Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- فرما رہے تھے شیخ طریقِ عمل پہ وعظکُفّار ہند کے ہیں تجارت میں سخت کوشAllama Iqbal (1877–1938)
- ہاں کیا کہا کہ غیر سے الفت بھی کچھ نہیںیہ سچ اگر ہے پھر مجھے حجت بھی کچھ نہیںFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- امید وصل اس سے خدا کی قسم نہیںکہتے ہیں عرض بوسہ پہ وہ دم بہ دم نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- اے شیخ مجھ کو خواہش باغ ارم نہیںکوچہ بتوں کا میرے لیے اس سے کم نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- ہاں جھوٹ ہے وہ جان سے تم پر فدا نہیںسچ کہہ رہے ہو غیر کا یہ حوصلہ نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- ہر دم بتائے جاتے ہیں ہم بے وفا نہیںتم کو نہیں یقین تو شک کی دوا نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- کردار دیکھنا ہے تو صورت نہ دیکھیےملتا نہیں زمیں کا پتا آسمان سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
- دور نگاہ ساقی مستانہ ایک ہےپیمانے دو ہیں گردش پیمانہ ایک ہےChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- دیتے ہیں میرے جام میں دیکھیں شراب کبآتا ہے ماہتاب کے گھر آفتاب کبChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- ہر آرزو میں رنگ ہے باغ و بہار کاکانٹا بھی ایک پھول ہے اس خار زار کاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- تیرا نگاہ شوق کوئی راز داں نہ تھاآنکھوں کو ورنہ جلوۂ جاناں کہاں نہ تھاFani Badayuni (1879–1941)
- جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دوراس آپ کی زمیں سے الگ آسماں سے دورFani Badayuni (1879–1941)
- دنیائے حسن و عشق میں کس کا ظہور تھاہر آنکھ برق پاش تھی ہر ذرہ طور تھاFani Badayuni (1879–1941)
- لے اعتبار وعدۂ فردا نہیں رہااب یہ بھی زندگی کا سہارا نہیں رہاFani Badayuni (1879–1941)
- مر کر ترے خیال کو ٹالے ہوئے تو ہیںہم جان دے کے دل کو سنبھالے ہوئے تو ہیںFani Badayuni (1879–1941)
- مر کر مریض غم کی وہ حالت نہیں رہییعنی وہ اضطراب کی صورت نہیں رہیFani Badayuni (1879–1941)
- وہ پوچھتے ہیں ہجر میں ہے اضطراب کیاحیران ہوں کہ دوں انہیں اس کا جواب کیاFani Badayuni (1879–1941)
- اے بے خودی ٹھہر کہ بہت دن گزر گئےمجھ کو خیال یار کہیں ڈھونڈتا نہ ہوFani Badayuni (1879–1941)
- تاکید ہے کہ دیدۂ دل وا کرے کوئیمطلب یہ ہے کہ دور سے دیکھا کرے کوئیFani Badayuni (1879–1941)
- دل اور دل میں یاد کسی خوش خرام کیسینے میں حشر لے کے چلے ہیں جہاں سے ہمFani Badayuni (1879–1941)
- دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھآئینہ دیکھ اور ذرا مسکرا کے دیکھFani Badayuni (1879–1941)
- مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کامشتاق ہوں وصیٔ نبی کے جمال کاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کبجوبن کا ان کے دیکھیے ہوگا ابھار کبAagha Akbarabadi (b. 1879)
- تا مرگ مجھ سے ترک نہ ہوگی کبھی نمازپر نشۂ شراب نے مجبور کر دیاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- گنجائش کلام کہاں خیر و شر میں ہےجب تم بشر میں ہو تو سبھی کچھ بشر میں ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- ہر طور ہر طرح کی جو ذلت مجھی کو ہےدنیا میں کیا کسی سے محبت مجھی کو ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- پوشیدہ دیکھتی ہے کسی کی نظر مجھےدیکھ اے نگاہ شوق تو رسوا نہ کر مجھےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیاترکیب دل نے درد کو درماں بنا دیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- حد ہو کوئی تو صبر ترے ہجر پر کریںآخر ہم ایک حال میں کب تک بسر کریںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئےشاید قدم جنوں کے گلستاں میں آ گئےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- زندان کائنات میں محصور کر دیامحفل سے اپنی تم نے بہت دور کر دیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میںمیں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئےشوق کلام و ذوق تماشا لیے ہوئےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملاعرفان غم ہوا مجھے اپنا پتا ملاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوادل میں جو تم نے آگ لگا دی تو کیا ہواSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیےپردہ اٹھا کے چاہنے والوں کو دیکھیےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- ہم سوچتے ہیں رات میں تاروں کو دیکھ کرشمعیں زمین کی ہیں جو داغ آسماں کے ہیںChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- رامائن کا ایک سینChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- بیٹھا ہوں پاؤں توڑ کے تدبیر دیکھنامنزل قدم سے لپٹی ہے تقدیر دیکھناYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- جب حسن بے مثال پر اتنا غرور تھاآئینہ دیکھنا تمہیں پھر کیا ضرور تھاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- چلتا نہیں فریب کسی عذر خواہ کادل ہے بغل میں یا کوئی دفتر گناہ کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- قصہ کتاب عمر کا کیا مختصر ہوارخ داستان غم کا ادھر سے ادھر ہواYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کچھ زرد زرد پتے نشاں جو خزاں کے ہیںنیرنگ دل فریب یہ سب آسماں کے ہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کس دل سے ترک لذت دنیا کرے کوئیوہ خواب دل فریب کہ دیکھا کرے کوئیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- وحشت تھی ہم تھے سایۂ دیوار یار تھایا یہ کہو کہ سر پہ کوئی جن سوار تھاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میںیادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہودل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہےمٹنے کو یوں مٹیں کہ ابد تک نشاں رہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- آلام روزگار کو آساں بنا دیاجو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیاAsghar Gondvi (1884–1936)
- اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئےقطرہ ہے بے قرار سمندر لیے ہوئےAsghar Gondvi (1884–1936)