیغام ترا تیری زبانی نہیں ملتاZafar Hameedi (b. 1926)
- جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میںزلف کی لہریں پیچاں جیسے ناگ ہو لپکا پانی میںZafar Hameedi (b. 1926)
- کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میںورنہ اک پر لطف سماں ہے خود اپنی گہرائی میںZafar Hameedi (b. 1926)
- میرے نازک سوال میں اتروایک حرف جمال میں اتروZafar Hameedi (b. 1926)
- میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوںپھر اک جدید خاکہ ترتیب دے رہا ہوںZafar Hameedi (b. 1926)
- بادلوں نے آج برسایا لہوامن کا ہر فاختہ رونے لگاZafar Hameedi (b. 1926)
- جب بھی وہ مجھ سے ملا رونے لگااور جب تنہا ہوا رونے لگاZafar Hameedi (b. 1926)
- اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلےدشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلےIbn-e-Insha (1927–1978)
- اس حسن کے نام پہ یاد آئے سب منظر فیضؔ کی نظموں کےوہی رنگ حنا وہی بند قبا وہی پھول کھلے پیراہن میںIbn-e-Insha (1927–1978)
- اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گاوہ شہر وہ کوچہ وہ مکاں یاد رہے گاIbn-e-Insha (1927–1978)
- انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیاوحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیاIbn-e-Insha (1927–1978)
- اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کاصبح کا ہونا دوبھر کر دیں رستہ روک ستاروں کاIbn-e-Insha (1927–1978)
- جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میںلیلیٰ تو اے قیس ملے گی دل کے دولت خانے میںIbn-e-Insha (1927–1978)
- جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیاکبھی شہر بتاں میں خراب پھرے کبھی دشت جنوں آباد کیاIbn-e-Insha (1927–1978)
- جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہےکب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچانشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل عشق میں بے پایاں سودا ہو تو ایسا ہودریا ہو تو ایسا ہو صحرا ہو تو ایسا ہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل کس کے تصور میں جانے راتوں کو پریشاں ہوتا ہےیہ حسن طلب کی بات نہیں ہوتا ہے مری جاں ہوتا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)