درد اپنا کچھ اور ہے دوا ہے کچھ اور

Yaas Yagana Changezi (1884–1956)

درد اپنا کچھ اور ہے دوا ہے کچھ اور

ٹوٹے ہوئے دل کا آسرا ہے کچھ اور

ایسے ویسے خدا تو بہتیرے ہیں

میں بندہ ہوں جس کا وہ خدا ہے کچھ اور