Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- کیوں نہ افسانۂ غم کیف کا عنواں ٹھہرےشدت درد ہی جب درد کا درماں ٹھہرےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- من بھی شاعر کی طرح تن بھی غزل جیسا ہےیہ ترے روپ کا درپن بھی غزل جیسا ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہوگااس کے دروازے پہ اب تک مرا سایہ ہوگاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- عشق پھر عشق ہے آشفتہ سری مانگے ہےہوش کے دور میں بھی جامہ دری مانگے ہےUnwan Chishti (1937–2004)
- اپنے ماضی کی طرح اب بھی درخشندہ ہوںنازش حال ہوں صورت گر آئندہ ہوںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- جب محبت کا کسی شے پہ اثر ہو جائےایک ویران مکاں بولتا گھر ہو جائےdarvesh bharti (b. 1937)
- اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والاہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والاNida Fazli (1938–2016)
- اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائےگھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائےNida Fazli (1938–2016)
- اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیںرخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیںNida Fazli (1938–2016)
- اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہےجو ہوا وہ نہ ہوا ہوتا یہ غم باقی ہےNida Fazli (1938–2016)
- اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگاوہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگاNida Fazli (1938–2016)
- چاند سے پھول سے یا میری زباں سے سنئےہر جگہ آپ کا قصہ ہے جہاں سے سنئےNida Fazli (1938–2016)
- دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھوزندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھوNida Fazli (1938–2016)
- رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے گیدن نہیں بدلے گا تاریخ بدل جائے گیNida Fazli (1938–2016)
- کچے بخیے کی طرح رشتے ادھڑ جاتے ہیںلوگ ملتے ہیں مگر مل کے بچھڑ جاتے ہیںNida Fazli (1938–2016)
- کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہےسب نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہےNida Fazli (1938–2016)
- وقت بنجارا صفت لمحہ بہ لمحہ اپناکس کو معلوم یہاں کون ہے کتنا اپناNida Fazli (1938–2016)
- ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرامیں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میراNida Fazli (1938–2016)
- دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہدل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئےNida Fazli (1938–2016)
- غم ہے آوارہ اکیلے میں بھٹک جاتا ہےجس جگہ رہئے وہاں ملتے ملاتے رہئےNida Fazli (1938–2016)
- کیوں نہ ہم آج حقیقت ہی بتا دیں اپنیجسم اپنا ہی نہ اس جسم میں سانسیں اپنیPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ہم ہیں طوفان حوادث سے گزرنے والےہم نہیں موج بلا خیز سے ڈرنے والےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- جس طرف جاؤ گے اک شور سنائی دے گاکہیں لیکن کوئی چہرہ نہ دکھائی دے گاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- کس لیے دشت میں گھر کوئی بنایا جائےپاس کیا ہے جو فصیلوں میں چھپایا جائےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- میں جو دنیا کی کہانی میں نہ کھویا ہوتامیرے خامے نے مسلسل مجھے لکھا ہوتاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- تمہی سردار ہو گلشن کے یہ بتلا دیناکوئی ہمسر ہو تو دیوار میں چنوا دیناOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- رونق کوچہ و بازار ہیں تیری آنکھیںلوگ سودا ہیں خریدار ہیں تیری آنکھیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ان مکانوں میں بھی انسان ہی رہتے ہوں گےرونقیں جن میں نہیں آپ کی محفل کی سیOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہےپھر یہ پوچھوں کہ یہ پردا ہے تو جلوہ کیا ہےEhsan Akbar (b. 1938)
- بخت جاگے تو جہاں دیدہ سی ہو جاتی ہےشخصیت اور بھی سنجیدہ سی ہو جاتی ہےZafar Kaleem (b. 1938)
- ہم فقیروں سے سمجھ ہم کو نہ سمجھا کیا ہےہم سمجھ بوجھ کے بیٹھے ہیں کہ دنیا کیا ہےZafar Kaleem (b. 1938)
- جو حسیں حسن تغافل سے گزر جاتا ہےچاہنے والوں کے وہ دل سے اتر جاتا ہےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- کوچۂ عشق سے کچھ خواب اٹھا کر لے آئےتھے گدا تحفۂ نایاب اٹھا کر لے آئےObaidullah Aleem (1939–1998)
- وحشتیں کیسی ہیں خوابوں سے الجھتا کیا ہےایک دنیا ہے اکیلی تو ہی تنہا کیا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتےہم بہرحال بسر خواب تمہارا کرتےObaidullah Aleem (1939–1998)
- ہم نے کھلنے نہ دیا بے سر و سامانی کوکہاں لے جائیں مگر شہر کی ویرانی کوObaidullah Aleem (1939–1998)
- آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گاجانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گاObaidullah Aleem (1939–1998)
- جس کو ملنا نہیں پھر اس سے محبت کیسیسوچتا جاؤں مگر دل میں بسائے جاؤںObaidullah Aleem (1939–1998)
- شاید اس راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیںدھوپ میں چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤںObaidullah Aleem (1939–1998)
- اس طرف آگ کا دریا ہے ادھر کھائی ہےہم نے بھی پار اترنے کی قسم کھائی ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- خواب آنکھوں کی گلی چھوڑ کے جانے نکلےہم ادھر نیند کی دیوار گرانے نکلےGhayas Mateen (b. 1939)
- شام کا رنگ جو گہرا ہوا آئینے میںاک ستارہ سا چمکنے لگا آئینے میںGhayas Mateen (b. 1939)
- جب ہوئی خاک تو اکسیر ہوئی ہے باباآرزو مٹنے سے تاثیر ہوئی ہے باباJafar Raza (1939–2022)
- چاندنی رات میں صندل سا بکھرتا سایہایک آسیب کی صورت نظر آیا سایہJafar Raza (1939–2022)
- ذات کے گرد فصیلیں ہیں ریاضت معلومصرف جنت کے لیے ہے تو عبادت معلومJafar Raza (1939–2022)
- وعدۂ الفت و پیمان وفا سے توبہتجربہ کہتا ہے اس حسن ادا سے توبہJafar Raza (1939–2022)
- عشق میں وصل کی تدبیر بتانے والاکون تھا زہر کو اکسیر بتانے والاEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- عہد رفتہ کی لکیروں پہ نہ چلتے رہئےوقت کے ساتھ خیالات بدلتے رہئےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- یوں ترے ہجر میں آنکھوں سے ستارے ٹوٹےجیسے سیلاب سے دریا کے کنارے ٹوٹےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسےتیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسےWaseem Barelvi (b. 1940)