Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- مرے زخمی ہونٹMustafa Zaidi (1930–1970)
- وصالMustafa Zaidi (1930–1970)
- آسماں زرد تھاMustafa Zaidi (1930–1970)
- شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کیشرط ہی اور ہے شائستۂ فن ہونے کیGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- پر خطر راہ اگر ہو تو سفر مت کیجےزندگی زیر و زبر ہو تو سفر مت کیجےYas Chandpuri (b. 1930)
- ہائے کیسا یہ زمانے کا اثر لگتا ہےجس کو دیکھو وہی افسردہ بشر لگتا ہےYas Chandpuri (b. 1930)
- دل میں اک درد نہاں ہو تو غزل ہوتی ہےسیل جذبات رواں ہو تو غزل ہوتی ہےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- ساز آلام پہ دل نغمہ سرا ہوتا ہےاے محبت یہ ترے دور میں کیا ہوتا ہےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- جب سے دل میں ترے بخشے ہوئے غم ٹھہرے ہیںمحرم اور بھی اپنے لئے ہم ٹھہرے ہیںRaees Rampuri (b. 1930)
- کم میسر ہو جو ہوتی ہے اسی کی قیمتکثرت غم نے بڑھائی ہے خوشی کی قیمتRaees Rampuri (b. 1930)
- دوست ملتے رہے منزل پہ گزر ہونے تککوئی ساتھی نہ رہا ختم سفر ہونے تکLateef Nazi (b. 1930)
- ہجر کی رات ہے ویرانہ ہے تنہائی ہےدل لگانے کی عجب ہم نے سزا پائی ہےLateef Nazi (b. 1930)
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گاوقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گاAhmad Faraz (1931–2008)
- اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناںیاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناںAhmad Faraz (1931–2008)
- اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہےیوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسےتیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسےAhmad Faraz (1931–2008)
- بھید پائیں تو رہ یار میں گم ہو جائیںورنہ کس واسطے بے کار میں گم ہو جائیںAhmad Faraz (1931–2008)
- تھا عبث ترک تعلق کا ارادہ یوں بھیعشق زندہ نہیں رہتا ہے زیادہ یوں بھیAhmad Faraz (1931–2008)
- جب ہر اک شہر بلاؤں کا ٹھکانہ بن جائےکیا خبر کون کہاں کس کا نشانہ بن جائےAhmad Faraz (1931–2008)
- جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرےتو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرےAhmad Faraz (1931–2008)
- چل نکلتی ہیں غم یار سے باتیں کیا کیاہم نے بھی کیں در و دیوار سے باتیں کیا کیاAhmad Faraz (1931–2008)
- دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائےیاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائےAhmad Faraz (1931–2008)
- دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسااور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیساAhmad Faraz (1931–2008)
- دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والاوہی انداز ہے ظالم کا زمانے والاAhmad Faraz (1931–2008)
- رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئےآپ آئے بھی مگر رونے کے عادی روئےAhmad Faraz (1931–2008)
- روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیںدر سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلےہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلےAhmad Faraz (1931–2008)
- سب قرینے اسی دل دار کے رکھ دیتے ہیںہم غزل میں بھی ہنر یار کے رکھ دیتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتےورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتےAhmad Faraz (1931–2008)
- عشق نشہ ہے نہ جادو جو اتر بھی جائےیہ تو اک سیل بلا ہے سو گزر بھی جائےAhmad Faraz (1931–2008)
- غیرت عشق سلامت تھی انا زندہ تھیوہ بھی دن تھے کہ رہ و رسم وفا زندہ تھیAhmad Faraz (1931–2008)
- قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگےدل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگےAhmad Faraz (1931–2008)
- قرب جاناں کا نہ مے خانے کا موسم آیاپھر سے بے صرفہ اجڑ جانے کا موسم آیاAhmad Faraz (1931–2008)
- کتنے طوفانوں کی حامل تھی لہو کی اک بونددل میں اک لہر اٹھی آنکھ سے دریا برساAhmad Faraz (1931–2008)
- کسی جانب سے بھی پرچم نہ لہو کا نکلااب کے موسم میں بھی عالم وہی ہو کا نکلاAhmad Faraz (1931–2008)
- کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیںشاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیںAhmad Faraz (1931–2008)
- میں بھی پلکوں پہ سجا لوں گا لہو کی بوندیںتم بھی پا بستہ زنجیر حنا ہو جاناAhmad Faraz (1931–2008)
- میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلاقرعۂ فال مرے نام کا اکثر نکلاAhmad Faraz (1931–2008)
- نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہےکس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- وحشت دل صلۂ آبلہ پائی لے لےمجھ سے یارب مرے لفظوں کی کمائی لے لےAhmad Faraz (1931–2008)
- ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھےکس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھےAhmad Faraz (1931–2008)
- ہر کوئی طرۂ پیچاک پہن کر نکلاایک میں پیرہن خاک پہن کر نکلاAhmad Faraz (1931–2008)
- ہم تو خوش تھے کہ چلو دل کا جنوں کچھ کم ہےاب جو آرام بہت ہے تو سکوں کچھ کم ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- یوں ہی مر مر کے جئیں وقت گزارے جائیںزندگی ہم ترے ہاتھوں سے نہ مارے جائیںAhmad Faraz (1931–2008)
- اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جواس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکیAhmad Faraz (1931–2008)
- اتنا سناٹا کہ جیسے ہو سکوت صحراایسی تاریکی کہ آنکھوں نے دہائی دی ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- اتنی مدت دل آوارہ کہاں تھا کہ تجھےاپنے ہی گھر کے در و بام بھلا بیٹھے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- اے سیہ فام حسینہ ترا عریاں پیکرکتنی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں غلطیدہ ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- روز جب دھوپ پہاڑوں سے اترنے لگتیکوئی گھٹتا ہوا بڑھتا ہوا بیکل سایہAhmad Faraz (1931–2008)
- کس سے ڈرتے ہو کہ سب لوگ تمہاری ہی طرحایک سے ہیں وہی آنکھیں وہی چہرے وہی دلAhmad Faraz (1931–2008)