Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Salim

ہزج مثمن سالم
Poet
Meter
Clear
  1. ہمن ہیں عشق مستانہ ہمن کو ہوشیاری کیارہیں آزاد یا جگ سے ہمن دنیا سے یاری کیاKabeer (d. 1518)
  2. سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہچھپی باتیں اپس دل کی سنا آہستہ آہستہWali Dakani (1667–1707)
  3. ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہکہ جیوں گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہWali Dakani (1667–1707)
  4. ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہکہ جیوں پھاندے میں آتے ہیں ہرن آہستہ آہستہWali Dakani (1667–1707)
  5. بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہکہ جوں کر گرم ہو ہے آفتاب آہستہ آہستہShah Mubarak Abru (1683–1733)
  6. رتا ہے ابرواں پر ہاتھ اکثر لاوبالی کاہنر سیکھا ہے اس شمشیر زن نے بید مالی کاShah Mubarak Abru (1683–1733)
  7. رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلاچلی جاتی ہے فرمائش کبھی یہ لا کبھی وہ لاShah Mubarak Abru (1683–1733)
  8. قیامت راگ ظالم بھاؤ کافر گت ہے اے پنّاتمہارے حسن سو دیکھے سو اک آفت ہے اے پنّاShah Mubarak Abru (1683–1733)
  9. کہو تم کس سبب روٹھے ہو پیارے بے گنہ ہم سیںچرانے کیوں لگی ہیں یوں تری انکھیاں نگہ ہم سیںShah Mubarak Abru (1683–1733)
  10. اسیری بے مزہ لگتی ہے بن صیاد کیا کیجےقفس کے کنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجےWali Uzlat (1692–1775)
  11. طریقت میں اگر زاہد مجھے گمراہ جانے ہےمرے دل کی حقیقت کو مرا اللہ جانے ہےShah Hatim (1699–1783)
  12. عجب احوال دیکھا اس زمانے کے امیروں کانہ ان کو ڈر خدا کا اور نہ ان کو خوف پیروں کاShah Hatim (1699–1783)
  13. کروں ہوں رات دن پھیرے کئی پھیرے میاں صاحبکبھی تو بھی نہ پایا تم کو ہم ڈیرے میاں صاحبShah Hatim (1699–1783)
  14. میں اپنے دست پر شب خواب میں دیکھا کہ اخگر تھاسحر کو کھل گئی جب آنکھ میرا ہاتھ دل پر تھاShah Hatim (1699–1783)
  15. ہماری سیر کو گلشن سے کوئے یار بہتر تھانفیر بلبلوں سے نالہ ہائے زار بہتر تھاShah Hatim (1699–1783)
  16. ہماری عقل بے تدبیر پر تدبیر ہنستی ہےاگر تدبیر ہم کرتے ہیں تو تقدیر ہنستی ہےShah Hatim (1699–1783)
  17. اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتےپہنچتے جا لب ساقی کوں پیمانے ہوئے ہوتےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  18. تجھے کہتا ہوں اے دل عشق کا اظہار مت کیجوخموشی کے مکاں میں بات اور گفتار مت کیجوSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  19. سنے راتوں کوں گر جنگل میں میرے غم کی واویلاتو مجنوں قبر سیں اٹھ کر پکارے آہ یا لیلیٰSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  20. کبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہوکبھی تیر نگاہ تند کا برساؤ کرتے ہوSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  21. ہوس کی آنکھ سیں وو چہرۂ روشن نہ دیکھو گےتو چہرہ تو کہاں پن گوشۂ دامن نہ دیکھو گےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  22. برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقےکہیں ہیں جس کو سوداؔ وہ دل آگاہ کے صدقےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  23. عبث تو گھر بساتا ہے مری آنکھوں میں اے پیارےکسی نے آج تک دیکھا بھی ہے پانی پہ گھر ٹھہراMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  24. نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کامحبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  25. نہیں ہے گھر کوئی ایسا جہاں اس کو نہ دیکھا ہوکنھیا سے نہیں کچھ کم صنم میرا وہ ہرجائیMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  26. ترے مژگاں کی فوجیں باندھ کر صف جب ہوئیں کھڑیاںکیا عالم کو سارے قتل لو تھیں ہر طرف پڑیاںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  27. تمہارے ہجر میں رہتا ہے ہم کو غم میاں صاحبخدا جانے جئیں گے یا مریں گے ہم میاں صاحبTaban Abdul Hai (1715–1749)
