Poetry
- دیکھنے سے ترے جی پاتا ہوںآنکھ کے پھیرتے مر جاتا ہوںShah Hatim (1699–1783)
- رکھتا ہوں میں حق پر نظر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہوہشیار ہوں یا بے خبر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہوShah Hatim (1699–1783)
- رونا وہی جو خوف الٰہی سے روئیےسونا وہی جو اس کے تصور میں سوئیےShah Hatim (1699–1783)
- زور یارو آج ہم نے فتح کی جنگ فلکیک طمانچے میں کبودی کر دیا رنگ فلکShah Hatim (1699–1783)
- ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شرابمرتا ہوں تشنگی سے اے ظالم پلا شرابShah Hatim (1699–1783)
- سب مخالف جب کنارے ہو گئےہم میں اور اس میں اشارے ہو گئےShah Hatim (1699–1783)
- سچ اگر پوچھو تو نا پیدا ہے یک رو آشناسارے عالم میں جو ہوں شاید تو یک دو آشناShah Hatim (1699–1783)
- شہر میں پھرتا ہے وہ مے خوار مستکیوں نہ ہو ہر کوچہ و بازار مستShah Hatim (1699–1783)
- شیخ تو تو مرید ہستی ہےمئے غفلت کی تجھ کو مستی ہےShah Hatim (1699–1783)
- صنم کے دیکھ کر لب اور دہن سرخہوا ہے خون بلبل سے چمن سرخShah Hatim (1699–1783)
- طرفہ معجون ہے ہمارا یارغیر سے ہم کنار ہم سے کنارShah Hatim (1699–1783)
- طریقت میں اگر زاہد مجھے گمراہ جانے ہےمرے دل کی حقیقت کو مرا اللہ جانے ہےShah Hatim (1699–1783)
- عاشق کا جہاں میں گھر نہ دیکھاایسا کوئی در بدر نہ دیکھاShah Hatim (1699–1783)
- عاشقوں کے سیر کرنے کا جہاں ہی اور ہےان کے عالم کا زمین و آسماں ہی اور ہےShah Hatim (1699–1783)
- عجب احوال دیکھا اس زمانے کے امیروں کانہ ان کو ڈر خدا کا اور نہ ان کو خوف پیروں کاShah Hatim (1699–1783)
- عشق کے شہر کی کچھ آب و ہوا اور ہی ہےاس کے صحرا کو جو دیکھا تو فضا اور ہی ہےShah Hatim (1699–1783)
- عشق میں پاس جاں نہیں ہے درستاس سخن میں گماں نہیں ہے درستShah Hatim (1699–1783)
- عشق نہیں کوئی نہنگ ہے یارودشمن نام و ننگ ہے یاروShah Hatim (1699–1783)
- عشق نے چٹکی سی لی پھر آ کے میری جاں کے بیچآگ سی کچھ لگ گئی ہے سینۂ بریاں کے بیچShah Hatim (1699–1783)
- فکر میں مفت عمر کھونا ہےہو چکا ہے جو کچھ کہ ہونا ہےShah Hatim (1699–1783)
- کروں ہوں رات دن پھیرے کئی پھیرے میاں صاحبکبھی تو بھی نہ پایا تم کو ہم ڈیرے میاں صاحبShah Hatim (1699–1783)
- کس ستم گر کا گناہ گار ہوں اللہ اللہکس کے تیروں سے دل افگار ہوں اللہ اللہShah Hatim (1699–1783)
- کشش سے دل کی اس ابرو کماں کو ہم رکھا بہلاجو کر قبضے میں دل سب کا پھرے تھا سب سے وہ گہلاShah Hatim (1699–1783)
- کلیجا منہ کو آیا اور نفس کرنے لگا تنگیہوا کیا جان کو میری ابھی تو تھی بھلی چنگیShah Hatim (1699–1783)
