Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ابھی نہیں ابھی زنجیر خواب برہم ہےابھی نہیں ابھی دامن کے چاک کا غم ہےShahryar (1936–2012)
  2. اداس شہر کی گلیوں میں رقص کرتے ہیںبلائیں لیتے ہیں آوارہ گرد خوابوں کیShahryar (1936–2012)
  3. اندھیری رات کی اس رہ گزر پرہمارے ساتھ کوئی اور بھی تھاShahryar (1936–2012)
  4. اے اہل شہر آؤ چلو اس طرف چلوکہانیوں کی دھند سے آگے ذرا ادھرShahryar (1936–2012)
  5. برف بے موسم گریچٹان سے میدان تکShahryar (1936–2012)
  6. بوتل کے اندر کا جننکلے تو اس سے پوچھیںShahryar (1936–2012)
  7. جو کچے رستوں سے پکی سڑکوں کا رخ کیا تھاکھڑاؤں اپنی اتار دیتےShahryar (1936–2012)
  8. دروازۂ جاں سے ہو کرچپکے سے ادھر آ جاؤShahryar (1936–2012)
  9. دن کے صحرا سے جب بنی جاں پرایک مبہم سا آسرا پا کرShahryar (1936–2012)
  10. دھول میں لپٹے چہرے والامیرا سایہShahryar (1936–2012)
  11. رات کا بیتنا دن کا آناکون سی ایسی نئی بات ہےShahryar (1936–2012)
  12. رات کی کھلی کھڑکیبند ہونے والی ہےShahryar (1936–2012)
  13. ریت کو نچوڑ کر پانی کو نکالنابہت عجیب کام ہےShahryar (1936–2012)
  14. ریت مٹھی میں کبھی ٹھہری ہےپیاس سے اس کو علاقہ کیا ہےShahryar (1936–2012)
  15. زرد بلبوں کے بازوؤں میں اسیرسخت بے جان لمبی کالی سڑکShahryar (1936–2012)
  16. سوتے سوتے چونک اٹھی جب پلکوں کی جھنکارآبادی پر ویرانے کا ہونے لگا گمانShahryar (1936–2012)
  17. کٹتی نہیں سرد راتڈھلتی نہیں زرد راتShahryar (1936–2012)
  18. کٹ گیا دن ڈھلی شام شب آ گئیپھر زمیں اپنے محور سے ہٹنے لگیShahryar (1936–2012)
  19. کھردرے جسم کے نشیب و فرازجاننے کی ہوس میں جس کی زباںShahryar (1936–2012)
  20. کیا تم کو یہ پتہ ہےاے ناسمجھ رفیقوShahryar (1936–2012)
  21. کیوں ملال ہے اتناہار جیت میں تم کوShahryar (1936–2012)
  22. لو تیسواں سال بھی بیت گیالو بال روپہلی ہونے لگےShahryar (1936–2012)
  23. مائل بہ کرم ہیں راتیںآنکھوں سے کہو اب مانگیںShahryar (1936–2012)
  24. مہیب لمبے گھنے پیڑوں کی ہری شاخیںکبھی کبھی کوئی اشلوک گنگناتی تھیںShahryar (1936–2012)
  25. میرے لیے رات نےآج فراہم کیاShahryar (1936–2012)
  26. میں کورے کاغذ پر لکھوں پھر ایک کالی نظمالکھ جگاتے سناٹوں سے پھر سے سجاؤں بزمShahryar (1936–2012)
  27. نغمگی آرزو کی بکھری ہےرات شرما رہی ہے اپنے سےShahryar (1936–2012)
  28. وہ اندھیری رات کی چاپ تھیجو گزر گئیShahryar (1936–2012)
  29. وہ جو آسماں پہ ستارہ ہےاسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لوShahryar (1936–2012)
  30. وہ دور بلند پہاڑوں پرملبوس فرشتوں کا پہنےShahryar (1936–2012)
  31. یہاں کیا ہے برہنہ تیرگی ہےخلا ہے آہٹیں ہیں تشنگی ہےShahryar (1936–2012)
  32. یہ بات روز ازل سے طے ہےزمین جسموں کا بوجھ اٹھائے گیShahryar (1936–2012)
  33. ایک آہٹ ابھی دروازے پہ لہرائی تھیایک سرگوشی ابھی کانوں سے ٹکرائی تھیShahryar (1936–2012)
  34. بارشیں پھر زمینوں سے ناراض ہیںاور سمندر سبھی خشک ہیںShahryar (1936–2012)
  35. بہار اور خزاں موت اور زندگی کے منظم مناظر سے آگے بھیکچھ ایسے منظر ہیںShahryar (1936–2012)
  36. پھر تری تتلی نما صورت مجھے یاد آ گئیمجھ کو وہ لمحہ ابھی بھولا نہیںShahryar (1936–2012)
  37. زندگی یہ ترا احسان بہت ہے مجھ پراعظمیؔ زیست ہے ہر موڑ پہ جو ساتھ مرےShahryar (1936–2012)
  38. نکیلے ناخنوں سے اپنی قبریں کھودتے جاؤتھکن سے چور چہروں پرShahryar (1936–2012)
  39. نیند کی سوئی ہوئی خاموش گلیوں کو جگاتےگنگناتےShahryar (1936–2012)
  40. ہوا کا تعاقب کبھی چاند کی چاندنی کو پکڑنے کی خواہشکبھی صبح کے ہونٹ چھونے کی حسرتShahryar (1936–2012)
  41. ہوا کے پاؤں اس زینے تلک آئے تھے لگتا ہےدیئے کی لو پہ یہ بوسہ اسی کا ہےShahryar (1936–2012)
  42. بدی بھری یہ بوریاںنہ جانے کون موڑ تکShahryar (1936–2012)
  43. دواؤں کی المایوں سے سجی اک دکاں میںمریضوں کے انبوہ میں مضمحل ساShahryar (1936–2012)
  44. رات کا یہ سمندر تمہارے لیےتم سمندر کی خاطر بنے ہوShahryar (1936–2012)
  45. شمع کی لو نے جب آخری سانس لیآخر شبShahryar (1936–2012)
  46. کیا سوچتی ہودیوار فراموشی سے ادھر کیا دیکھتی ہوShahryar (1936–2012)
  47. مگر بے ذائقہ ہونٹوں سےتم نے سخت چٹانوں کو چوما تھاShahryar (1936–2012)
  48. میں اپنے گھاؤ گن رہا ہوںدور تتلیوں کے ریشمی پروں کے نیلے پیلے رنگShahryar (1936–2012)
  49. وہ کون تھا وہ کون تھاطلسم شہر آرزو جو توڑ کر چلا گیاShahryar (1936–2012)
  50. ہنسو کہ سرخ و گرم خون پھر سفید ہو گیاہنسو کہ نقطۂ امید پھر خلا کے دائرے میں آج قید ہو گیاShahryar (1936–2012)