Poetry
Hazaj Musamman Salim
ہزج مثمن سالم- ہمن ہیں عشق مستانہ ہمن کو ہوشیاری کیارہیں آزاد یا جگ سے ہمن دنیا سے یاری کیاKabeer (d. 1518)
- سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہچھپی باتیں اپس دل کی سنا آہستہ آہستہWali Dakani (1667–1707)
- ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہکہ جیوں گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہWali Dakani (1667–1707)
- ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہکہ جیوں پھاندے میں آتے ہیں ہرن آہستہ آہستہWali Dakani (1667–1707)
- بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہکہ جوں کر گرم ہو ہے آفتاب آہستہ آہستہShah Mubarak Abru (1683–1733)
- رتا ہے ابرواں پر ہاتھ اکثر لاوبالی کاہنر سیکھا ہے اس شمشیر زن نے بید مالی کاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلاچلی جاتی ہے فرمائش کبھی یہ لا کبھی وہ لاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- قیامت راگ ظالم بھاؤ کافر گت ہے اے پنّاتمہارے حسن سو دیکھے سو اک آفت ہے اے پنّاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کہو تم کس سبب روٹھے ہو پیارے بے گنہ ہم سیںچرانے کیوں لگی ہیں یوں تری انکھیاں نگہ ہم سیںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- اسیری بے مزہ لگتی ہے بن صیاد کیا کیجےقفس کے کنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجےWali Uzlat (1692–1775)
- طریقت میں اگر زاہد مجھے گمراہ جانے ہےمرے دل کی حقیقت کو مرا اللہ جانے ہےShah Hatim (1699–1783)
- عجب احوال دیکھا اس زمانے کے امیروں کانہ ان کو ڈر خدا کا اور نہ ان کو خوف پیروں کاShah Hatim (1699–1783)
- کروں ہوں رات دن پھیرے کئی پھیرے میاں صاحبکبھی تو بھی نہ پایا تم کو ہم ڈیرے میاں صاحبShah Hatim (1699–1783)
- میں اپنے دست پر شب خواب میں دیکھا کہ اخگر تھاسحر کو کھل گئی جب آنکھ میرا ہاتھ دل پر تھاShah Hatim (1699–1783)
- ہماری سیر کو گلشن سے کوئے یار بہتر تھانفیر بلبلوں سے نالہ ہائے زار بہتر تھاShah Hatim (1699–1783)
- ہماری عقل بے تدبیر پر تدبیر ہنستی ہےاگر تدبیر ہم کرتے ہیں تو تقدیر ہنستی ہےShah Hatim (1699–1783)
- اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتےپہنچتے جا لب ساقی کوں پیمانے ہوئے ہوتےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تجھے کہتا ہوں اے دل عشق کا اظہار مت کیجوخموشی کے مکاں میں بات اور گفتار مت کیجوSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- سنے راتوں کوں گر جنگل میں میرے غم کی واویلاتو مجنوں قبر سیں اٹھ کر پکارے آہ یا لیلیٰSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- کبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہوکبھی تیر نگاہ تند کا برساؤ کرتے ہوSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- ہوس کی آنکھ سیں وو چہرۂ روشن نہ دیکھو گےتو چہرہ تو کہاں پن گوشۂ دامن نہ دیکھو گےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقےکہیں ہیں جس کو سوداؔ وہ دل آگاہ کے صدقےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- عبث تو گھر بساتا ہے مری آنکھوں میں اے پیارےکسی نے آج تک دیکھا بھی ہے پانی پہ گھر ٹھہراMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کامحبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- نہیں ہے گھر کوئی ایسا جہاں اس کو نہ دیکھا ہوکنھیا سے نہیں کچھ کم صنم میرا وہ ہرجائیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ترے مژگاں کی فوجیں باندھ کر صف جب ہوئیں کھڑیاںکیا عالم کو سارے قتل لو تھیں ہر طرف پڑیاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- تمہارے ہجر میں رہتا ہے ہم کو غم میاں صاحبخدا جانے جئیں گے یا مریں گے ہم میاں صاحبTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کسی گل میں نہیں پانے کی تو بوئے وفا ہرگزعبث اپنا دل اے بلبل چمن میں مت لگا ہرگزTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپناہوا معلوم یوں شاید کیا کم ان نے پیار اپناTaban Abdul Hai (1715–1749)
- مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہےکہ ہر جلوے میں اس کے کیا کہوں اور ہی جھمکا ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- نہ کوئی دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپناسناؤں کس کو غم اپنا الم اپنا فغاں اپناTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کےستم گر بے مروت بے وفا بے رحم اچپل کےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- خدا دیوے اگر قدرت مجھے تو ضد ہے زاہد کیجہاں تک مسجدیں ہیں میں بناؤں توڑ بت خانہTaban Abdul Hai (1715–1749)
- چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنمبہار باغ گو یوں ہی رہی لیکن کدھر شبنمKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کوشہادت غیب کی خاطر تو حاضر ہے گواہی کوKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کوعیاں جب ہر جگہ دیکھوں اسی کے ناز پنہاں کوKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- عبث ہیں ناصحا ہم سے ز خود رفتوں کی تدبیریںرکے ہے بحر کب گو موج سے ہوں لاکھ زنجیریںQaem Chandpuri (1722–1793)
- نگاہوں سے نگاہیں سامنے ہوتے ہی جب لڑیاںیکایک کھل گئیں دونوں طرف سے دل کی کلجھڑیاںQaem Chandpuri (1722–1793)
- نہ بیم غم ہے نے شادی کی ہم امید کرتے ہیںقلندر ہیں جو پیش آ جائے سب کچھ دید کرتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگامآل اپنا ترے غم میں خدا جانے کہ کیا ہوگاMir Taqi Mir (1723–1810)
- غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کارواج اس ملک میں ہے درد و داغ و رنج و کلفت کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- تحیات اے عزیزاں بابت آل پیمبرؐ ہےدرود اے دوستاں شائستۂ اولاد حیدر ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کسی موسم کی وہ باتیں جو تیری یاد کرتا ہوںانہیں باتوں کو پھر پھر کہہ دل اپنا شاد کرتا ہوںMir Hasan (1727–1786)
- محبت میں تری جب مجھ کو عالم نے ملامت کیدل و جاں نے تب آپس میں مبارک اور سلامت کیMir Hasan (1727–1786)
- مزا بے ہوشیٔ الفت کا ہوشیاروں سے مت پوچھوعزیزاں خواب کی لذت کو بے داروں سے مت پوچھوMir Hasan (1727–1786)
- تمہیں غیروں سے کب فرصت ہم اپنے غم سے کم خالیچلو بس ہو چکا ملنا نہ تم خالی نہ ہم خالیJafar Ali Hasrat (1734–1792)
- ادا و ناز میں کچھ کچھ جو ہوش اس نے سنبھالا ہےتو اپنے حسن کا کیا کیا دلوں میں شور ڈالا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ادھر اس کی نگہ کا ناز سے آ کر پلٹ جاناادھر مرنا تڑپنا غش میں آنا دم الٹ جاناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بگولے اٹھ چلے تھے اور نہ تھی کچھ دیر آندھی میںکہ ہم سے یار سے آ ہو گئی مڈبھیڑ آندھی میںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بھرے ہیں اس پری میں اب تو یارو سر بسر موتیگلے میں کان میں نتھ میں جدھر دیکھو ادھر موتیNazeer Akbarabadi (1735–1830)