Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. فنا نہیں ہے محبت کے رنگ و بو کے لئےبہار عالم فانی رہے رہے نہ رہےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  2. کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھیپر اب عروج وہ علم و کمال و فن میں نہیںChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  3. کچھ ایسا پاس غیرت اٹھ گیا اس عہد پر فن میںکہ زیور ہو گیا طوق غلامی اپنی گردن میںChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  4. مری بے خودی ہے وہ بے خودی کہیں خودی کا وہم و گماں نہیںیہ سرور ساغر مے نہیں یہ خمار خواب گراں نہیںChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  5. نہ کوئی دوست دشمن ہو شریک درد و غم میراسلامت میری گردن پر رہے بار الم میراChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  6. نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیںوطن کی آبرو اہل وطن برباد کرتے ہیںChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  7. ہم سوچتے ہیں رات میں تاروں کو دیکھ کرشمعیں زمین کی ہیں جو داغ آسماں کے ہیںChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  8. آصف الدولہ کا امام باڑہ لکھنؤChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  9. خاک ہندChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  10. حب قومیChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  11. درد دلChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  12. رامائن کا ایک سینChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  13. وطن کا راگChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  14. ویدChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  15. مرثیہ گوپال کرشن گوکھلےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  16. مرثیہ بال گنگا دھر تلکChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  17. برسات (برج نرائن چکبست, II)Chakbast Brij Narayan (1882–1926)
  18. یہ ہندوستاں ہے ہمارا وطنمحبت کی آنکھوں کا تارا وطنChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  19. اس کو ناقدریٔ عالم کا صلہ کہتے ہیںمر چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیاChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  20. ایک ساغر بھی عنایت نہ ہوا یاد رہےساقیا جاتے ہیں محفل تری آباد رہےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  21. مزا ہے عہد جوانی میں سر پٹکنے کالہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  22. مل گئی مجھ کو تو دنیا سے نجاتقتل کر کے آپ کو کیا مل گیاRaaz Rampuri (1883–1918)
  23. آپ سے آپ عیاں شاہد معنی ہوگاایک دن گردش افلاک سے یہ بھی ہوگاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  24. آپ میں کیونکر رہے کوئی یہ ساماں دیکھ کرشمع عصمت کو بھری محفل میں عریاں دیکھ کرYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  25. آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھےکہیں اب خاک نہ چھنوائے یہ انداز مجھےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  26. آہ بیمار کارگر نہ ہوئیچرخ کانپا مگر سحر نہ ہوئیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  27. اپنی ہستی خود ہم آغوش فنا ہو جائے گیموج دریا آب ساحل آشنا ہو جائے گیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  28. اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کےنسیم صبح سے شعلے بھڑک اٹھے دل کےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  29. ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیاہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  30. اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتاتو بھلا یہ راز الفت کبھی آشکار ہوتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  31. برگشتہ اور وہ بت بے پیر ہو نہ جائےالٹی کہیں دعاؤں کی تاثیر ہو نہ جائےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  32. بیٹھا ہوں پاؤں توڑ کے تدبیر دیکھنامنزل قدم سے لپٹی ہے تقدیر دیکھناYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  33. پالا امید و بیم سے ناگاہ پڑ گیادل کا بنا بنایا گھروندا اجڑ گیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  34. پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیںپہنچے نہ اڑتے اڑتے کہیں سے خبر کہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  35. ٹھوکریں کھلوائیں کیا کیا پائے بے زنجیر نےگردش تقدیر نے جولانی تدبیر نےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  36. جب تک خلش درد خدا داد رہے گیدنیا دل ناشاد کی آباد رہے گیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  37. جب حسن بے مثال پر اتنا غرور تھاآئینہ دیکھنا تمہیں پھر کیا ضرور تھاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  38. جو دل نہیں رکھتا کوئی مشکل نہیں رکھتامشکل نہیں رکھتا کوئی جو دل نہیں رکھتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  39. چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلالگا کے آگ مرے گھر سے میہماں نکلاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  40. چلتا نہیں فریب کسی عذر خواہ کادل ہے بغل میں یا کوئی دفتر گناہ کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  41. چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کادلیل راہ محبت ہے فیصلہ دل کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  42. حسن پر فرعون کی پھبتی کہیہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  43. خدا کی مار وہ ایام شور و شر گزرےوہ جن سوار تھا سر پر کہ سر سے در گزرےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  44. خدا معلوم کیسا سحر تھا اس بت کی چتون میںچلے جاتی ہیں اب تک چشمکیں شیخ و برہمن میںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  45. خداؤں کی خدائی ہو چکی بسخدارا بس دہائی ہو چکی بسYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  46. خزاں کے جور سے واقف کوئی بہار نہ ہوکسی کا پیرہن حسن تار تار نہ ہوYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  47. خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیاخدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  48. دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگےکیا بتاؤں زخم دل کیا کیا دعا دینے لگےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  49. درد دل روئیں کس امید پہ بیگانے سےصبح ہونے کی نہیں یاس اس افسانے سےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  50. دل بے تاب کو کب وصل کا یارا ہوتاشادیٔ دولت دیدار نے مارا ہوتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)