Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میراکہ نکالے لیے جاتا ہے کوئی دل میراJigar Moradabadi (1890–1960)
- راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہےسب سے پہلے دل شاعر پہ عیاں ہوتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہےدل ادھر ہوتا ہے ظالم نہ ادھر ہوتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچےپہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچےJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھاخوب دیکھا ترے جلووں کو مگر کیا دیکھاJigar Moradabadi (1890–1960)
- جو بھی دے دے وہ کرم سے وہی لے لے نادرؔمنہ سے مانگو تو خدا اور خفا ہوتا ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- ننگ ہے راز محبت کا نمایاں ہونامر بھی جاؤں میں اگر تم نہ پریشاں ہوناNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانیپھر کہیں جھڑکی لگائے نہ کہیں جھڑ پانیShad Lakhnavi (d. 1892)
- کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اورلا کلامی ہے وہاں بات یہاں ہے کچھ اورShad Lakhnavi (d. 1892)
- اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کرآسماں ٹوٹ پڑا مجھ پہ ستارہ ہو کرShad Lakhnavi (d. 1892)
- بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میںوحشتیں بڑھ گئیں حد سے ترے دیوانوں میںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہےمہرباں بھی کوئی ہو جائے گا جلدی کیا ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- چھیڑ اے دل یہ کسی شوخ کے رخساروں سےکھیلنا آہ دہکتے ہوئے انگاروں سےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلاحوصلہ کچھ نہ ہمارا نہ تمہارا نکلاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہناکروٹیں لیتی ہوئی صبح چمن کیا کہناFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلےدی سزا عشق نے ہر جرم و خطا سے پہلےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- دن ہے بھاری غم فرقت کے گرفتاروں پررات کٹتی ہے دہکتے ہوئے انگاروں پرAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- یہی اچھا ہے جو اس طرح مٹائے کوئیآپ بھی پھر مجھے ڈھونڈے تو نہ پائے کوئیAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- آہ میں اے دل مظلوم اثر پیدا کرجس میں سودائے محبت ہو وہ سر پیدا کرLala Anoop Chand Aaftab Panipati (1896–1968)
- جلوۂ حسن ازل آئے تصور میں اگرگوشۂ دل میں مچلتے ہوئے ارماں ہوں گےLala Anoop Chand Aaftab Panipati (1896–1968)
- غم کی چھا جائے گی دنیا میں گھٹا میرے بعداور برسیں گے بہت تیر بلا میرے بعدLala Anoop Chand Aaftab Panipati (1896–1968)
- عشق نے عقل کو دیوانہ بنا رکھا ہےزلف انجام کی الجھن میں پھنسا رکھا ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہےبات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- آنے والے کسی طوفان کا رونا رو کرنا خدا نے مجھے ساحل پہ ڈبونا چاہاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- ہاتھ رکھ رکھ کے وہ سینے پہ کسی کا کہنادل سے درد اٹھتا ہے پہلے کہ جگر سے پہلےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- خوں اگر ہوں گے تو کام آئیں گے پیمانوں کےحوصلے کچھ تو نکل جائیں گے ارمانوں کےHabibur Rahman Siddiqui (1901–1971)
- ان کی یاد آئے تو کچھ اس کا تقاضہ ہوگاسوچتا ہوں وہ رہے یاد تو پھر کیا ہوگاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- خاک سے لالہ و گل سنبل و ریحاں نکلےتم بھی پردے سے نکل آؤ کہ ارماں نکلےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- کیا نہ دیکھا یہ کہو یہ نہ کہو کیا دیکھاہم نے جو کچھ بھی کسی بزم میں دیکھا دیکھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- حسن کے راز نہاں شرح بیاں تک پہنچےآنکھ سے دل میں گئے دل سے زباں تک پہنچےM. D. Taseer (1902–1950)
- درد ہی دیتا ہے اب وہ نہ دوا دیتا ہےہائے کیسا وہ وفاؤں کا صلہ دیتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتےخاک میں رلتے یہ گوہر نہیں دیکھے جاتےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- زندگی بہتی رہی آب رواں کی مانندکبھی ہلکی سی کبھی خواب گراں کی مانندJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- میری سوئی ہوئی قسمت کو جگانے آ جاآ جا آ جا مری بگڑی کو بنانے آ جاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- اس قدر وعدے کا انداز حسیں ہوتا ہےکہ ترے جھوٹ پہ بھی سچ کا یقیں ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- تیری یادوں کا ہی سرمایا لئے بیٹھے ہیںہم کبھی بے سر و سامان نہ ہونے پائےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ٹوٹ جاتے ہیں جو دنیا کے سہارے سارےپردۂ غیب سے ہوتا ہے سہارا پیداJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جب تھکے ہاتھوں سے پتوار بھی گر جاتے ہیںعین گرداب میں ہوتا ہے کنارہ پیداJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- حال دل کہتے ہی آ جاتی ہے جب یاد ان کیہم کہیں ہوتے ہیں افسانہ کہیں ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- راز الفت کے عیاں رات کو سارے ہوتےہم کئی بار انہیں گھبرا کے پکارے ہوتےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- گرم رفتار ہے تیری یہ پتا دیتے ہیںدم بہ دم لو ترے نقش کف پا دیتے ہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- ہے اندھیرا تو سمجھتا ہوں شب گیسو ہےبند آنکھیں ہیں کہ اے یار نظر میں تو ہےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئینہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئیChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
- آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیاکیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیاAkhtar Shirani (1905–1948)
- کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتاتم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتاAkhtar Shirani (1905–1948)
- کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیںمے کدے ہاتھ بڑھاتے ہیں جدھر جاتے ہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
- نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کرمیری جاگی ہوئی راتوں کو سلا دے آ کرAkhtar Shirani (1905–1948)
- جھولاAkhtar Shirani (1905–1948)
- ایک شاعرہ کی شادی پرAkhtar Shirani (1905–1948)
- ساون کی گھٹاAkhtar Shirani (1905–1948)