Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
Poet
Meter
Clear
  1. شب سیاہ ہوا روز اے سجن تجھ بنمثال شمع جلے اہل انجمن تجھ بنShah Mubarak Abru (1683–1733)
  2. کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کاتباہے حال تری زلف کے اسیروں کاShah Mubarak Abru (1683–1733)
  3. گلی اکیلی ہے پیارے اندھیری راتیں ہیںاگر ملو تو سجن سو طرح کی گھاتیں ہیںShah Mubarak Abru (1683–1733)
  4. دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھبکہ ہو جہاں پہ نہ ظاہر یہ ہے مرا مذہبWali Uzlat (1692–1775)
  5. شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کیچھپی سحر میں شب کامرانی دو دن کیWali Uzlat (1692–1775)
  6. نہ شوخیوں سے کرے ہیں وہ چشم گلگوں رقصکہ ان کے پینے سے کرتا ہے واں مرا خوں رقصWali Uzlat (1692–1775)
  7. ہے اس کی زلف سے نت پنجۂ عدو گستاخمرا غبار وہ دامن سے ہے کبھو گستاخWali Uzlat (1692–1775)
  8. تری جو زلف کا آیا خیال آنکھوں میںوہیں کھٹکنے لگا بال بال آنکھوں میںShah Hatim (1699–1783)
  9. تو صبح دم نہ نہا بے حجاب دریا میںپڑے گا شور کہ ہے آفتاب دریا میںShah Hatim (1699–1783)
  10. چمن میں دہر کے ہر گل ہے کان کی صورتہر ایک غنچہ ہے اس میں زبان کی صورتShah Hatim (1699–1783)
  11. دہن ہے تنگ شکر اور شکر ترا ہے کلاملباں ہیں پستہ زنخ سیب و چشم ہیں بادامShah Hatim (1699–1783)
  12. نہ کچھ ستم سے ترے آہ آہ کرتا ہوںمیں اپنے دل کی مدد گاہ گاہ کرتا ہوںShah Hatim (1699–1783)
  13. بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہوہوا ہو ابر ہو ساقی ہو اور دریا ہوMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  14. مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کےکہ بو کچھ اور میں پائی دماغ میں گل کےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  15. نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہےہماری خاک سے دیکھو تو کچھ رہا بھی ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  16. گلہ لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کالہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  17. کسی کا کام دل اس چرخ سے ہوا بھی ہےکوئی زمانہ میں آرام سے رہا بھی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  18. حرم کو چھوڑ رہوں کیوں نہ بت کدے میں شیخکہ یاں ہر ایک کو ہے مرتبہ خدائی کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  19. جہاں کو وہ لب مے گوں خراب رکھتے ہیںخدا خبر کہ یہ کیسی شراب رکھتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  20. کبھو دکھا کے کمر اور کبھو دہاں مجھ کوبہت بتنگ کیا تو نے اے میاں مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
  21. میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھاپر آشنا کوئی دیکھا نہ مہرباں دیکھاQaem Chandpuri (1722–1793)
  22. نہ پوچھ گریۂ خوں کا ترے ہے کیا باعثسبب تو اور نہیں کچھ مگر ترا باعثQaem Chandpuri (1722–1793)
  23. نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میںکبھو جو روئے تھے خوں جم رہا ہے آنکھوں میںQaem Chandpuri (1722–1793)
  24. نہ کہہ کہ بے اثر انفاس سرد ہوتے ہیںمجھی سے کیا کوئی سب اہل درد ہوتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  25. بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کیکسو سے کام نہیں رکھتی جنس آدم کیMir Taqi Mir (1723–1810)
  26. جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیںبھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  27. جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کوکوئی تو چاہیے جی بھی نیاز کرنے کوMir Taqi Mir (1723–1810)
  28. چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیاجمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  29. حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہےسماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  30. دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کاجو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  31. رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میرینہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میریMir Taqi Mir (1723–1810)
  32. رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہےہزار حیف کمینوں کا چرخ حامی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  33. رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کالگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  34. سنا ہے حال ترے کشتگاں بیچاروں کاہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  35. قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگےہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگےMir Taqi Mir (1723–1810)
  36. گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کاجگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  37. مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوںتمہارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوںMir Taqi Mir (1723–1810)
  38. در شکایت نفاق یاران زماںMir Taqi Mir (1723–1810)
  39. سنو یہ قصۂ جانکاہ کربلاے حسینرکھو ادھر کو بھی ٹک گوش از براے حسینMir Taqi Mir (1723–1810)
  40. مرثیۂ خروس کہ در خانۂ فقیر بودMir Taqi Mir (1723–1810)
  41. در مدح نواب آصف الدولہ بہادر (I)Mir Taqi Mir (1723–1810)
  42. اسی کی ذات کو ہے دائماً ثبات و قیامقدیر و حی و کریم و مہیمن و منعامNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  43. پھر اس طرف وہ پری رو جھمکتا آتا ہےبرنگ مہر عجب کچھ چمکتا آتا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  44. ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلبوہ خوش ہے درد میں اس کو دوا سے کیا مطلبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  45. تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحبجگر کے داغ جو دھونے تھے دھو لیے صاحبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  46. جو آوے منہ پہ ترے ماہتاب ہے کیا چیزغرض یہ ماہ تو کیا آفتاب ہے کیا چیزNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  47. رہے جو شب کو ہم اس گل کے سات کوٹھے پرتو کیا بہار سے گزری ہے رات کوٹھے پرNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  48. کبھی تو آؤ ہمارے بھی جان کوٹھے پرلیا ہے ہم نے اکیلا مکان کوٹھے پرNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  49. کدھر ہے آج الٰہی وہ شوخ چھل بلیاکہ جس کے غم سے مرا دل ہوا ہے باولیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  50. کسی نے رات کہا اس کی دیکھ کر صورتکہ میں غلام ہوں اس شکل کا بہر صورتNazeer Akbarabadi (1735–1830)