Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتاآتا ہے پر اس طرح کہ گویا نہیں آتاHasrat Mohani (1875–1951)
  2. کیا وہ اب نادم ہیں اپنے جور کی روداد سےلائے ہیں میرٹھ جو آخر مجھ کو فیض آباد سےHasrat Mohani (1875–1951)
  3. کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروںدل کی تپش کو کیا کروں، سوزِ جگر کو کیا کروںHasrat Mohani (1875–1951)
  4. گھٹے گا تیرے کوچے میں وقار آہستہ آہستہبڑھے گا عاشقی کا اعتبار آہستہ آہستہHasrat Mohani (1875–1951)
  5. لطف کی ان سے التجا نہ کریںہم نے ایسا کبھی کیا نہ کریںHasrat Mohani (1875–1951)
  6. محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تکباقی ہے ترے عشق کی تاثیر ابھی تکHasrat Mohani (1875–1951)
  7. مداوائے دل دیوانہ کرتےیہ کرتے ہم تو کچھ اچھا نہ کرتےHasrat Mohani (1875–1951)
  8. مستی کے پھر آ گئے زمانےآباد ہوئے شراب خانےHasrat Mohani (1875–1951)
  9. مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی سازش ہےوہ بے پروا الٰہی مجھ پہ کیوں گرم نوازش ہےHasrat Mohani (1875–1951)
  10. نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہےہر سمت وہ رخ جلوہ نما میرے لیے ہےHasrat Mohani (1875–1951)
  11. نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینامحبت کا یہ بھی ہے کوئی قریناHasrat Mohani (1875–1951)
  12. نگاہ یار جسے آشنائے راز کرےوہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرےHasrat Mohani (1875–1951)
  13. نہ سمجھے دل فریب آرزو کونہ ہم چھوڑیں تمہاری جستجو کوHasrat Mohani (1875–1951)
  14. نہ سہی گر انہیں خیال نہیںکہ ہمارا بھی اب وہ حال نہیںHasrat Mohani (1875–1951)
  15. نہ صورت کہیں شادمانی کی دیکھیبہت سیر دنیائے فانی کی دیکھیHasrat Mohani (1875–1951)
  16. وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیںآرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیںHasrat Mohani (1875–1951)
  17. وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتےکہ دل رہ گیا مدعا کہتے کہتےHasrat Mohani (1875–1951)
  18. وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے نازاک سروِ ناز ہے جو بنا ہو برائے نازHasrat Mohani (1875–1951)
  19. ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھےمایوس کر سکا نہ ہجوم بلا مجھےHasrat Mohani (1875–1951)
  20. ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیںپی لیں جو کہیں اب بھی در خورد معافی ہیںHasrat Mohani (1875–1951)
  21. ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیاتو نے اے شوخ مگر کام ہمارا نہ کیاHasrat Mohani (1875–1951)
  22. ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتےوہ تم کچھ نہ کرتے مگر دیکھ لیتےHasrat Mohani (1875–1951)
  23. ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھیاک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھیHasrat Mohani (1875–1951)
  24. یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھاباوجود حسن تو آگاہ رعنائی نہ تھاHasrat Mohani (1875–1951)
  25. یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزےدل ابھی بھولا نہیں، آغازِ الفت کے مزےHasrat Mohani (1875–1951)
  26. یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوامجھ سا جاں باز دوسرا نہ ہواHasrat Mohani (1875–1951)
  27. بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگااب تو اظہارِ محبت برملا ہونے لگاHasrat Mohani (1875–1951)
  28. پھر یاد جو آئی ہے، مدینے کو بلانےکیا یاد کیا پھر مجھے شاہ دو سرا نےHasrat Mohani (1875–1951)
  29. رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہےحُبِ وطن، مستِ خواب، دیکھئیے ، کب تک رہےHasrat Mohani (1875–1951)
  30. سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریںسیرِ گلشن وہ کریں شوق سے ، تنہا نہ کریںHasrat Mohani (1875–1951)
  31. کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سےمرتا ہے تو مر جائے کوئی ان کی بلا سےHasrat Mohani (1875–1951)
  32. کرشنHasrat Mohani (1875–1951)
  33. آپ کو آتا رہا میرے ستانے کا خیالصلح سے اچھی رہی مجھ کو لڑائی آپ کیHasrat Mohani (1875–1951)
  34. آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسنآیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئےHasrat Mohani (1875–1951)
  35. اس نا خدا کے ظلم و ستم ہائے کیا کروںکشتی مری ڈبوئی ہے ساحل کے آس پاسHasrat Mohani (1875–1951)
  36. اقرار ہے کہ دل سے تمہیں چاہتے ہیں ہمکچھ اس گناہ کی بھی سزا ہے تمہارے پاسHasrat Mohani (1875–1951)
  37. ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کیدشمنی کا بھی حق ادا نہ ہواHasrat Mohani (1875–1951)
  38. بدگماں آپ ہیں کیوں آپ سے شکوہ ہے کسےجو شکایت ہے ہمیں گردش ایام سے ہےHasrat Mohani (1875–1951)
  39. برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہےہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہےHasrat Mohani (1875–1951)
  40. پھر اور تغافل کا سبب کیا ہے خدایامیں یاد نہ آؤں انہیں ممکن ہی نہیں ہےHasrat Mohani (1875–1951)
  41. جبیں پر سادگی نیچی نگاہیں بات میں نرمیمخاطب کون کر سکتا ہے تم کو لفظ قاتل سےHasrat Mohani (1875–1951)
  42. چھپ نہیں سکتی چھپانے سے محبت کی نظرپڑ ہی جاتی ہے رخ یار پہ حسرت کی نظرHasrat Mohani (1875–1951)
  43. حسرتؔ کی بھی قبول ہو متھرا میں حاضریسنتے ہیں عاشقوں پہ تمہارا کرم ہے آجHasrat Mohani (1875–1951)
  44. دیکھا کیے وہ مست نگاہوں سے بار بارجب تک شراب آئی کئی دور ہو گئےHasrat Mohani (1875–1951)
  45. سبھی کچھ ہو چکا ان کا ہمارا کیا رہا حسرتؔنہ دیں اپنا نہ دل اپنا نہ جاں اپنی نہ تن اپناHasrat Mohani (1875–1951)
  46. شعر دراصل ہیں وہی حسرتؔسنتے ہی دل میں جو اتر جائیںHasrat Mohani (1875–1951)
  47. شکوۂ غم ترے حضور کیاہم نے بے شک بڑا قصور کیاHasrat Mohani (1875–1951)
  48. غم آرزو کا حسرتؔ سبب اور کیا بتاؤںمری ہمتوں کی پستی مرے شوق کی بلندیHasrat Mohani (1875–1951)
  49. فیض محبت سے ہے قید محنمیرے لیے ایک بلائے حسنHasrat Mohani (1875–1951)
  50. کبھی کی تھی جو اب وفا کیجئے گامجھے پوچھ کر آپ کیا کیجئے گاHasrat Mohani (1875–1951)