Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جس سے تیری ہوئی ہے یکتائیاس نے وحدت سے آگہی پائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  2. دیکھ کر تیری عالم آرائیتیری پنہائی اور پیدائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  3. عشق معشوق کا ہے پیدائیعاشقی نے یہ شکل دکھلائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  4. ہوئے بے خود تو بے خودی آئیخود شناسی ہوئی خود آرائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  5. دل زندہ خود رہنما ہو گیایہ قبلہ ہی قبلہ نما ہو گیاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  6. اپنے جنوں کدے سے نکلتا ہی اب نہیںساقی جو مے فروش سر رہ گزار تھاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  7. برائی بھلائی کی صورت ہوئیمحبت میں سب کچھ روا ہو گیاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  8. جذبۂ عشق چاہئے صوفیجو ہے افسردہ اہل حال نہیںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  9. جم گئے راہ میں ہم نقش قدم کی صورتنقش پا راہ دکھاتے ہیں کہ وہ آتے ہیںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  10. چھو لے صبا جو آ کے مرے گل بدن کے پاؤںقائم نہ ہوں چمن میں نسیم چمن کے پاؤںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  11. دل بھی اب پہلو تہی کرنے لگاہو گیا تم سا تمہاری یاد میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  12. سالک ہے گرچہ سیر مقامات دل فریبجو رک گئے یہاں وہ مقام خطر میں ہیںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  13. فلک پہ چاند ستارے نکلتے ہیں ہر شبستم یہی ہے نکلتا نہیں ہمارا چاندPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  14. قالب کو اپنے چھوڑ کے مقلوب ہو گئےکیا اور کوئی قلب ہے اس انقلاب میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  15. محو لقا جو ہیں ملکوتی خصال ہیںبیدار ہو کے بھی نظر آتے ہیں خواب میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  16. نفس مطلب ہی مرا فوت ہوا جاتا ہےجان جاناں یہ مناسب نہیں گھبرا دیناPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  17. نگہ ناز سے اس چست قبا نے دیکھاشوق بیتاب گل چاک گریباں سمجھاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  18. نیرنگ عشق آج تو ہو جائے کچھ مددپر فن کو ہم کریں متحیر کسی طرحPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  19. وہ ماہ جلوہ دکھا کر ہمیں ہوا روپوشیہ آرزو ہے کہ نکلے کہیں دوبارا چاندPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  20. ہم کو بھرم نے بحر توہم بنا دیادریا سمجھ کے کود پڑے ہم سراب میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  21. یہ روپوشی نہیں ہے صورت مردم شناسی ہےہر اک نا اہل تیرا طالب دیدار بن جاتاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  22. آنا ہو تو آ جاؤ بہانا نہیں اچھاہر روز کا مجھ کو یہ ستانا نہیں اچھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  23. اب دماغ و دل میں وہ قوت نہیں وہ دل نہیںشادؔ اب اشعار میرے در خور محفل نہیںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  24. اس بت کی محبت میں آخر یہی کرنا تھااپنے سے گزرنا تھا سو جان سے مرنا تھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  25. اس نے کہا کعبہ ترا میں نے کہا چہرا ترااس نے کہا چہرا ترا میں نے کہا جلوا تراMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  26. اے عشق فتنہ ساماں کر دے تو حشر برپاکیا یہ نہیں قیامت عالم ہے تیرا شیداMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  27. بادۂ خم خانۂ توحید کا مے نوش ہوںچور ہوں مستی میں ایسا بے خود و مدہوش ہوںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  28. تا چند اس کے جور کے صدمے اٹھائے دلپتھر نہیں ہے سینے میں جو تاب لائے دلMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  29. جام مئے الست سے سرشار ہو گئےیعنی رہین خانۂ خمار ہو گئےMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  30. جب رہا ہو جاؤں گا میں رنج و غم کے دام سےتب کہوں گا اب گزرتی ہے بڑے آرام سےMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  31. خم دار اور گیسوئے خم دار ہو گیاابروئے یار کا یہ طرف دار ہو گیاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  32. صبح کو نکلا تھا گرچہ کر و فر سے آفتابمنہ پھرایا ہو خجل اس عشوہ گر سے آفتابMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  33. فکر اسباب طرب غم کے مقابل ہو گیاکلفت صبر آزما کیوں کر مرا دل ہو گیاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  34. فنا کہتے ہیں کس کو موت سے پہلے ہی مر جانابقا ہے نام کس کا اپنی ہستی سے گزر جاناMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  35. کثرت تماشا کو وحدت آشنا پایاہستیٔ فنا میں بھی جلوۂ بقا پایاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  36. کہوں کس سے بجز تیرے خدایا آرزو دل کیمراد اپنی ہمیشہ تجھ سے ہی بس میں نے حاصل کیMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  37. لطف اب آئے نہ کیوں انجمن آرائی کاذرے ذرے میں ہے جلوہ تری یکتائی کاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  38. مجھ کو اپنی خودی سے نفرت ہےاپنی ہستی سے ہی عداوت ہےMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  39. محفل میں تیرے کون تھا جو شادماں نہ تھاسب تھے شریک بزم مگر میں وہاں نہ تھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  40. مضمر ہے بقا ہستئ عالم کی فنا میںاک جلوۂ وحدت بھی ہے کثرت کی فضا میںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  41. موجود جو ساقی ہے تو پھر کیا نہیں ملتاہم اس کے ہیں کیا ساغر و مینا نہیں ملتاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  42. میں سمجھتا ہوں تجھے میری وفا یاد نہیںتو سمجھتا ہے مجھے تیری جفا یاد نہیںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  43. ہٹ دھرمی کی کہوں کہ میں ایمان کی کہوںاپنا کروں بیاں کہ تری شان کی کہوںMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  44. آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرےیہ تو فرمائیے کیا زلف نے کچھ کان بھرےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  45. آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میںاے تری شان کہ پانی بھی ہے انگاروں میںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  46. آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیااس سے کچھ کام بھی نکلے یہ اگر ہے بھی تو کیاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  47. اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میںمیں جب پہنچا تو کوئی بھی نہ تھا میدان محشر میںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  48. اپنے عہد وفا کو بھول گئےتم تو بالکل خدا کو بھول گئےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  49. اتنے اچھے ہو کہ بس توبہ بھلیتم تو ایسے ہو کہ بس توبہ بھلیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  50. اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیامیں اس کو دیکھتا ہوں جو بدلے میں مل گیاMuztar Khairabadi (1865–1927)