جب سے تیرا کرم ہے بندہ نواز

Chiragh Hasan Hasrat (1904–1955)

جب سے تیرا کرم ہے بندہ نواز

سوز ہے سوز اور نہ ساز ہے ساز

میں ہوں اور میری بے پر و بالی

دل ہے اور دل کی جرأت پرواز

حسن کی برہمی معاذ اللہ

گیسوؤں کے بکھرنے کا انداز

زلف برہم جھکی ہوئی نظریں

گردن ناز میں کمند نیاز

قد بالا و دامن کوتاہ

منزل عشق کے نشیب و فراز

قطع ہونے لگا ہے رشتۂ زیست

اے غم یار تیری عمر دراز