- کن کے کہنے میں جو ہوا سو ہوارانڈ رونا نہ رو ہوا سو ہواShah Hatim (1699–1783)
- کون دل ہے کہ ترے درد میں بیمار نہیںکون جی ہے کہ ترے غم میں گرفتار نہیںShah Hatim (1699–1783)
- کوئی دیتا نہیں ہے داد بے دادکوئی سنتا نہیں فریاد فریادShah Hatim (1699–1783)
- کہیں وہ صورت خوباں ہوا ہےکہیں وہ عاشق حیراں ہوا ہےShah Hatim (1699–1783)
- کیا اس کی صفت میں گفتگو ہےجیسا تھا وہی ہے جو تھا سو ہےShah Hatim (1699–1783)
- کیا ستاتے ہو رہو بندہ نوازکہ نہیں خوب یہ خو بندہ نوازShah Hatim (1699–1783)
- کیا ہوا گر شیخ یارو حاجی الحرمین ہےطوف دل کا حق میں اس کے دین فرض عین ہےShah Hatim (1699–1783)
- کیونکہ دیوانہ بیڑیاں توڑےاس کو جانے ہے پاؤں کے توڑےShah Hatim (1699–1783)
- گر بھلا مانس ہے تو خندوں سے تو مل مل نہ ہنسمسکرا جوں غنچہ پر گل کی طرح کھل کھل نہ ہنسShah Hatim (1699–1783)
- گزک کی اس قدر اے مست تجھ کو کیا شتابی ہےہمارا بھی دل صد لخت دوکان کبابی ہےShah Hatim (1699–1783)
- گل کی اور بلبل کی صحبت کو چمن کا شانہ ہےسرو ہے جوں شمع تس پر فاختہ پروانہ ہےShah Hatim (1699–1783)
- مجھے کیا دیکھ کر تو تک رہا ہےترے ہاتھوں کلیجہ پک رہا ہےShah Hatim (1699–1783)
- ملا دئے خاک میں خدا نے پلک کے لگتے ہی شاہ لاکھوںجنہوں کے ادنیٰ غلام رکھتے تھے اپنے چاکر سپاہ لاکھوںShah Hatim (1699–1783)
- میں اپنے دست پر شب خواب میں دیکھا کہ اخگر تھاسحر کو کھل گئی جب آنکھ میرا ہاتھ دل پر تھاShah Hatim (1699–1783)
- میں ذات کا اس کی آشنا ہوںاور اس کی صفات پر فدا ہوںShah Hatim (1699–1783)
- مے ہو ابر و ہوا نہیں تو نہ ہودرد ہو گر دوا نہیں تو نہ ہوShah Hatim (1699–1783)
- نظر سے جب اکستا ہے مرا دلتو جا کاکل میں بستا ہے مرا دلShah Hatim (1699–1783)
- نہ اتنا چاہئے اے پر شکم خوابکہ تیرے حق میں ہے ظالم ستم خوابShah Hatim (1699–1783)
- نہ بلبل میں نہ پروانے میں دیکھاجو سودا اپنے دیوانے میں دیکھاShah Hatim (1699–1783)
- نہ تن میں استخوان نے رگ رہی ہےلبوں پر کیونکہ جان اب لگ رہی ہےShah Hatim (1699–1783)
- نہ کچھ ستم سے ترے آہ آہ کرتا ہوںمیں اپنے دل کی مدد گاہ گاہ کرتا ہوںShah Hatim (1699–1783)
- نہ محتسب سے یہ مجھ کو غرض نہ مست سے کاممجھے تو لینا ہے ساقی کے آج دست سے کامShah Hatim (1699–1783)
- نے شکوہ مند دل سے نہ از دست دیدہ ہوںاس بخت نارسا سے اذیت کشیدہ ہوںShah Hatim (1699–1783)
- وحشت سے ہر سخن مرا گویا غزالہ ہےبو سے نشہ ہو یہ وہ مے دیر سالہ ہےShah Hatim (1699–1783)
- ہر گل اس باغ کا نظروں میں دہاں ہے گویاصورت غنچہ جو دیکھوں تو زباں ہے گویاShah Hatim (1699–1783)
- ہستی کی قید سے اے دل آزاد ہوئیےصحرا میں جا کے خوب سا ہنس ہنس کے روئیےShah Hatim (1699–1783)