Poetry
Hazaj Musaddas Mahzuf
ہزج مسدس محذوف- تجھے دیکھا ترے جلووں کو دیکھاخدا کو دیکھ کر اب کیا کروں گاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوںشب فرقت بہت گھبرا رہا ہوںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہےشب فرقت مجھے کیا ہو گیا ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ مانا زندگی ہے چار دن کیبہت ہوتے ہیں یارو چار دن بھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- جوانی کے ترانے گا رہا ہوںدبی چنگاریاں سلگا رہا ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- حیات جاوداں والے نے مارازباں دے کر زباں والے نے ماراHafeez Jalandhari (1900–1982)
- دل بے مدعا ہے اور میں ہوںمگر لب پر دعا ہے اور میں ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- نہ کر دل جوئی اے صیاد میریکہ فطرت ہے بہت آزاد میریHafeez Jalandhari (1900–1982)
- مری مجبوریاں کیا پوچھتے ہوکہ جینے کے لیے مجبور ہوں میںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- اسی سے خوش ہے دل جس سے خفا ہےنہ جانے یہ مجھے کیا ہو گیا ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- بہت برسی گھٹا چھانے سے پہلےوہ آئے ہیں خیال آنے سے پہلےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- نہ سمجھے گل رخوں کے ہم اشارےہمیں پتھر نہ مارے پھول مارےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- امید دید کام آئے نہ آئےسحر آئی ہے شام آئے نہ آئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اگر گل کی کوئی پتی جھڑی ہےتو سو سو بار بلبل گر پڑی ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دلمحبت پر مگر مجبور ہے دلAkhtar Shirani (1905–1948)
- لکھنؤ (اختر شیرانی)Akhtar Shirani (1905–1948)
- جگنوAkhtar Shirani (1905–1948)
- جنوں میں گم ہوئے ہشیار ہو کرہمیں نیند آ گئی بیدار ہو کرSaba Akbarabadi (1908–1991)
- چلا چل مہلت آرام کیا ہےمسافر اور تیرا کام کیا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ہجوم غم ہے قلب غمزدہ ہےمری محفل مرا خلوت کدہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- جنون شوق اب بھی کم نہیں ہےمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- کرشمہ سازئ دل دیکھتا ہوںتمہیں اپنے مقابل دیکھتا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- مجھے ساغر دوبارہ مل گیا ہےتلاطم میں کنارا مل گیا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- محبت کرنے والے کم نہ ہوں گےتری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- ترے جاتے ہی یہ عالم ہے جیسےتجھے دیکھے زمانہ ہو گیا ہےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- مجھے مہماں ہی جانو رات بھر کادیا ہوں دوستوں میں رہ گزر کاUmar Ansari (1912–2005)
- قلم دل میں ڈبویا جا رہا ہےنیا منشور لکھا جا رہا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہتو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیںبہت مغرور ہوتے جا رہے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- وہ یوں کھو کے مجھے پایا کریں گےمرا افسانہ دہرایا کریں گےShakeel Badayuni (1916–1970)
- تری دوری کا مجھ کو غم نہیں ہےکہ فرقت میں بھی لذت کم نہیں ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
- مقدر میں لکھا ہے غم ہی غم کیااسی کے ہو کے رہ جائیں گے ہم کیاRaaz Layalpuri (b. 1920)
- تری دنیا میں رہ کر کیا کریں گےخدایا عمر بھر رویا کریں گےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- مری تصویر لے کر کیا کرو گےمری تصویر اک خواب پریشاںRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- نہ پوچھو وجہ میری چشم تر کیمیاں پھر گر گئی دیوار گھر کیBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- تصور میں سلام آتے رہیں گےمحبت کے پیام آتے رہیں گےOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤپڑا ہر سیل کا ہم پر دباؤEhsan Ali Khan (1922–1991)
- ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہےدیا سا رات بھر جلتا رہا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیںمگر یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیںNasir Kazmi (1925–1972)
- مسلسل بیکلی دل کو رہی ہےمگر جینے کی صورت تو رہی ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- میں پچھلی رات کیا جانے کہاں تھادعاؤں کا بھی لہجہ بے زباں تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
- انہیں فریاد نازیبا لگے ہےستم کرتے بہت اچھا لگے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- مری مستی کے افسانے رہیں گےجہاں گردش میں پیمانے رہیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
- یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہےمجھے رونے کی بیماری نہیں ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- گھٹا ساون کی امڈی آ رہی ہےپیام اشک بھر بھر لا رہی ہےB S Jain Jauhar (b. 1927)
- منیرؔ اس خوب صورت زندگی کوہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہےMunir Niazi (1928–2006)
- بہت روشن ہے شام غم ہماریکسی کی یاد ہے ہم دم ہماریHabib Jalib (1928–1993)
- ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہےاجالا آنکھ سے اوجھل رہا ہےHabib Jalib (1928–1993)
- کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیںیہ مہوش ہم فقیروں کی دعا لیںHabib Jalib (1928–1993)
- کہاں ٹوٹی ہیں زنجیریں ہماریکہاں بدلی ہیں تقریریں ہماریHabib Jalib (1928–1993)