  28. کسی گل میں نہیں پانے کی تو بوئے وفا ہرگزعبث اپنا دل اے بلبل چمن میں مت لگا ہرگزTaban Abdul Hai (1715–1749)
  29. کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپناہوا معلوم یوں شاید کیا کم ان نے پیار اپناTaban Abdul Hai (1715–1749)
  30. مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہےکہ ہر جلوے میں اس کے کیا کہوں اور ہی جھمکا ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  31. نہ کوئی دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپناسناؤں کس کو غم اپنا الم اپنا فغاں اپناTaban Abdul Hai (1715–1749)
  32. ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کےستم گر بے مروت بے وفا بے رحم اچپل کےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  33. خدا دیوے اگر قدرت مجھے تو ضد ہے زاہد کیجہاں تک مسجدیں ہیں میں بناؤں توڑ بت خانہTaban Abdul Hai (1715–1749)
  34. چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنمبہار باغ گو یوں ہی رہی لیکن کدھر شبنمKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  35. سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کوشہادت غیب کی خاطر تو حاضر ہے گواہی کوKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  36. ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کوعیاں جب ہر جگہ دیکھوں اسی کے ناز پنہاں کوKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  37. عبث ہیں ناصحا ہم سے ز خود رفتوں کی تدبیریںرکے ہے بحر کب گو موج سے ہوں لاکھ زنجیریںQaem Chandpuri (1722–1793)
  38. نگاہوں سے نگاہیں سامنے ہوتے ہی جب لڑیاںیکایک کھل گئیں دونوں طرف سے دل کی کلجھڑیاںQaem Chandpuri (1722–1793)
  39. نہ بیم غم ہے نے شادی کی ہم امید کرتے ہیںقلندر ہیں جو پیش آ جائے سب کچھ دید کرتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  40. بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگامآل اپنا ترے غم میں خدا جانے کہ کیا ہوگاMir Taqi Mir (1723–1810)
  41. غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کارواج اس ملک میں ہے درد و داغ و رنج و کلفت کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  42. تحیات اے عزیزاں بابت آل پیمبرؐ ہےدرود اے دوستاں شائستۂ اولاد حیدر ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  43. کسی موسم کی وہ باتیں جو تیری یاد کرتا ہوںانہیں باتوں کو پھر پھر کہہ دل اپنا شاد کرتا ہوںMir Hasan (1727–1786)
  44. محبت میں تری جب مجھ کو عالم نے ملامت کیدل و جاں نے تب آپس میں مبارک اور سلامت کیMir Hasan (1727–1786)
  45. مزا بے ہوشیٔ الفت کا ہوشیاروں سے مت پوچھوعزیزاں خواب کی لذت کو بے داروں سے مت پوچھوMir Hasan (1727–1786)
  46. تمہیں غیروں سے کب فرصت ہم اپنے غم سے کم خالیچلو بس ہو چکا ملنا نہ تم خالی نہ ہم خالیJafar Ali Hasrat (1734–1792)
  47. ادا و ناز میں کچھ کچھ جو ہوش اس نے سنبھالا ہےتو اپنے حسن کا کیا کیا دلوں میں شور ڈالا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  48. ادھر اس کی نگہ کا ناز سے آ کر پلٹ جاناادھر مرنا تڑپنا غش میں آنا دم الٹ جاناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  49. بگولے اٹھ چلے تھے اور نہ تھی کچھ دیر آندھی میںکہ ہم سے یار سے آ ہو گئی مڈبھیڑ آندھی میںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  50. بھرے ہیں اس پری میں اب تو یارو سر بسر موتیگلے میں کان میں نتھ میں جدھر دیکھو ادھر موتیNazeer Akbarabadi (1735–1830)