Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئینہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئیChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  2. جب سے تیرا کرم ہے بندہ نوازسوز ہے سوز اور نہ ساز ہے سازChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  3. دشمن جوانیوں کی یہ آشنائیاں ہیںان آشنائیوں میں کیا کیا برائیاں ہیںChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  4. دل بلا سے نثار ہو جائےآپ کو اعتبار ہو جائےChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  5. یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتاجو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتاChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  6. یہ مایوسی کہیں وجہ سکون دل نہ بن جائےغم بے حاصلی ہی عشق کا حاصل نہ بن جائےChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  7. محبت کس قدر یاس آفریں معلوم ہوتی ہےترے ہونٹوں کی ہر جنبش نئی معلوم ہوتی ہےChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  8. رات کی بات کا مذکور ہی کیاچھوڑیئے رات گئی بات گئیChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  9. قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتیالٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتاChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  10. آنے میں تیرے دوست بہت دیر ہو گئیبزم حیات اب زبر و زیر ہو گئیJaimini Sarshar (1904–1984)
  11. بہت خوش تھے ساحل قریب آ گیاسفینہ کنارے سے ٹکرا گیاJaimini Sarshar (1904–1984)
  12. تیری رحمت نے کر دیا گستاخورنہ پہلے تو میں نہ تھا گستاخJaimini Sarshar (1904–1984)
  13. جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میںانسان وہ کیا مر مٹنے کا احساس نہ ہو جس کے دل میںJaimini Sarshar (1904–1984)
  14. دل بنو دل کا مدعا بھی بنوساز بھی ساز کی صدا بھی بنوJaimini Sarshar (1904–1984)
  15. زندگی چین پا نہیں سکتیموت کو موت آ نہیں سکتیJaimini Sarshar (1904–1984)
  16. سجدہ اور ان کے آستانے کاحوصلہ دیکھیے زمانہ کاJaimini Sarshar (1904–1984)
  17. کریں کس لیے ہم کسی کا لحاظکسی کو نہیں جب ہمارا لحاظJaimini Sarshar (1904–1984)
  18. ہر کسی سے نہ احتراز کرودوست دشمن میں امتیاز کروJaimini Sarshar (1904–1984)
  19. تہذیب کا رہبر ہے یہ پنجاب ہماراہر علم کا مصدر ہے یہ پنجاب ہماراQais Jalandhari (1904–1994)
  20. نہ رکھ نیام میں رہنے دے بے نیام ابھیتو اس کو ہاتھ میں کچھ دیر اور تھام ابھیQais Jalandhari (1904–1994)
  21. پیامبر سے یہ کہلا دیا کہ بہتر تھانیاز و ناز کی باتیں تھیں روبرو کرتےJaleel Ahmad Qidwai (1904–1996)
  22. آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیاکیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیاAkhtar Shirani (1905–1948)
  23. آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئےباوفا تھے تم تو آخر بے وفا کیوں ہو گئےAkhtar Shirani (1905–1948)
  24. آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسمہم نہ چھیڑیں گے ہمیں زلف پریشاں کی قسمAkhtar Shirani (1905–1948)
  25. اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئیبے درد آسمان یہ کیا بات ہو گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
  26. اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئیلالہ کاری کسی صورت بھی ہماری نہ گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
  27. اگر اے نسیمِ سحر ترا! ہو گزر دیار ِحجاز میںمری چشمِ تر کا سلام کہنا حضورِ بندہ نواز میںAkhtar Shirani (1905–1948)
  28. اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دےتو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دےAkhtar Shirani (1905–1948)
  29. ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہےدو زہر کے پیالوں پہ قضا کھیل رہی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  30. ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریںبے کار جائیں اپنی دعائیں تو کیا کریںAkhtar Shirani (1905–1948)
  31. اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئےوہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئےAkhtar Shirani (1905–1948)
  32. بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلےحساب ہوتا رہے گا یا رب ہمیں منگا دے شراب پہلےAkhtar Shirani (1905–1948)
  33. بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہےمگر ان شوخ نظروں کی حیا کچھ اور کہتی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  34. پوسٹ مین اس بت کا خط لاتا نہیںاور جو لاتا ہے پڑھا جاتا نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  35. تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوںیہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوںAkhtar Shirani (1905–1948)
  36. بستی کی لڑکیوں کے نامAkhtar Shirani (1905–1948)
  37. حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دلمحبت پر مگر مجبور ہے دلAkhtar Shirani (1905–1948)
  38. خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہےکبھی آنکھوں میں آنسو ہیں کبھی لب پر ہنسی بھی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  39. دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیںگدائے مے کدہ ہیں وضع آزادانہ رکھتے ہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  40. دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکایہ جام ظرف نواز شراب ہو نہ سکاAkhtar Shirani (1905–1948)
  41. دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملاشہر جاناں میں ہمیں مسکن جاناں نہ ملاAkhtar Shirani (1905–1948)
  42. دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیاپھولوں سے کھیلتا ہوا دیوانہ آ گیاAkhtar Shirani (1905–1948)
  43. دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گاتمہارے عشق میں سب کچھ تباہ کر لوں گاAkhtar Shirani (1905–1948)
  44. زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئےالٰہی اب تو خزاں جائے اور بہار آئےAkhtar Shirani (1905–1948)
  45. سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہےمجھے یاد آنے والے تو کہاں ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  46. سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلےگنگناتے ہوئے اک شوخ کا افسانہ چلےAkhtar Shirani (1905–1948)
  47. عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیںہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  48. غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اورکر لے ہمیں تقدیر پریشاں کوئی دن اورAkhtar Shirani (1905–1948)
  49. غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقیشراب لا مری حالت خراب ہے ساقیAkhtar Shirani (1905–1948)
  50. کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریںاس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریںAkhtar Shirani (1905–1948)