Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musaddas Mahzuf

ہزج مسدس محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. تجھے دیکھا ترے جلووں کو دیکھاخدا کو دیکھ کر اب کیا کروں گاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  2. ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوںشب فرقت بہت گھبرا رہا ہوںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  3. سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہےشب فرقت مجھے کیا ہو گیا ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  4. یہ مانا زندگی ہے چار دن کیبہت ہوتے ہیں یارو چار دن بھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  5. جوانی کے ترانے گا رہا ہوںدبی چنگاریاں سلگا رہا ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  6. حیات جاوداں والے نے مارازباں دے کر زباں والے نے ماراHafeez Jalandhari (1900–1982)
  7. دل بے مدعا ہے اور میں ہوںمگر لب پر دعا ہے اور میں ہوںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  8. نہ کر دل جوئی اے صیاد میریکہ فطرت ہے بہت آزاد میریHafeez Jalandhari (1900–1982)
  9. مری مجبوریاں کیا پوچھتے ہوکہ جینے کے لیے مجبور ہوں میںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  10. اسی سے خوش ہے دل جس سے خفا ہےنہ جانے یہ مجھے کیا ہو گیا ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  11. بہت برسی گھٹا چھانے سے پہلےوہ آئے ہیں خیال آنے سے پہلےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  12. نہ سمجھے گل رخوں کے ہم اشارےہمیں پتھر نہ مارے پھول مارےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  13. امید دید کام آئے نہ آئےسحر آئی ہے شام آئے نہ آئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  14. اگر گل کی کوئی پتی جھڑی ہےتو سو سو بار بلبل گر پڑی ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  15. حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دلمحبت پر مگر مجبور ہے دلAkhtar Shirani (1905–1948)
  16. لکھنؤ (اختر شیرانی)Akhtar Shirani (1905–1948)
  17. جگنوAkhtar Shirani (1905–1948)
  18. جنوں میں گم ہوئے ہشیار ہو کرہمیں نیند آ گئی بیدار ہو کرSaba Akbarabadi (1908–1991)
  19. چلا چل مہلت آرام کیا ہےمسافر اور تیرا کام کیا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  20. ہجوم غم ہے قلب غمزدہ ہےمری محفل مرا خلوت‌ کدہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  21. جنون شوق اب بھی کم نہیں ہےمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  22. کرشمہ سازئ دل دیکھتا ہوںتمہیں اپنے مقابل دیکھتا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  23. مجھے ساغر دوبارہ مل گیا ہےتلاطم میں کنارا مل گیا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  24. محبت کرنے والے کم نہ ہوں گےتری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  25. ترے جاتے ہی یہ عالم ہے جیسےتجھے دیکھے زمانہ ہو گیا ہےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  26. مجھے مہماں ہی جانو رات بھر کادیا ہوں دوستوں میں رہ گزر کاUmar Ansari (1912–2005)
  27. قلم دل میں ڈبویا جا رہا ہےنیا منشور لکھا جا رہا ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  28. اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہتو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  29. وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیںبہت مغرور ہوتے جا رہے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  30. وہ یوں کھو کے مجھے پایا کریں گےمرا افسانہ دہرایا کریں گےShakeel Badayuni (1916–1970)
  31. تری دوری کا مجھ کو غم نہیں ہےکہ فرقت میں بھی لذت کم نہیں ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
  32. مقدر میں لکھا ہے غم ہی غم کیااسی کے ہو کے رہ جائیں گے ہم کیاRaaz Layalpuri (b. 1920)
  33. تری دنیا میں رہ کر کیا کریں گےخدایا عمر بھر رویا کریں گےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  34. مری تصویر لے کر کیا کرو گےمری تصویر اک خواب پریشاںRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  35. نہ پوچھو وجہ میری چشم تر کیمیاں پھر گر گئی دیوار گھر کیBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  36. تصور میں سلام آتے رہیں گےمحبت کے پیام آتے رہیں گےOm Parkash Bajaj (b. 1922)
  37. ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤپڑا ہر سیل کا ہم پر دباؤEhsan Ali Khan (1922–1991)
  38. ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہےدیا سا رات بھر جلتا رہا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
  39. ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیںمگر یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیںNasir Kazmi (1925–1972)
  40. مسلسل بیکلی دل کو رہی ہےمگر جینے کی صورت تو رہی ہےNasir Kazmi (1925–1972)
  41. میں پچھلی رات کیا جانے کہاں تھادعاؤں کا بھی لہجہ بے زباں تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  42. انہیں فریاد نازیبا لگے ہےستم کرتے بہت اچھا لگے ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  43. مری مستی کے افسانے رہیں گےجہاں گردش میں پیمانے رہیں گےKaleem Aajiz (1926–2015)
  44. یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہےمجھے رونے کی بیماری نہیں ہےKaleem Aajiz (1926–2015)
  45. گھٹا ساون کی امڈی آ رہی ہےپیام اشک بھر بھر لا رہی ہےB S Jain Jauhar (b. 1927)
  46. منیرؔ اس خوب صورت زندگی کوہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہےMunir Niazi (1928–2006)
  47. بہت روشن ہے شام غم ہماریکسی کی یاد ہے ہم دم ہماریHabib Jalib (1928–1993)
  48. ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہےاجالا آنکھ سے اوجھل رہا ہےHabib Jalib (1928–1993)
  49. کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیںیہ مہوش ہم فقیروں کی دعا لیںHabib Jalib (1928–1993)
  50. کہاں ٹوٹی ہیں زنجیریں ہماریکہاں بدلی ہیں تقریریں ہماریHabib Jalib (1928–1993)