Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- یہی ہے ان کی نزاکت تو حال کیا ہوگامجھے یہ ڈر ہے کہ وقت وصال کیا ہوگاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرفچلا ہے چھوڑ کے بسمل مجھے ہرن کی طرفNazm Tabatabai (1854–1933)
- کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیاہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیاBekhud Badayuni (1857–1912)
- یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میراکرے گا مجھ کو زمانے میں خوار دل میراBekhud Badayuni (1857–1912)
- تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کیچھری تھی میرے لیے جو شکن تھی بستر کیSafi Lakhnavi (1862–1950)
- حجاب دور تمہارا شباب کر دے گایہ وہ نشہ ہے تمہیں بے حجاب کر دے گاBekhud Dehlvi (1863–1955)
- ہر ایک بات تری بے ثبات کتنی ہےپلٹنا بات کو دم بھر میں بات کتنی ہےBekhud Dehlvi (1863–1955)
- حریص ہو نہ جہاں میں نہ اپنا جی بھٹکازباں بگڑ گئی گر اس کو آ گیا چٹکاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- غضب کے طیش میں وہ شوخ دیدہ آیا تھابہ شکل قہر تھا خنجر کشیدہ آیا تھاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- کہاں ہے وہ گل خنداں ہمیں نہیں معلومنہ پوچھ بلبل نالاں ہمیں نہیں معلومPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- وہ رم شعار مرا شوخ دیدہ آیا تھاوہ عشوہ سنج کشیدہ کشیدہ آیا تھاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- فلک پہ چاند ستارے نکلتے ہیں ہر شبستم یہی ہے نکلتا نہیں ہمارا چاندPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- وہ ماہ جلوہ دکھا کر ہمیں ہوا روپوشیہ آرزو ہے کہ نکلے کہیں دوبارا چاندPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتےہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیرییہ ابتدا ہے تو کیا ہوگی انتہا تیریJaleel Manikpuri (1866–1946)
- شباب ہو کہ نہ ہو حسن یار باقی ہےیہاں کوئی بھی ہو موسم بہار باقی ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- عجیب حسن ہے ان سرخ سرخ گالوں میںمئے دوآتشہ بھر دی ہے دو پیالوں میںJaleel Manikpuri (1866–1946)
- ہے یاد یار سے اک آگ مشتعل دل میںعجب ہے خلد و جہنم ہیں متصل دل میںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیںخدا کی دی ہوئی عزت تباہ کرتے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کایہ پیش خیمہ ہے ظالم تری تباہی کاParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کےکہ تنکے جمع کریں پھر نہ آشیانے کےSaail Dehlvi (1867–1945)
- جنوں کے جوش میں پھرتے ہیں مارے مارے اباجل لگا دے کہیں گور کے کنارے ابHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- شب وصال لگایا جو ان کو سینے سےتو ہنس کے بولے الگ بیٹھیے قرینے سےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- مصیبتیں تو اٹھا کر بڑی بڑی بھولےمگر فراق کی ایذا نہ اک گھڑی بھولےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- اخیر وقت ہے کس منہ سے جاؤں مسجد کوتمام عمر تو گزری شراب خانے میںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظنشے کی بات نہیں اعتبار کے قابلHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جاپٹک دے ساغر خالی شراب لیتا جاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- تلاش رنگ میں آوارہ مثل بو ہوں میںگزر کے آپ سے اپنی ہی جستجو ہوں میںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- جنم اسٹمیZafar Ali Khan (1873–1956)
- جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائےعجب نہیں کہ ہمارا بھی کام ہو جائےHasrat Mohani (1875–1951)
- بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کےنگاہ شوق کسی کی نگاہ سے مل کےBedam Warsi (1876–1936)
- سہارا موجوں کا لے لے کے بڑھ رہا ہوں میںسفینہ جس کا ہے طوفاں وہ ناخدا ہوں میںBedam Warsi (1876–1936)
- کہوں کچھ ان سے مگر یہ خیال ہوتا ہےشکایتوں کا نتیجہ ملال ہوتا ہےQamar Badayuni (1876–1941)
- ایک پہا ڑ اور گلہریAllama Iqbal (1877–1938)
- بلالAllama Iqbal (1877–1938)
- سر گزشت آدمAllama Iqbal (1877–1938)
- ابرAllama Iqbal (1877–1938)
- کنار راویAllama Iqbal (1877–1938)
- التجائے مسافرAllama Iqbal (1877–1938)
- حقیقت حسنAllama Iqbal (1877–1938)
- اختر صبحAllama Iqbal (1877–1938)
- مثالِ پرتوِ مے طوفِ جام کرتے ہیںیہی نماز ادا صبح و شام کرتے ہیںAllama Iqbal (1877–1938)
- ستارہAllama Iqbal (1877–1938)
- قرب سلطانAllama Iqbal (1877–1938)
- اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریادنہیں ہے داد کا طالب یہ بندہء آزادAllama Iqbal (1877–1938)
- مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و توپلا کے مجھ کو مے لا الہ الا ھوAllama Iqbal (1877–1938)
- وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا ہے جُنوںخدا مجھے نفَسِ جبرئیل دے تو کہوںAllama Iqbal (1877–1938)
- ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیقیہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریقAllama Iqbal (1877–1938)
- کمالِ تَرک نہیں آب و گِل سے مہجوریکمالِ ترک ہے تسخیرِ خاکی و نوریAllama Iqbal (1877–1938)
- تری نگاہ فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہترا گُنہ کہ نخیلِ بلند کا ہے گناہAllama Iqbal (1877–1938)