Poetry

Poet
Meter
  1. جوں عبرت کور جلوہ گر ہوںالبتہ کچھ ہوں میں پر کدھر ہوںQaem Chandpuri (1722–1793)
  2. جہاں کو وہ لب مے گوں خراب رکھتے ہیںخدا خبر کہ یہ کیسی شراب رکھتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  3. جیا بہ کام کب اس بخت ارجمند سے میںپھنسا قفس میں جو چھوٹا چمن کے بند سے میںQaem Chandpuri (1722–1793)
  4. جی تلک آتش ہجراں میں سنبھالا نہ گیاگھر میں سب کچھ تھا پہ ہم سے تو نکالا نہ گیاQaem Chandpuri (1722–1793)
  5. جی میں چہلیں تھیں جو کچھ سو تو گئیں یار کے ساتھسر پٹکنا ہی پڑا اب در و دیوار کے ساتھQaem Chandpuri (1722–1793)
  6. چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبتپر جس میں یہ دوری ہو وہ کیا خاک محبتQaem Chandpuri (1722–1793)
  7. چھوڑ ماوائے ذقن زلف پریشاں میں پھنسامثل یوسف میں نکل چاہ سے زنداں میں پھنساQaem Chandpuri (1722–1793)
  8. خط کے آتے ہی وہ مکھڑے کی صفائی کیا ہوئیوہ منش کیدھر گئے وہ میرزائی کیا ہوئیQaem Chandpuri (1722–1793)
  9. دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیادرویش جس جگہ کہ ہوئی شام رہ گیاQaem Chandpuri (1722–1793)
  10. دل مرا دیکھ دیکھ جلتا ہےشمع کا کس پہ دل پگھلتا ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
  11. دل میں اپنے نہیں کوئی جز یارلیس فی الدار غیرہ دیارQaem Chandpuri (1722–1793)
  12. دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھاصدقے میں کچھ تو بول تو کیا تجھ پہ حال تھاQaem Chandpuri (1722–1793)
  13. دن ہی ملئے گا یا شب آئیے گابندہ خانہ میں پھر کب آئیے گاQaem Chandpuri (1722–1793)
  14. دیکھا کبھو نہ اس دل ناشاد کی طرفکرتا رہا تو اپنی ہی بیداد کی طرفQaem Chandpuri (1722–1793)
  15. دیکھا ہے آج راہ میں ہم اک حریر پوشپر یار کچھ نہ پوچھ کہ کیا چھب چہ بر چہ دوشQaem Chandpuri (1722–1793)
  16. رہنے دے شب اپنے پاس مجھ کواوروں سا نہ کر قیاس مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
  17. زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نےجی بھی یوں ہی چاہے تھا کرامات کی تو نےQaem Chandpuri (1722–1793)
  18. شب جو دل بیقرار تھا کیا تھاکسی کا انتظار تھا کیا تھاQaem Chandpuri (1722–1793)
  19. شب کس سے یہ ہم جدا رہے ہیںتا صبح نپٹ خفا رہے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  20. شکوہ نہ بخت سے ہے نے آسماں سے مجھ کوپہنچی جو کچھ اذیت اپنے گماں سے مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
  21. صحرا پہ گر جنوں مجھے لاوے عتاب میںکھینچوں ہر ایک خار کو پائے حساب میںQaem Chandpuri (1722–1793)
  22. عبث ہیں ناصحا ہم سے ز خود رفتوں کی تدبیریںرکے ہے بحر کب گو موج سے ہوں لاکھ زنجیریںQaem Chandpuri (1722–1793)
  23. قاصد کو دے نہ اے دل اس گل بدن کی پاتیچل خود ہی لے چلیں ہم اپنے سجن کی پاتیQaem Chandpuri (1722–1793)
  24. قتل پہ تیرے مجھے کد چاہئےخوب ہے یہ اپنے کا بد چاہئےQaem Chandpuri (1722–1793)
  25. کبھو دکھا کے کمر اور کبھو دہاں مجھ کوبہت بتنگ کیا تو نے اے میاں مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
