نہ ہو اعجاز کیوں حسن بیاں میں

Saadat Nazeer (b. 1926)

نہ ہو اعجاز کیوں حسن بیاں میں

تمہیں تم ہو ہماری داستاں میں

چمن میں دشت میں کوئے بتاں میں

مری وحشت ہوئی رسوا جہاں میں

سبب میری تڑپ کا کچھ نہ پوچھو

کہ اک نشتر ہے یاد رفتگاں میں

یہ جینا بھی کوئی جینا ہے اپنا

قفس میں ہم ہیں دل ہے آشیاں میں

کہیں بجلی کہیں ہے آتش گل

چراغاں کا سماں ہے گلستاں میں

جو تم چاہو تبسم سے بدل دو

ابھی ہے اتنی گنجائش فغاں میں

حیات عشق کا حاصل ہے گویا

جو حرف غم ہے میری داستاں میں

ترے نغموں کا جادو اللہ اللہ

کہ گل کھلنے لگے فصل خزاں میں

سکون ان کا ہے میرے ضبط غم سے

بڑی تاثیر ہے ورنہ فغاں میں

تعجب ہے کہ اک دو رہ نما بھی

نہیں اس کارواں در کارواں میں

زمیں کے ہو گئے پیوند لاکھوں

ہوائے ماورائے آسماں میں

اجیرن ہو گئی عمر دو روزہ

تمنائے حیات جاوداں میں

سناؤ آپ بیتی اے سعادتؔ

دھرا کیا ہے حدیث دیگراں میں