Poetry
Poet
Meter
- فنا نہیں ہے محبت کے رنگ و بو کے لئےبہار عالم فانی رہے رہے نہ رہےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- کبھی تھا ناز زمانہ کو اپنے ہند پہ بھیپر اب عروج وہ علم و کمال و فن میں نہیںChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- کچھ ایسا پاس غیرت اٹھ گیا اس عہد پر فن میںکہ زیور ہو گیا طوق غلامی اپنی گردن میںChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- مری بے خودی ہے وہ بے خودی کہیں خودی کا وہم و گماں نہیںیہ سرور ساغر مے نہیں یہ خمار خواب گراں نہیںChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- نہ کوئی دوست دشمن ہو شریک درد و غم میراسلامت میری گردن پر رہے بار الم میراChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیںوطن کی آبرو اہل وطن برباد کرتے ہیںChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- ہم سوچتے ہیں رات میں تاروں کو دیکھ کرشمعیں زمین کی ہیں جو داغ آسماں کے ہیںChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- آصف الدولہ کا امام باڑہ لکھنؤChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- خاک ہندChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- حب قومیChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- درد دلChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- رامائن کا ایک سینChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- وطن کا راگChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- ویدChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- مرثیہ گوپال کرشن گوکھلےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- مرثیہ بال گنگا دھر تلکChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- برسات (برج نرائن چکبست, II)Chakbast Brij Narayan (1882–1926)
- یہ ہندوستاں ہے ہمارا وطنمحبت کی آنکھوں کا تارا وطنChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- اس کو ناقدریٔ عالم کا صلہ کہتے ہیںمر چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیاChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- ایک ساغر بھی عنایت نہ ہوا یاد رہےساقیا جاتے ہیں محفل تری آباد رہےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- مزا ہے عہد جوانی میں سر پٹکنے کالہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- مل گئی مجھ کو تو دنیا سے نجاتقتل کر کے آپ کو کیا مل گیاRaaz Rampuri (1883–1918)
- آپ سے آپ عیاں شاہد معنی ہوگاایک دن گردش افلاک سے یہ بھی ہوگاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- آپ میں کیونکر رہے کوئی یہ ساماں دیکھ کرشمع عصمت کو بھری محفل میں عریاں دیکھ کرYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھےکہیں اب خاک نہ چھنوائے یہ انداز مجھےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- آہ بیمار کارگر نہ ہوئیچرخ کانپا مگر سحر نہ ہوئیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- اپنی ہستی خود ہم آغوش فنا ہو جائے گیموج دریا آب ساحل آشنا ہو جائے گیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کےنسیم صبح سے شعلے بھڑک اٹھے دل کےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیاہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتاتو بھلا یہ راز الفت کبھی آشکار ہوتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- برگشتہ اور وہ بت بے پیر ہو نہ جائےالٹی کہیں دعاؤں کی تاثیر ہو نہ جائےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- بیٹھا ہوں پاؤں توڑ کے تدبیر دیکھنامنزل قدم سے لپٹی ہے تقدیر دیکھناYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- پالا امید و بیم سے ناگاہ پڑ گیادل کا بنا بنایا گھروندا اجڑ گیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیںپہنچے نہ اڑتے اڑتے کہیں سے خبر کہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- ٹھوکریں کھلوائیں کیا کیا پائے بے زنجیر نےگردش تقدیر نے جولانی تدبیر نےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- جب تک خلش درد خدا داد رہے گیدنیا دل ناشاد کی آباد رہے گیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- جب حسن بے مثال پر اتنا غرور تھاآئینہ دیکھنا تمہیں پھر کیا ضرور تھاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- جو دل نہیں رکھتا کوئی مشکل نہیں رکھتامشکل نہیں رکھتا کوئی جو دل نہیں رکھتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلالگا کے آگ مرے گھر سے میہماں نکلاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- چلتا نہیں فریب کسی عذر خواہ کادل ہے بغل میں یا کوئی دفتر گناہ کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کادلیل راہ محبت ہے فیصلہ دل کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- حسن پر فرعون کی پھبتی کہیہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- خدا کی مار وہ ایام شور و شر گزرےوہ جن سوار تھا سر پر کہ سر سے در گزرےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- خدا معلوم کیسا سحر تھا اس بت کی چتون میںچلے جاتی ہیں اب تک چشمکیں شیخ و برہمن میںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- خداؤں کی خدائی ہو چکی بسخدارا بس دہائی ہو چکی بسYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- خزاں کے جور سے واقف کوئی بہار نہ ہوکسی کا پیرہن حسن تار تار نہ ہوYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیاخدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگےکیا بتاؤں زخم دل کیا کیا دعا دینے لگےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- درد دل روئیں کس امید پہ بیگانے سےصبح ہونے کی نہیں یاس اس افسانے سےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- دل بے تاب کو کب وصل کا یارا ہوتاشادیٔ دولت دیدار نے مارا ہوتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)