Poetry
Poet
Meter
- نہ سہی آپ ہمارے جو مقدر میں نہیںاب وہ پہلی سی تڑپ بھی دل مضطر میں نہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
- نہ کیوں کر نذر دل ہوتا نہ کیوں کر دم مرا جاتااکیلا بھیجتا اس کو وہ خالی ہاتھ کیا جاتاBekhud Dehlvi (1863–1955)
- وہ اور تسلی مجھے دیں ان کی بلا دےجاتے ہوئے فرما تو گئے صبر خدا دےBekhud Dehlvi (1863–1955)
- وہ دیکھتے جاتے ہیں کنکھیوں سے ادھر بھیچلتا ہوا جادو ہے محبت کی نظر بھیBekhud Dehlvi (1863–1955)
- ہو کے مجبور آہ کرتا ہوںتھام کر دل گناہ کرتا ہوںBekhud Dehlvi (1863–1955)
- ہیں نکہت گل باغ میں اے باد صبا ہمدم بھر میں نمودار ہیں دم بھر میں فنا ہمBekhud Dehlvi (1863–1955)
- بے وفا کہنے سے کیا وہ بے وفا ہو جائے گاتیرے ہوتے اس صفت کا دوسرا ہو جائے گاBekhud Dehlvi (1863–1955)
- مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسنددونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسندBekhud Dehlvi (1863–1955)
- وہ سن کر حور کی تعریف پردے سے نکل آئےکہا پھر مسکرا کر حسن زیبا اس کو کہتے ہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
- ہر ایک بات تری بے ثبات کتنی ہےپلٹنا بات کو دم بھر میں بات کتنی ہےBekhud Dehlvi (1863–1955)
- ہوا جو وقف غم وہ دل کسی کا ہو نہیں سکتاتمہارا بن نہیں سکتا ہمارا ہو نہیں سکتاBekhud Dehlvi (1863–1955)
- اس شوخ دم شعار سے کہتا سلام شوققاصد یہی ہے آج ہمارا پیام شوقPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- اشک آ آ کے مری آنکھوں میں تھم جاتے ہیںجب وہ کہتے ہیں ابھی تو نہیں ہم جاتے ہیںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- اگر اتنا نہ تو عیار ہوتاتو دشمن کا نہ ہرگز یار ہوتاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہےترا جلوہ تیرا ہے پردہ در تیرے رخ پہ کیوں یہ نقاب ہےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- تعین تسلسل ہے نقش بدن کااسی سے تعلق ہے یہ جان و تن کاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- تلاش جس نور کی ہے تجھ کو چھپا ہے تیرے بدن کے اندرظہور عالم ہوا اسی سے وہ ہے ہر اک جان و تن کے اندرPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- تم نے دیکھا ہی نہیں ہے وہ نظام مخصوصکوئے جاناں میں ہمارا ہے قیام مخصوصPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- تو ہی انیس غم رہا نالۂ غمگسار شبیاس پسند جب ہوا بسمل انتظار شبPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- جذبہ میں سلوک اور نفی میں ہے جو اثباتاے سالک مجذوب یہ ہے سیر مقاماتPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- جلوۂ دیدار تو اک بات ہےلن ترانی عاشقوں کی گھات ہےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- جو بشر ہر وقت محو ذات ہےقلب اس کا لم یزل مرآت ہےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- حریص ہو نہ جہاں میں نہ اپنا جی بھٹکازباں بگڑ گئی گر اس کو آ گیا چٹکاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- حسرت و امید کا ماتم رہایہ وہ دل ہے جو سدا پر غم رہاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- داغ غم فراق مٹایا نہ جائے گاجلتا ہوا چراغ بجھایا نہ جائے گاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- دل سوختہ کو اپنے جلایا غضب کیانیرنگ تم نے کیا یہ دکھایا غضب کیاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- دل شہید ہوا ہے شہید حسن صفاتپلایا ذوق نظر نے بھی جام آب حیاتPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- شہید ارماں پڑے ہیں بسمل کھڑا وہ تلوار کا دھنی ہےادھر تو یہ قتل عام دیکھا ادھر وہ کیسی کٹا چھنی ہےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- طالب عشق ہے کیا سالک عریاں نہ ہواقرب مہجور ہوا واصل جاناں نہ ہواPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- عدوئے خیرہ سراب ہو گیا بڑا خرانٹیہی ہے دل میں کہ دیں آج اس کو ہم اک ڈانٹPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- غضب کے طیش میں وہ شوخ دیدہ آیا تھابہ شکل قہر تھا خنجر کشیدہ آیا تھاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- کر سیر اپنے دل کی ہے نور کا تماشاہاں دیکھ بن کے موسیٰ اس طور کا تماشاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- کس رنگ میں بیان کریں ماجرائے قلبدیکھا جو ہم نے جلوۂ حیرت فزائے قلبPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- کہاں ہے وہ گل خنداں ہمیں نہیں معلومنہ پوچھ بلبل نالاں ہمیں نہیں معلومPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- کیوں آ گئے ہیں بزم ظہور و نمود میںآزاد مرد ہو کے رہے ہم قیود میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- گیا سب رنج و غم کنج قفس کاترحم ہو گیا فریاد رس کاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- مجھ سے کہتے ہو کیا کہیں گے آپجو کہوں گا تو کیا سنیں گے آپPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیراملنے لگا ہے شاید اب تم سے کوئی خیراPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- واہ کیا ہم کو بنایا اور بنا کر رہ گئےوصل کا مژدہ سنایا اور سنا کر رہ گئےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- وہ آئے نگار میں نہ مانوںآ جائے قرار میں نہ مانوںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- وہ پاس ہے تیرے دور نہیں تو واصل ہے مہجور نہیںکیوں حبل مرکب میں ہے پھنسا مختار ہے تو مجبور نہیںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- وہ رم شعار مرا شوخ دیدہ آیا تھاوہ عشوہ سنج کشیدہ کشیدہ آیا تھاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- وہی ضد ان کو ہے وہی ہے ہٹان کی چاہی نہیں ہے یہ جھنجھٹPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- ہستیٔ نیست نما دیدۂ حیراں سمجھاتجھ کو دوران بقا خواب پریشاں سمجھاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- ہمارا حسن تعلق وفا بنے نہ بنےوہ عشوہ سنج ہے فرخ لقا بنے نہ بنےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیااپنے عشاق کو وہ غنچہ دہن بھول گیاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- یہی تمنائے دل ہے ان کی جدھر کو رخ ہو ادھر کو چلئےہوا ہے گو اشتیاق بے حد جما کے پائے نظر کو چلئےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- آپ ہیں محو حسن و رعنائیہم کو اپنا کیا ہے سودائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- اپنی صورت نہ جب نظر آئیشکل آوارگوں نے دکھلائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- تو نے صورت جو اپنی دکھلائیمٹ گئی ساری یہ من و مائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)