  26. کدھر ابرو کی اس کے دھاک نہیںکون اس تیغ کا ہلاک نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  27. کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرفمیں آج یک طرف ہوں ترے یار یک طرفQaem Chandpuri (1722–1793)
  28. کل اے آشوب نالہ آج نہیںآج ہنگامہ پر مزاج نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  29. کون سا دن کہ مجھے اس سے ملاقات نہیںلیک جی چاہے ہے جوں ملنے کو وہ بات نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  30. کیا میں کیا اعتبار میراخواری بس افتخار میراQaem Chandpuri (1722–1793)
  31. گو بہ نام اک زبان رکھتی ہے شمعکب ترا سا بیان رکھتی ہے شمعQaem Chandpuri (1722–1793)
  32. گو یاں نہ کسی کو آئے افسوسحالت تو ہے اپنی جائے افسوسQaem Chandpuri (1722–1793)
  33. گہ پیر شیخ گاہ مرید مغاں رہےاب تک تو آبرو سے نبھی ہے جہاں رہےQaem Chandpuri (1722–1793)
  34. لائق وفا کے خلق و سزائے جفا ہوں میںجتنے ہیں یاں سو نیک ہیں جو کچھ برا ہوں میںQaem Chandpuri (1722–1793)
  35. لے چکو دل جو نگہ کو تو یہ دشوار نہیںلیک تم دیکھتے پھرتے ہو خریدار نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  36. مانگے ہے ترے ملنے کو بے طرح سے دل آجکل کیا ہے جو ملنا ہے مری جان تو مل آجQaem Chandpuri (1722–1793)
  37. محتسب سے صلاح کیجئے گامے کو چندے مباح کیجئے گاQaem Chandpuri (1722–1793)
  38. معلوم کچھ ہوا ہی نہ دل کا اثر کہیںایسا گیا کہ پھیر نہ پائی خبر کہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  39. میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھاپر آشنا کوئی دیکھا نہ مہرباں دیکھاQaem Chandpuri (1722–1793)
  40. میں نہ وہ ہوں کہ تنک غصہ میں ٹل جاؤں گاہنس کے تم بات کرو گے میں بہل جاؤں گاQaem Chandpuri (1722–1793)
  41. ناصحا کر نہ اسے سی کے پشیماں مجھ کوکتنے ہی چاک ابھی کرنے ہیں گریباں مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
  42. نگاہوں سے نگاہیں سامنے ہوتے ہی جب لڑیاںیکایک کھل گئیں دونوں طرف سے دل کی کلجھڑیاںQaem Chandpuri (1722–1793)
  43. نہ بیم غم ہے نے شادی کی ہم امید کرتے ہیںقلندر ہیں جو پیش آ جائے سب کچھ دید کرتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  44. نہ پوچھ گریۂ خوں کا ترے ہے کیا باعثسبب تو اور نہیں کچھ مگر ترا باعثQaem Chandpuri (1722–1793)
  45. نہ پوچھو کہ قائمؔ کا کیا حال ہےکچھ اک ڈھیر ہڈیوں کا یا کھال ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
  46. نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میںکبھو جو روئے تھے خوں جم رہا ہے آنکھوں میںQaem Chandpuri (1722–1793)
  47. نہ کہہ کہ بے اثر انفاس سرد ہوتے ہیںمجھی سے کیا کوئی سب اہل درد ہوتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  48. نہیں بند قبا میں تن ہماراہے عریانی ہی پیراہن ہماراQaem Chandpuri (1722–1793)
  49. واشد کی دل کے اور کوئی راہ ہی نہیںجز یہ کہ آہ کیجئے سو آہ ہی نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  50. ہر اک صورت میں تجھ کو جانتے ہیںہم اس بہروپ کو پہچانتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)