کہا کس نے کہ مرنا قید سے غم کی نکلنا ہے
Saadat Nazeer (b. 1926)کہا کس نے کہ مرنا قید سے غم کی نکلنا ہے
اجل تو اک حیات عشق کا پہلو بدلنا ہے
فقط صیاد ہی کا ڈر نہیں اہل نشیمن کو
ابھی برق بلا کی زد سے بھی بچ کر نکلنا ہے
لب ساحل پہنچنے کی خوشی کیسی ابھی اے دل
تلاطم خیز طوفانوں سے ٹکرا کر نکلنا ہے
ابھی ان ابتدائی مشکلوں پر رنج و غم کیسا
ہمیں تو ورطۂ بحر حوادث ہی میں پلنا ہے
بلا سے حق بیانی پر سزا ملتی ہے بھگتیں گے
ہمیں بھی سرمد و منصور ہی کی راہ چلنا ہے
بھلا تم مصلحت اس ضبط سوز غم کی کیا جانو
جو پھونکیں ظلم کے خرمن کو وہ شعلے اگلنا ہے
یہ رسم مے کدہ ہے گاہ مستی گاہ ہشیاری
سنبھل کر گر چکے اب گر کے پھر ہم کو سنبھلنا ہے
وہ ہوں گے اور جو پھولوں کی سیجوں پر ہیں خوابیدہ
ہمیں اے دورئ منزل ابھی کانٹوں پہ چلنا ہے