ایسا نہ ہو حق کا سامنا ہو جائے
Yaas Yagana Changezi (1884–1956)ایسا نہ ہو حق کا سامنا ہو جائے
سارا یہ طلسمات ہوا ہو جائے
کیا کرتا ہے سچ پہ جان دینے والے
یاروں کا مزا نہ کرکرا ہو جائے
ایسا نہ ہو حق کا سامنا ہو جائے
سارا یہ طلسمات ہوا ہو جائے
کیا کرتا ہے سچ پہ جان دینے والے
یاروں کا مزا نہ کرکرا ہو جائے