Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. دیکھنے سے ترے جی پاتا ہوںآنکھ کے پھیرتے مر جاتا ہوںShah Hatim (1699–1783)
  2. رکھتا ہوں میں حق پر نظر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہوہشیار ہوں یا بے خبر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہوShah Hatim (1699–1783)
  3. رونا وہی جو خوف الٰہی سے روئیےسونا وہی جو اس کے تصور میں سوئیےShah Hatim (1699–1783)
  4. زور یارو آج ہم نے فتح کی جنگ فلکیک طمانچے میں کبودی کر دیا رنگ فلکShah Hatim (1699–1783)
  5. ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شرابمرتا ہوں تشنگی سے اے ظالم پلا شرابShah Hatim (1699–1783)
  6. سب مخالف جب کنارے ہو گئےہم میں اور اس میں اشارے ہو گئےShah Hatim (1699–1783)
  7. سچ اگر پوچھو تو نا پیدا ہے یک رو آشناسارے عالم میں جو ہوں شاید تو یک دو آشناShah Hatim (1699–1783)
  8. شہر میں پھرتا ہے وہ مے خوار مستکیوں نہ ہو ہر کوچہ و بازار مستShah Hatim (1699–1783)
  9. شیخ تو تو مرید ہستی ہےمئے غفلت کی تجھ کو مستی ہےShah Hatim (1699–1783)
  10. صنم کے دیکھ کر لب اور دہن سرخہوا ہے خون بلبل سے چمن سرخShah Hatim (1699–1783)
  11. طرفہ معجون ہے ہمارا یارغیر سے ہم کنار ہم سے کنارShah Hatim (1699–1783)
  12. طریقت میں اگر زاہد مجھے گمراہ جانے ہےمرے دل کی حقیقت کو مرا اللہ جانے ہےShah Hatim (1699–1783)
  13. عاشق کا جہاں میں گھر نہ دیکھاایسا کوئی در بدر نہ دیکھاShah Hatim (1699–1783)
  14. عاشقوں کے سیر کرنے کا جہاں ہی اور ہےان کے عالم کا زمین و آسماں ہی اور ہےShah Hatim (1699–1783)
  15. عجب احوال دیکھا اس زمانے کے امیروں کانہ ان کو ڈر خدا کا اور نہ ان کو خوف پیروں کاShah Hatim (1699–1783)
  16. عشق کے شہر کی کچھ آب و ہوا اور ہی ہےاس کے صحرا کو جو دیکھا تو فضا اور ہی ہےShah Hatim (1699–1783)
  17. عشق میں پاس جاں نہیں ہے درستاس سخن میں گماں نہیں ہے درستShah Hatim (1699–1783)
  18. عشق نہیں کوئی نہنگ ہے یارودشمن نام و ننگ ہے یاروShah Hatim (1699–1783)
  19. عشق نے چٹکی سی لی پھر آ کے میری جاں کے بیچآگ سی کچھ لگ گئی ہے سینۂ بریاں کے بیچShah Hatim (1699–1783)
  20. فکر میں مفت عمر کھونا ہےہو چکا ہے جو کچھ کہ ہونا ہےShah Hatim (1699–1783)
  21. کروں ہوں رات دن پھیرے کئی پھیرے میاں صاحبکبھی تو بھی نہ پایا تم کو ہم ڈیرے میاں صاحبShah Hatim (1699–1783)
  22. کس ستم گر کا گناہ گار ہوں اللہ اللہکس کے تیروں سے دل افگار ہوں اللہ اللہShah Hatim (1699–1783)
  23. کشش سے دل کی اس ابرو کماں کو ہم رکھا بہلاجو کر قبضے میں دل سب کا پھرے تھا سب سے وہ گہلاShah Hatim (1699–1783)
  24. کلیجا منہ کو آیا اور نفس کرنے لگا تنگیہوا کیا جان کو میری ابھی تو تھی بھلی چنگیShah Hatim (1699–1783)
