Poetry
- کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتاآتا ہے پر اس طرح کہ گویا نہیں آتاHasrat Mohani (1875–1951)
- کیا وہ اب نادم ہیں اپنے جور کی روداد سےلائے ہیں میرٹھ جو آخر مجھ کو فیض آباد سےHasrat Mohani (1875–1951)
- کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروںدل کی تپش کو کیا کروں، سوزِ جگر کو کیا کروںHasrat Mohani (1875–1951)
- گھٹے گا تیرے کوچے میں وقار آہستہ آہستہبڑھے گا عاشقی کا اعتبار آہستہ آہستہHasrat Mohani (1875–1951)
- لطف کی ان سے التجا نہ کریںہم نے ایسا کبھی کیا نہ کریںHasrat Mohani (1875–1951)
- محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تکباقی ہے ترے عشق کی تاثیر ابھی تکHasrat Mohani (1875–1951)
- مداوائے دل دیوانہ کرتےیہ کرتے ہم تو کچھ اچھا نہ کرتےHasrat Mohani (1875–1951)
- مستی کے پھر آ گئے زمانےآباد ہوئے شراب خانےHasrat Mohani (1875–1951)
- مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی سازش ہےوہ بے پروا الٰہی مجھ پہ کیوں گرم نوازش ہےHasrat Mohani (1875–1951)
- نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہےہر سمت وہ رخ جلوہ نما میرے لیے ہےHasrat Mohani (1875–1951)
- نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینامحبت کا یہ بھی ہے کوئی قریناHasrat Mohani (1875–1951)
- نگاہ یار جسے آشنائے راز کرےوہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرےHasrat Mohani (1875–1951)
- نہ سمجھے دل فریب آرزو کونہ ہم چھوڑیں تمہاری جستجو کوHasrat Mohani (1875–1951)
- نہ سہی گر انہیں خیال نہیںکہ ہمارا بھی اب وہ حال نہیںHasrat Mohani (1875–1951)
- نہ صورت کہیں شادمانی کی دیکھیبہت سیر دنیائے فانی کی دیکھیHasrat Mohani (1875–1951)
- وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیںآرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیںHasrat Mohani (1875–1951)
- وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتےکہ دل رہ گیا مدعا کہتے کہتےHasrat Mohani (1875–1951)
- وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے نازاک سروِ ناز ہے جو بنا ہو برائے نازHasrat Mohani (1875–1951)
- ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھےمایوس کر سکا نہ ہجوم بلا مجھےHasrat Mohani (1875–1951)
- ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیںپی لیں جو کہیں اب بھی در خورد معافی ہیںHasrat Mohani (1875–1951)
- ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیاتو نے اے شوخ مگر کام ہمارا نہ کیاHasrat Mohani (1875–1951)
- ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتےوہ تم کچھ نہ کرتے مگر دیکھ لیتےHasrat Mohani (1875–1951)
- ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھیاک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھیHasrat Mohani (1875–1951)
- یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھاباوجود حسن تو آگاہ رعنائی نہ تھاHasrat Mohani (1875–1951)
- یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزےدل ابھی بھولا نہیں، آغازِ الفت کے مزےHasrat Mohani (1875–1951)
- یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوامجھ سا جاں باز دوسرا نہ ہواHasrat Mohani (1875–1951)
- بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگااب تو اظہارِ محبت برملا ہونے لگاHasrat Mohani (1875–1951)
- پھر یاد جو آئی ہے، مدینے کو بلانےکیا یاد کیا پھر مجھے شاہ دو سرا نےHasrat Mohani (1875–1951)
- رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہےحُبِ وطن، مستِ خواب، دیکھئیے ، کب تک رہےHasrat Mohani (1875–1951)
- سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریںسیرِ گلشن وہ کریں شوق سے ، تنہا نہ کریںHasrat Mohani (1875–1951)
- کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سےمرتا ہے تو مر جائے کوئی ان کی بلا سےHasrat Mohani (1875–1951)
- کرشنHasrat Mohani (1875–1951)
- آپ کو آتا رہا میرے ستانے کا خیالصلح سے اچھی رہی مجھ کو لڑائی آپ کیHasrat Mohani (1875–1951)
- آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسنآیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئےHasrat Mohani (1875–1951)
- اس نا خدا کے ظلم و ستم ہائے کیا کروںکشتی مری ڈبوئی ہے ساحل کے آس پاسHasrat Mohani (1875–1951)
- اقرار ہے کہ دل سے تمہیں چاہتے ہیں ہمکچھ اس گناہ کی بھی سزا ہے تمہارے پاسHasrat Mohani (1875–1951)
- ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کیدشمنی کا بھی حق ادا نہ ہواHasrat Mohani (1875–1951)
- بدگماں آپ ہیں کیوں آپ سے شکوہ ہے کسےجو شکایت ہے ہمیں گردش ایام سے ہےHasrat Mohani (1875–1951)
- برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہےہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہےHasrat Mohani (1875–1951)
- پھر اور تغافل کا سبب کیا ہے خدایامیں یاد نہ آؤں انہیں ممکن ہی نہیں ہےHasrat Mohani (1875–1951)
- جبیں پر سادگی نیچی نگاہیں بات میں نرمیمخاطب کون کر سکتا ہے تم کو لفظ قاتل سےHasrat Mohani (1875–1951)
- چھپ نہیں سکتی چھپانے سے محبت کی نظرپڑ ہی جاتی ہے رخ یار پہ حسرت کی نظرHasrat Mohani (1875–1951)
- حسرتؔ کی بھی قبول ہو متھرا میں حاضریسنتے ہیں عاشقوں پہ تمہارا کرم ہے آجHasrat Mohani (1875–1951)
- دیکھا کیے وہ مست نگاہوں سے بار بارجب تک شراب آئی کئی دور ہو گئےHasrat Mohani (1875–1951)
- سبھی کچھ ہو چکا ان کا ہمارا کیا رہا حسرتؔنہ دیں اپنا نہ دل اپنا نہ جاں اپنی نہ تن اپناHasrat Mohani (1875–1951)
- شعر دراصل ہیں وہی حسرتؔسنتے ہی دل میں جو اتر جائیںHasrat Mohani (1875–1951)
- شکوۂ غم ترے حضور کیاہم نے بے شک بڑا قصور کیاHasrat Mohani (1875–1951)
- غم آرزو کا حسرتؔ سبب اور کیا بتاؤںمری ہمتوں کی پستی مرے شوق کی بلندیHasrat Mohani (1875–1951)
- فیض محبت سے ہے قید محنمیرے لیے ایک بلائے حسنHasrat Mohani (1875–1951)
- کبھی کی تھی جو اب وفا کیجئے گامجھے پوچھ کر آپ کیا کیجئے گاHasrat Mohani (1875–1951)