Poetry
Poet
Meter
- اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتاکچھ حشر لحد پر ابھی برپا نہیں ہوتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کاکل بام پر تھے آج ہے قصد آسمان کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- اگر ان کے لب پر گلا ہے کسی کاتو بے جا بھی شکوہ بجا ہے کسی کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- الفت میں عیاں سوز بتاں ہو نہیں سکتایہ آگ ہے ایسی کہ دھواں ہو نہیں سکتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ان کے ہوتے کون دیکھے دیدہ و دل کا بگاڑپڑ گیا دونوں میں فرط رشک سے کیسا بگاڑRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- انہیں کے کام الٰہی مرا لہو آئےرنگیں جو ہاتھ لہو میں حنا کی بو آئےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- اور مے خانہ نشیں چور بنائے نہ گئےہم دھرے جاتے ہیں ناحق کہیں آئے نہ گئےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- بات دل کی زبان پر آئیآفت اب میری جان پر آئیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- بالائے بام غیر ہے میں آستان پرچاہیں جسے چڑھائیں حضور آسمان پرRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- بام پر آئے کتنی شان سے آجبڑھ گئے آپ آسمان سے آجRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- بت اپنے آپ کو کیا جانے کیا سمجھتے ہیںمرا خدا انہیں سمجھے خدا سمجھتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- بہت ہی پردے میں اظہار آرزو کرتےنگاہیں کہتی ہیں ہم ان سے گفتگو کرتےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- بھٹکا ہوا خیال ہے عقبیٰ کہیں جسےبھولا ہوا سا خواب ہے دنیا کہیں جسےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- پایا جو تجھے تو کھو گئے ہمبیدار ہوئے تو سو گئے ہمRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- پرا باندھے صف مژگاں کھڑی ہےنگاہ شوق کیا ماری پڑی ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- پردہ کس امر کا ہے اب اس بد نصیب سےکہئے تو بات رات کی کہہ دوں رقیب سےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- پردے پردے میں یہ کر لیتی ہیں راہیں کیوں کرپار ہو جاتی ہیں سینے کی نگاہیں کیوں کرRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- پی لی ہم نے شراب پی لیتھی آگ مثال آب پی لیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- پیمانے میں وہ زہر نہیں گھول رہے تھےمیرے لئے میخانے کا در کھول رہے تھےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- تھکا لے اور دور آسماں تکپھر آخر گردش قسمت کہاں تکRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- تھی ظرف وضو میں کوئی شے پی گئے کیا آپاے شیخ یہاں کون ہے میں چور ہوں یا آپRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- تیز ہے پینے میں ہو جائے گی آسانی مجھےزمزمی سے دے دے زاہد تو ذرا پانی مجھےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جان نکلے گی مری جان بڑی مشکل سےہوگی مشکل مری آسان بڑی مشکل سےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جانے والے نہ ہم اس کوچے میں آنے والےاچھے آئے ہمیں دیوانہ بنانے والےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جس دن سے حرام ہو گئی ہےمے خلد مقام ہو گئی ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جفا میں نام نکالو نہ آسماں کی طرحکھلیں گی لاکھ زبانیں مری زباں کی طرحRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جو ان سے کہو وہ یقیں جانتے ہیںوہ ایسے ہیں کچھ بھی نہیں جانتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جوانی مئے ارغوانی سے اچھیمئے ارغوانی جوانی سے اچھیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جوبن ان کا اٹھان پر کچھ ہےاب مزاج آسمان پر کچھ ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جو پلائے وہ رہے یا رب مے و ساغر سے خوشخوش رہے پیر مغاں جاتے ہیں اس کے در سے خوشRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جو تھے ہاتھ مہندی لگانے کے قابلہوئے آج خنجر اٹھانے کے قابلRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دیپرانی دوستی بھی طاق پر اے مہرباں رکھ دیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جی اٹھے حشر میں پھر جی سے گزرنے والےیاں بھی پیدا ہوئے پھر آپ پہ مرنے والےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- چھوڑتی ہی نہیں مجھ کو شب فرقت میریاے میں قربان اسے اتنی محبت میریRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- چھیڑتے ہیں گدگداتے ہیں پھر ارماں آج کلجھوٹے سچے کوئی کر لے عہد و پیماں آج کلRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- حنا یہ کہتی ہے لو بے زبان پا کے مجھےجب آئے آپ گئے چوریاں لگا کے مجھےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- خدا کرے رہے جاری پیام یار نثارکہ تیرے بعد یہ ہے تیری یادگار نثارRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- خواب میں بھی نظر آ جائے جو گھر کی صورتپھاڑ کھائیں ترے درباں سگ در کی صورتRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- درد ہو تو دوا کرے کوئیموت ہی ہو تو کیا کرے کوئیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- در کھلا صبح کو پو پھٹتے ہی مے خانے کاعکس سورج ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- دشمن کی طرف ہو کے نکلنے نہیں دیتےہم کو وہ بری راہ بھی چلنے نہیں دیتےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیںرونے والوں سے ہنسی اچھی نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- دل ڈھونڈھتی ہے نگہ کسی کیآئینے کی ہے نہ آرسی کیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- دم آخر کسی کا شکوۂ بیداد کرتے ہیںنہیں ہیں ہچکیاں رہ رہ کے ہم فریاد کرتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- دنیا سے الگ ہم نے میخانے کا در دیکھامیخانے کا در دیکھا اللہ کا گھر دیکھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- رنگ پر کل تھا ابھی لالۂ گلشن کیسابے چراغ آج ہے ہر ایک نشیمن کیساRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- روٹھے ہوئے کہ اپنے ذرا اب منائے زلفپیارا ہے دل تو ناز بھی دل کے اٹھائے زلفRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- رہ گیا پر وہ ترے چاک گریبانوں کاحشر میں کوئی بھی پرساں نہیں دیوانوں کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- رہے ہم آشیاں میں بھی تو برق آشیاں ہو کرلگا دی آگ اپنے گھر میں سرگرم فغاں ہو کرRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ریاضؔ اک چلبلا سا دل ہو ہم ہوںحسینوں کی بھری محفل ہو ہم ہوںRiyaz Khairabadi (1853–1934)