  25. کن کے کہنے میں جو ہوا سو ہوارانڈ رونا نہ رو ہوا سو ہواShah Hatim (1699–1783)
  26. کون دل ہے کہ ترے درد میں بیمار نہیںکون جی ہے کہ ترے غم میں گرفتار نہیںShah Hatim (1699–1783)
  27. کوئی دیتا نہیں ہے داد بے دادکوئی سنتا نہیں فریاد فریادShah Hatim (1699–1783)
  28. کہیں وہ صورت خوباں ہوا ہےکہیں وہ عاشق حیراں ہوا ہےShah Hatim (1699–1783)
  29. کیا اس کی صفت میں گفتگو ہےجیسا تھا وہی ہے جو تھا سو ہےShah Hatim (1699–1783)
  30. کیا ستاتے ہو رہو بندہ نوازکہ نہیں خوب یہ خو بندہ نوازShah Hatim (1699–1783)
  31. کیا ہوا گر شیخ یارو حاجی الحرمین ہےطوف دل کا حق میں اس کے دین فرض عین ہےShah Hatim (1699–1783)
  32. کیونکہ دیوانہ بیڑیاں توڑےاس کو جانے ہے پاؤں کے توڑےShah Hatim (1699–1783)
  33. گر بھلا مانس ہے تو خندوں سے تو مل مل نہ ہنسمسکرا جوں غنچہ پر گل کی طرح کھل کھل نہ ہنسShah Hatim (1699–1783)
  34. گزک کی اس قدر اے مست تجھ کو کیا شتابی ہےہمارا بھی دل صد لخت دوکان کبابی ہےShah Hatim (1699–1783)
  35. گل کی اور بلبل کی صحبت کو چمن کا شانہ ہےسرو ہے جوں شمع تس پر فاختہ پروانہ ہےShah Hatim (1699–1783)
  36. مجھے کیا دیکھ کر تو تک رہا ہےترے ہاتھوں کلیجہ پک رہا ہےShah Hatim (1699–1783)
  37. ملا دئے خاک میں خدا نے پلک کے لگتے ہی شاہ لاکھوںجنہوں کے ادنیٰ غلام رکھتے تھے اپنے چاکر سپاہ لاکھوںShah Hatim (1699–1783)
  38. میں اپنے دست پر شب خواب میں دیکھا کہ اخگر تھاسحر کو کھل گئی جب آنکھ میرا ہاتھ دل پر تھاShah Hatim (1699–1783)
  39. میں ذات کا اس کی آشنا ہوںاور اس کی صفات پر فدا ہوںShah Hatim (1699–1783)
  40. مے ہو ابر و ہوا نہیں تو نہ ہودرد ہو گر دوا نہیں تو نہ ہوShah Hatim (1699–1783)
  41. نظر سے جب اکستا ہے مرا دلتو جا کاکل میں بستا ہے مرا دلShah Hatim (1699–1783)
  42. نہ اتنا چاہئے اے پر شکم خوابکہ تیرے حق میں ہے ظالم ستم خوابShah Hatim (1699–1783)
  43. نہ بلبل میں نہ پروانے میں دیکھاجو سودا اپنے دیوانے میں دیکھاShah Hatim (1699–1783)
  44. نہ تن میں استخوان نے رگ رہی ہےلبوں پر کیونکہ جان اب لگ رہی ہےShah Hatim (1699–1783)
  45. نہ کچھ ستم سے ترے آہ آہ کرتا ہوںمیں اپنے دل کی مدد گاہ گاہ کرتا ہوںShah Hatim (1699–1783)
  46. نہ محتسب سے یہ مجھ کو غرض نہ مست سے کاممجھے تو لینا ہے ساقی کے آج دست سے کامShah Hatim (1699–1783)
  47. نے شکوہ مند دل سے نہ از دست دیدہ ہوںاس بخت نارسا سے اذیت کشیدہ ہوںShah Hatim (1699–1783)
  48. وحشت سے ہر سخن مرا گویا غزالہ ہےبو سے نشہ ہو یہ وہ مے دیر سالہ ہےShah Hatim (1699–1783)
  49. ہر گل اس باغ کا نظروں میں دہاں ہے گویاصورت غنچہ جو دیکھوں تو زباں ہے گویاShah Hatim (1699–1783)
  50. ہستی کی قید سے اے دل آزاد ہوئیےصحرا میں جا کے خوب سا ہنس ہنس کے روئیےShah Hatim (1699–1783)