دن ہے بھاری غم فرقت کے گرفتاروں پر
Aal-e-Raza Raza (1896–1978)دن ہے بھاری غم فرقت کے گرفتاروں پر
رات کٹتی ہے دہکتے ہوئے انگاروں پر
حسن والوں کی خدائی ہے خدائی برہم
کس کو رحم آئے محبت کے گنہگاروں پر
پھونک دے برق نشیمن کو چمک کر نہ ڈرائے
آنکھیں اب رکھی نہیں جاتی ہیں انگاروں پر
دل کی قیمت نہیں کوئی کہ یہی ایک ہے دل
میں نے خود چھوڑ دیا مول خریداروں پر
عاشقی کو جو گدائی سے ملایا نہ رضاؔ
تو رعونت کا بھی الزام ہے خودداروں پر