Poetry
Poet
Meter
- اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئینہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئیChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
- جب سے تیرا کرم ہے بندہ نوازسوز ہے سوز اور نہ ساز ہے سازChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
- دشمن جوانیوں کی یہ آشنائیاں ہیںان آشنائیوں میں کیا کیا برائیاں ہیںChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
- دل بلا سے نثار ہو جائےآپ کو اعتبار ہو جائےChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
- یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتاجو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتاChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
- یہ مایوسی کہیں وجہ سکون دل نہ بن جائےغم بے حاصلی ہی عشق کا حاصل نہ بن جائےChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
- محبت کس قدر یاس آفریں معلوم ہوتی ہےترے ہونٹوں کی ہر جنبش نئی معلوم ہوتی ہےChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
- رات کی بات کا مذکور ہی کیاچھوڑیئے رات گئی بات گئیChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
- قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتیالٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتاChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
- آنے میں تیرے دوست بہت دیر ہو گئیبزم حیات اب زبر و زیر ہو گئیJaimini Sarshar (1904–1984)
- بہت خوش تھے ساحل قریب آ گیاسفینہ کنارے سے ٹکرا گیاJaimini Sarshar (1904–1984)
- تیری رحمت نے کر دیا گستاخورنہ پہلے تو میں نہ تھا گستاخJaimini Sarshar (1904–1984)
- جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میںانسان وہ کیا مر مٹنے کا احساس نہ ہو جس کے دل میںJaimini Sarshar (1904–1984)
- دل بنو دل کا مدعا بھی بنوساز بھی ساز کی صدا بھی بنوJaimini Sarshar (1904–1984)
- زندگی چین پا نہیں سکتیموت کو موت آ نہیں سکتیJaimini Sarshar (1904–1984)
- سجدہ اور ان کے آستانے کاحوصلہ دیکھیے زمانہ کاJaimini Sarshar (1904–1984)
- کریں کس لیے ہم کسی کا لحاظکسی کو نہیں جب ہمارا لحاظJaimini Sarshar (1904–1984)
- ہر کسی سے نہ احتراز کرودوست دشمن میں امتیاز کروJaimini Sarshar (1904–1984)
- تہذیب کا رہبر ہے یہ پنجاب ہماراہر علم کا مصدر ہے یہ پنجاب ہماراQais Jalandhari (1904–1994)
- نہ رکھ نیام میں رہنے دے بے نیام ابھیتو اس کو ہاتھ میں کچھ دیر اور تھام ابھیQais Jalandhari (1904–1994)
- پیامبر سے یہ کہلا دیا کہ بہتر تھانیاز و ناز کی باتیں تھیں روبرو کرتےJaleel Ahmad Qidwai (1904–1996)
- آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیاکیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیاAkhtar Shirani (1905–1948)
- آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئےباوفا تھے تم تو آخر بے وفا کیوں ہو گئےAkhtar Shirani (1905–1948)
- آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسمہم نہ چھیڑیں گے ہمیں زلف پریشاں کی قسمAkhtar Shirani (1905–1948)
- اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئیبے درد آسمان یہ کیا بات ہو گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
- اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئیلالہ کاری کسی صورت بھی ہماری نہ گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
- اگر اے نسیمِ سحر ترا! ہو گزر دیار ِحجاز میںمری چشمِ تر کا سلام کہنا حضورِ بندہ نواز میںAkhtar Shirani (1905–1948)
- اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دےتو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دےAkhtar Shirani (1905–1948)
- ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہےدو زہر کے پیالوں پہ قضا کھیل رہی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
- ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریںبے کار جائیں اپنی دعائیں تو کیا کریںAkhtar Shirani (1905–1948)
- اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئےوہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئےAkhtar Shirani (1905–1948)
- بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلےحساب ہوتا رہے گا یا رب ہمیں منگا دے شراب پہلےAkhtar Shirani (1905–1948)
- بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہےمگر ان شوخ نظروں کی حیا کچھ اور کہتی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
- پوسٹ مین اس بت کا خط لاتا نہیںاور جو لاتا ہے پڑھا جاتا نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
- تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوںیہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوںAkhtar Shirani (1905–1948)
- بستی کی لڑکیوں کے نامAkhtar Shirani (1905–1948)
- حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دلمحبت پر مگر مجبور ہے دلAkhtar Shirani (1905–1948)
- خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہےکبھی آنکھوں میں آنسو ہیں کبھی لب پر ہنسی بھی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
- دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیںگدائے مے کدہ ہیں وضع آزادانہ رکھتے ہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
- دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکایہ جام ظرف نواز شراب ہو نہ سکاAkhtar Shirani (1905–1948)
- دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملاشہر جاناں میں ہمیں مسکن جاناں نہ ملاAkhtar Shirani (1905–1948)
- دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیاپھولوں سے کھیلتا ہوا دیوانہ آ گیاAkhtar Shirani (1905–1948)
- دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گاتمہارے عشق میں سب کچھ تباہ کر لوں گاAkhtar Shirani (1905–1948)
- زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئےالٰہی اب تو خزاں جائے اور بہار آئےAkhtar Shirani (1905–1948)
- سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہےمجھے یاد آنے والے تو کہاں ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
- سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلےگنگناتے ہوئے اک شوخ کا افسانہ چلےAkhtar Shirani (1905–1948)
- عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیںہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیںAkhtar Shirani (1905–1948)
- غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اورکر لے ہمیں تقدیر پریشاں کوئی دن اورAkhtar Shirani (1905–1948)
- غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقیشراب لا مری حالت خراب ہے ساقیAkhtar Shirani (1905–1948)
- کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریںاس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریںAkhtar Shirani (1905–1948)