Poetry
- ابھی نہیں ابھی زنجیر خواب برہم ہےابھی نہیں ابھی دامن کے چاک کا غم ہےShahryar (1936–2012)
- اداس شہر کی گلیوں میں رقص کرتے ہیںبلائیں لیتے ہیں آوارہ گرد خوابوں کیShahryar (1936–2012)
- اندھیری رات کی اس رہ گزر پرہمارے ساتھ کوئی اور بھی تھاShahryar (1936–2012)
- اے اہل شہر آؤ چلو اس طرف چلوکہانیوں کی دھند سے آگے ذرا ادھرShahryar (1936–2012)
- برف بے موسم گریچٹان سے میدان تکShahryar (1936–2012)
- بوتل کے اندر کا جننکلے تو اس سے پوچھیںShahryar (1936–2012)
- جو کچے رستوں سے پکی سڑکوں کا رخ کیا تھاکھڑاؤں اپنی اتار دیتےShahryar (1936–2012)
- دروازۂ جاں سے ہو کرچپکے سے ادھر آ جاؤShahryar (1936–2012)
- دن کے صحرا سے جب بنی جاں پرایک مبہم سا آسرا پا کرShahryar (1936–2012)
- دھول میں لپٹے چہرے والامیرا سایہShahryar (1936–2012)
- رات کا بیتنا دن کا آناکون سی ایسی نئی بات ہےShahryar (1936–2012)
- رات کی کھلی کھڑکیبند ہونے والی ہےShahryar (1936–2012)
- ریت کو نچوڑ کر پانی کو نکالنابہت عجیب کام ہےShahryar (1936–2012)
- ریت مٹھی میں کبھی ٹھہری ہےپیاس سے اس کو علاقہ کیا ہےShahryar (1936–2012)
- زرد بلبوں کے بازوؤں میں اسیرسخت بے جان لمبی کالی سڑکShahryar (1936–2012)
- سوتے سوتے چونک اٹھی جب پلکوں کی جھنکارآبادی پر ویرانے کا ہونے لگا گمانShahryar (1936–2012)
- کٹتی نہیں سرد راتڈھلتی نہیں زرد راتShahryar (1936–2012)
- کٹ گیا دن ڈھلی شام شب آ گئیپھر زمیں اپنے محور سے ہٹنے لگیShahryar (1936–2012)
- کھردرے جسم کے نشیب و فرازجاننے کی ہوس میں جس کی زباںShahryar (1936–2012)
- کیا تم کو یہ پتہ ہےاے ناسمجھ رفیقوShahryar (1936–2012)
- کیوں ملال ہے اتناہار جیت میں تم کوShahryar (1936–2012)
- لو تیسواں سال بھی بیت گیالو بال روپہلی ہونے لگےShahryar (1936–2012)
- مائل بہ کرم ہیں راتیںآنکھوں سے کہو اب مانگیںShahryar (1936–2012)
- مہیب لمبے گھنے پیڑوں کی ہری شاخیںکبھی کبھی کوئی اشلوک گنگناتی تھیںShahryar (1936–2012)
- میرے لیے رات نےآج فراہم کیاShahryar (1936–2012)
- میں کورے کاغذ پر لکھوں پھر ایک کالی نظمالکھ جگاتے سناٹوں سے پھر سے سجاؤں بزمShahryar (1936–2012)
- نغمگی آرزو کی بکھری ہےرات شرما رہی ہے اپنے سےShahryar (1936–2012)
- وہ اندھیری رات کی چاپ تھیجو گزر گئیShahryar (1936–2012)
- وہ جو آسماں پہ ستارہ ہےاسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لوShahryar (1936–2012)
- وہ دور بلند پہاڑوں پرملبوس فرشتوں کا پہنےShahryar (1936–2012)
- یہاں کیا ہے برہنہ تیرگی ہےخلا ہے آہٹیں ہیں تشنگی ہےShahryar (1936–2012)
- یہ بات روز ازل سے طے ہےزمین جسموں کا بوجھ اٹھائے گیShahryar (1936–2012)
- ایک آہٹ ابھی دروازے پہ لہرائی تھیایک سرگوشی ابھی کانوں سے ٹکرائی تھیShahryar (1936–2012)
- بارشیں پھر زمینوں سے ناراض ہیںاور سمندر سبھی خشک ہیںShahryar (1936–2012)
- بہار اور خزاں موت اور زندگی کے منظم مناظر سے آگے بھیکچھ ایسے منظر ہیںShahryar (1936–2012)
- پھر تری تتلی نما صورت مجھے یاد آ گئیمجھ کو وہ لمحہ ابھی بھولا نہیںShahryar (1936–2012)
- زندگی یہ ترا احسان بہت ہے مجھ پراعظمیؔ زیست ہے ہر موڑ پہ جو ساتھ مرےShahryar (1936–2012)
- نکیلے ناخنوں سے اپنی قبریں کھودتے جاؤتھکن سے چور چہروں پرShahryar (1936–2012)
- نیند کی سوئی ہوئی خاموش گلیوں کو جگاتےگنگناتےShahryar (1936–2012)
- ہوا کا تعاقب کبھی چاند کی چاندنی کو پکڑنے کی خواہشکبھی صبح کے ہونٹ چھونے کی حسرتShahryar (1936–2012)
- ہوا کے پاؤں اس زینے تلک آئے تھے لگتا ہےدیئے کی لو پہ یہ بوسہ اسی کا ہےShahryar (1936–2012)
- بدی بھری یہ بوریاںنہ جانے کون موڑ تکShahryar (1936–2012)
- دواؤں کی المایوں سے سجی اک دکاں میںمریضوں کے انبوہ میں مضمحل ساShahryar (1936–2012)
- رات کا یہ سمندر تمہارے لیےتم سمندر کی خاطر بنے ہوShahryar (1936–2012)
- شمع کی لو نے جب آخری سانس لیآخر شبShahryar (1936–2012)
- کیا سوچتی ہودیوار فراموشی سے ادھر کیا دیکھتی ہوShahryar (1936–2012)
- مگر بے ذائقہ ہونٹوں سےتم نے سخت چٹانوں کو چوما تھاShahryar (1936–2012)
- میں اپنے گھاؤ گن رہا ہوںدور تتلیوں کے ریشمی پروں کے نیلے پیلے رنگShahryar (1936–2012)
- وہ کون تھا وہ کون تھاطلسم شہر آرزو جو توڑ کر چلا گیاShahryar (1936–2012)
- ہنسو کہ سرخ و گرم خون پھر سفید ہو گیاہنسو کہ نقطۂ امید پھر خلا کے دائرے میں آج قید ہو گیاShahryar (1936–2012)