Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کبھی ایسا بھی ہووے ہے روتے روتےجگر تھام کر مسکرانا پڑے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  2. کل کہتے رہے ہیں وہی کل کہتے رہیں گےہر دور میں ہم ان پہ غزل کہتے رہیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
  3. کیا ستم ہے کہ وہ ظالم بھی ہے محبوب بھی ہےیاد کرتے نہ بنے اور بھلائے نہ بنےKaleem Aajiz (1926–2015)
  4. گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گےہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
  5. مرنا تو بہت سہل سی اک بات لگے ہےجینا ہی محبت میں کرامات لگے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  6. موسم گل ہمیں جب یاد آیاجتنا غم بھولے تھے سب یاد آیاKaleem Aajiz (1926–2015)
  7. میری غزل کو میری جاں فقط غزل نہ سمجھاک آئنہ ہے جو ہر دم ترے مقابل ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  8. میں محبت نہ چھپاؤں تو عداوت نہ چھپانہ یہی راز میں اب ہے نہ وہی راز میں ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  9. مے کدے کی طرف چلا زاہدصبح کا بھولا شام گھر آیاKaleem Aajiz (1926–2015)
  10. وہ کہتے ہیں ہر چوٹ پر مسکراؤوفا یاد رکھو ستم بھول جاؤKaleem Aajiz (1926–2015)
  11. ہمارے قتل سے قاتل کو تجربہ یہ ہوالہو لہو بھی ہے مہندی بھی ہے شراب بھی ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  12. یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گاجو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گاKaleem Aajiz (1926–2015)
  13. آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہمہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہمSaadat Nazeer (b. 1926)
  14. آشیاں اجڑا مرا تو کیا ہواغم تو اس کا ہے چمن صحرا ہواSaadat Nazeer (b. 1926)
  15. آئیں گے وہ کبھی مگر زیست کا اعتبار کیالائے گا رنگ دیکھیے عالم انتظار کیاSaadat Nazeer (b. 1926)
  16. ابھی گلوں میں کوئی جوشش نمو تو نہیںابھی بہار پہ دنیائے رنگ و بو تو نہیںSaadat Nazeer (b. 1926)
  17. بلبل کہیں ہے پھول کہیں باغباں کہیںاللہ پھر دکھائے نہ ایسا سماں کہیںSaadat Nazeer (b. 1926)
  18. بہار تھی نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھاعجیب رنگ میں گزرا ہوا زمانہ تھاSaadat Nazeer (b. 1926)
  19. خدا معلوم جب غنچے ہنسے شبنم پہ کیا گزریتبسم کی فضا میں دیدۂ پر نم پہ کیا گزریSaadat Nazeer (b. 1926)
  20. خود بہ خود دیدہ و دل میں جو سمایا جائےہائے اس شخص کو کس طرح بھلایا جائےSaadat Nazeer (b. 1926)
  21. رہے دل کی دل میں زباں تک نہ پہنچےمرا غم حدود بیاں تک نہ پہنچےSaadat Nazeer (b. 1926)
  22. غم خوشی حسرت ہوس امید و یاسزندگی ہنگامۂ جذبات ہےSaadat Nazeer (b. 1926)
  23. کون مرتا ہے زندگی کے لیےجی رہا ہوں تری خوشی کے لیےSaadat Nazeer (b. 1926)
  24. کہا کس نے کہ مرنا قید سے غم کی نکلنا ہےاجل تو اک حیات عشق کا پہلو بدلنا ہےSaadat Nazeer (b. 1926)
  25. میرے دل وحشی کی بس اتنی حقیقت ہےاک درد کا عالم ہے دنیائے محبت ہےSaadat Nazeer (b. 1926)
  26. نہ ہو اعجاز کیوں حسن بیاں میںتمہیں تم ہو ہماری داستاں میںSaadat Nazeer (b. 1926)
  27. وہ زندگی جو شب انتظار گزری تھیترے کرم سے بہت خوش گوار گزری تھیSaadat Nazeer (b. 1926)
  28. اٹھو قدم قدم سے ملاتے چلے چلوسب مل کے ایک راہ بناتے چلے چلوSaadat Nazeer (b. 1926)
  29. ٹوٹیں ظلم کی قیدیں ٹوٹیںپھوٹیں امن کی کرنیں پھوٹیںSaadat Nazeer (b. 1926)
  30. لہرا ترنگے لہرا ہوا میںبھر دے رنگ و نور فضا میںSaadat Nazeer (b. 1926)
  31. ہم سے ہی پھولوں کی پھبن ہےہم سے ہی شاداب چمن ہےSaadat Nazeer (b. 1926)
  32. اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دوچلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دوZafar Hameedi (b. 1926)
  33. تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتاپیغام ترا تیری زبانی نہیں ملتاZafar Hameedi (b. 1926)
  34. جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میںزلف کی لہریں پیچاں جیسے ناگ ہو لپکا پانی میںZafar Hameedi (b. 1926)
  35. کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میںورنہ اک پر لطف سماں ہے خود اپنی گہرائی میںZafar Hameedi (b. 1926)
  36. میرے نازک سوال میں اتروایک حرف جمال میں اتروZafar Hameedi (b. 1926)
  37. میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوںپھر اک جدید خاکہ ترتیب دے رہا ہوںZafar Hameedi (b. 1926)
  38. بادلوں نے آج برسایا لہوامن کا ہر فاختہ رونے لگاZafar Hameedi (b. 1926)
  39. جب بھی وہ مجھ سے ملا رونے لگااور جب تنہا ہوا رونے لگاZafar Hameedi (b. 1926)
  40. اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلےدشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلےIbn-e-Insha (1927–1978)
  41. اس حسن کے نام پہ یاد آئے سب منظر فیضؔ کی نظموں کےوہی رنگ حنا وہی بند قبا وہی پھول کھلے پیراہن میںIbn-e-Insha (1927–1978)
  42. اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گاوہ شہر وہ کوچہ وہ مکاں یاد رہے گاIbn-e-Insha (1927–1978)
  43. انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیاوحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیاIbn-e-Insha (1927–1978)
  44. اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کاصبح کا ہونا دوبھر کر دیں رستہ روک ستاروں کاIbn-e-Insha (1927–1978)
  45. جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میںلیلیٰ تو اے قیس ملے گی دل کے دولت خانے میںIbn-e-Insha (1927–1978)
  46. جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیاکبھی شہر بتاں میں خراب پھرے کبھی دشت جنوں آباد کیاIbn-e-Insha (1927–1978)
  47. جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہےکب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
  48. دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچانشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچIbn-e-Insha (1927–1978)
  49. دل عشق میں بے پایاں سودا ہو تو ایسا ہودریا ہو تو ایسا ہو صحرا ہو تو ایسا ہوIbn-e-Insha (1927–1978)
  50. دل کس کے تصور میں جانے راتوں کو پریشاں ہوتا ہےیہ حسن طلب کی بات نہیں ہوتا ہے مری جاں ہوتا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)