Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- شب سیاہ ہوا روز اے سجن تجھ بنمثال شمع جلے اہل انجمن تجھ بنShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کاتباہے حال تری زلف کے اسیروں کاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- گلی اکیلی ہے پیارے اندھیری راتیں ہیںاگر ملو تو سجن سو طرح کی گھاتیں ہیںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھبکہ ہو جہاں پہ نہ ظاہر یہ ہے مرا مذہبWali Uzlat (1692–1775)
- شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کیچھپی سحر میں شب کامرانی دو دن کیWali Uzlat (1692–1775)
- نہ شوخیوں سے کرے ہیں وہ چشم گلگوں رقصکہ ان کے پینے سے کرتا ہے واں مرا خوں رقصWali Uzlat (1692–1775)
- ہے اس کی زلف سے نت پنجۂ عدو گستاخمرا غبار وہ دامن سے ہے کبھو گستاخWali Uzlat (1692–1775)
- تری جو زلف کا آیا خیال آنکھوں میںوہیں کھٹکنے لگا بال بال آنکھوں میںShah Hatim (1699–1783)
- تو صبح دم نہ نہا بے حجاب دریا میںپڑے گا شور کہ ہے آفتاب دریا میںShah Hatim (1699–1783)
- چمن میں دہر کے ہر گل ہے کان کی صورتہر ایک غنچہ ہے اس میں زبان کی صورتShah Hatim (1699–1783)
- دہن ہے تنگ شکر اور شکر ترا ہے کلاملباں ہیں پستہ زنخ سیب و چشم ہیں بادامShah Hatim (1699–1783)
- نہ کچھ ستم سے ترے آہ آہ کرتا ہوںمیں اپنے دل کی مدد گاہ گاہ کرتا ہوںShah Hatim (1699–1783)
- بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہوہوا ہو ابر ہو ساقی ہو اور دریا ہوMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کےکہ بو کچھ اور میں پائی دماغ میں گل کےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہےہماری خاک سے دیکھو تو کچھ رہا بھی ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- گلہ لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کالہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- کسی کا کام دل اس چرخ سے ہوا بھی ہےکوئی زمانہ میں آرام سے رہا بھی ہےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- حرم کو چھوڑ رہوں کیوں نہ بت کدے میں شیخکہ یاں ہر ایک کو ہے مرتبہ خدائی کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- جہاں کو وہ لب مے گوں خراب رکھتے ہیںخدا خبر کہ یہ کیسی شراب رکھتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- کبھو دکھا کے کمر اور کبھو دہاں مجھ کوبہت بتنگ کیا تو نے اے میاں مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
- میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھاپر آشنا کوئی دیکھا نہ مہرباں دیکھاQaem Chandpuri (1722–1793)
- نہ پوچھ گریۂ خوں کا ترے ہے کیا باعثسبب تو اور نہیں کچھ مگر ترا باعثQaem Chandpuri (1722–1793)
- نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میںکبھو جو روئے تھے خوں جم رہا ہے آنکھوں میںQaem Chandpuri (1722–1793)
- نہ کہہ کہ بے اثر انفاس سرد ہوتے ہیںمجھی سے کیا کوئی سب اہل درد ہوتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کیکسو سے کام نہیں رکھتی جنس آدم کیMir Taqi Mir (1723–1810)
- جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیںبھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کوکوئی تو چاہیے جی بھی نیاز کرنے کوMir Taqi Mir (1723–1810)
- چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیاجمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہےسماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کاجو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میرینہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میریMir Taqi Mir (1723–1810)
- رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہےہزار حیف کمینوں کا چرخ حامی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کالگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- سنا ہے حال ترے کشتگاں بیچاروں کاہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگےہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگےMir Taqi Mir (1723–1810)
- گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کاجگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوںتمہارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوںMir Taqi Mir (1723–1810)
- در شکایت نفاق یاران زماںMir Taqi Mir (1723–1810)
- سنو یہ قصۂ جانکاہ کربلاے حسینرکھو ادھر کو بھی ٹک گوش از براے حسینMir Taqi Mir (1723–1810)
- مرثیۂ خروس کہ در خانۂ فقیر بودMir Taqi Mir (1723–1810)
- در مدح نواب آصف الدولہ بہادر (I)Mir Taqi Mir (1723–1810)
- اسی کی ذات کو ہے دائماً ثبات و قیامقدیر و حی و کریم و مہیمن و منعامNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- پھر اس طرف وہ پری رو جھمکتا آتا ہےبرنگ مہر عجب کچھ چمکتا آتا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلبوہ خوش ہے درد میں اس کو دوا سے کیا مطلبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحبجگر کے داغ جو دھونے تھے دھو لیے صاحبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو آوے منہ پہ ترے ماہتاب ہے کیا چیزغرض یہ ماہ تو کیا آفتاب ہے کیا چیزNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- رہے جو شب کو ہم اس گل کے سات کوٹھے پرتو کیا بہار سے گزری ہے رات کوٹھے پرNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کبھی تو آؤ ہمارے بھی جان کوٹھے پرلیا ہے ہم نے اکیلا مکان کوٹھے پرNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کدھر ہے آج الٰہی وہ شوخ چھل بلیاکہ جس کے غم سے مرا دل ہوا ہے باولیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کسی نے رات کہا اس کی دیکھ کر صورتکہ میں غلام ہوں اس شکل کا بہر صورتNazeer Akbarabadi (1735–1830)