Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والازندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیںکوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہےQateel Shifai (1919–2001)
- یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیںجیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جاناجس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جاناQateel Shifai (1919–2001)
- شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگاکوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگاKaifi Azmi (1919–2002)
- آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہےآج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گیKaifi Azmi (1919–2002)
- اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گدازبزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھیKaifi Azmi (1919–2002)
- پیار کا جشن نئی طرح منانا ہوگاغم کسی دل میں سہی غم کو مٹانا ہوگاKaifi Azmi (1919–2002)
- تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرواور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گاKaifi Azmi (1919–2002)
- رام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئےیاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئےKaifi Azmi (1919–2002)
- روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہےدل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز محبت کیا ہےKaifi Azmi (1919–2002)
- کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیاکتنا سرشار ہے ذوق چمن آرائی آجKaifi Azmi (1919–2002)
- کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہےKaifi Azmi (1919–2002)
- آبلہ پا کوئی گزرا تھا جو پچھلے سن میںسرخ کانٹوں کی بہار آئی ہے اب کے بن میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیںاہل دل جام بہ کف سر بہ کفن جاتے ہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیںملنے والے کہیں الفت میں جدا ہوتے ہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- اپنے احساس سے باہر نہیں ہونے دیتاراز ظاہر بھی یہ مجھ پر نہیں ہونے دیتاJafar Shirazi (b. 1920)
- جی لرزتا ہے امڈتی ہوئی تنہائی سےاب نکالو مجھے اس رات کی پہنائی سےJafar Shirazi (b. 1920)
- دل ناداں کوئی محشر نہ اٹھانا اس وقتآ رہا ہے مری باتوں میں زمانا اس وقتJafar Shirazi (b. 1920)
- اب یہ عالم ہے کہ جس شے پہ نظر جاتی ہےہو بہ ہو آپ کی تصویر نظر آتی ہےRaees Niyazi (1920–1994)
- جرم الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیںکیسے نادان ہیں شعلوں کو ہوا دیتے ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیابات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- آپ بے وجہ پریشان سی کیوں ہیں ماداملوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اپنے سینے سے لگائے ہوئے امید کی لاشمدتوں زیست کو ناشاد کیا ہے میں نےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہیتجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیرمیرے تخئیل میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- جسم کی موت کوئی موت نہیں ہوتی ہےجسم مٹ جانے سے انسان نہیں مر جاتےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- رات سنسان تھی بوجھل تھیں فضا کی سانسیںروح پر چھائے تھے بے نام غموں کے سائےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہوایک آوارۂ منزل کو ستاتی کیوں ہوSahir Ludhianvi (1921–1980)
- لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیںروح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والیتیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں نے جس وقت تجھے پہلے پہل دیکھا تھاتو جوانی کا کوئی خواب نظر آئی تھیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھےآج ان گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیمجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہمیں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہےپھر کوئی لے کے بہاروں کا پیام آیا ہےDarshan Singh (1921–1989)
- وہ سلیقہ ہمیں جینے کا سکھا دے ساقیجو غم دہر سے بیگانہ بنا دے ساقیDarshan Singh (1921–1989)
- رہ گیا راہ میں جب کچھ بھی نہ کانٹوں کے سواتیرگی جھوٹ کی جب چھا گئی سچائی پرDarshan Singh (1921–1989)
- فکر و آلام کے بادل میں ہیں انوار حیاتروشنی کیا کسی تنویر کا پرتو بھی نہیںDarshan Singh (1921–1989)
- سوزش غم کا بیاں لب پہ نہ لاؤں کیونکردرد ہے حد سے سوا دل میں چھپاؤں کیونکرRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- گوشۂ دل میں تیرا درد چھپایا میں نےچشم تر کو بھی نہ یہ راز بتایا میں نےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- وقت اک ضرب لگائے تو غزل ہوتی ہےدرد اگر دل میں سمائے تو غزل ہوتی ہےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
- بات اب آئی سمجھ میں کہ حقیقت کیا تھیایک جذبات کی شدت تھی محبت کیا تھیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- شوق نظارہ جو سرگرم نظر ہوتا ہےجلوہ گر حسن بہ انداز دگر ہوتا ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- کر گیا گوشہ نشینوں پہ یہ احساں کوئیدے گیا مشغلہ چاک گریباں کوئیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- کسی نافہم سے اظہار تمنا کرنااپنی خاموش محبت کو ہے رسوا کرناEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- یاد تیری جو کبھی آتی ہے بہلانے کواور دیوانہ بنا جاتی ہے دیوانے کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کوکہ سنبھلنا بھی نہ چاہوں تو سنبھالیں مجھ کوLais Quraishi (b. 1922)
- تم نے بھولے سے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگاہم جو بچھڑیں گے تو کیا حال ہمارا ہوگاLais Quraishi (b. 1922)
- آج پھر دشت کوئی آبلہ پا مانگے ہےخار بھی تازگئ رنگ حنا مانگے ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)