Poetry
Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf
رمل مثمن سالم مخبون محذوف- تنہاMustafa Zaidi (1930–1970)
- آ کے محفل میں تری غم سے کنارا نہ ہوامجھ سا دنیا میں کوئی درد کا مارا نہ ہواLateef Nazi (b. 1930)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیںAhmad Faraz (1931–2008)
- پیچ رکھتے ہو بہت صاحبو دستار کے بیچہم نے سر گرتے ہوئے دیکھے ہیں بازار کے بیچAhmad Faraz (1931–2008)
- تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوستتو مری پہلی محبت تھی مری آخری دوستAhmad Faraz (1931–2008)
- تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغلوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغAhmad Faraz (1931–2008)
- جب تجھے یاد کریں کار جہاں کھینچتا ہےاور پھر عشق وہی کوہ گراں کھینچتا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- چاک پیراہنیٔ گل کو صبا جانتی ہےمستئ شوق کہاں بند قبا جانتی ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کیدل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کیAhmad Faraz (1931–2008)
- وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھاب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھAhmad Faraz (1931–2008)
- ہم بھی شاعر تھے کبھی جان سخن یاد نہیںتجھ کو بھولے ہیں تو دل داریٔ فن یاد نہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہےکیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- یوں تو پہلے بھی ہوئے اس سے کئی بار جدالیکن اب کے نظر آتے ہیں کچھ آثار جداAhmad Faraz (1931–2008)
- کب سے سنسان خرابوں میں پڑا تھا یہ جہاںکب سے خوابیدہ تھے اس وادئ خارا کے صنمAhmad Faraz (1931–2008)
- مدتوں بعد ملا نامۂ جاناں لیکننہ کوئی دل کی حکایت نہ کوئی پیار کی باتAhmad Faraz (1931–2008)
- خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئےپھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئےJaun Elia (1931–2002)
- عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیںکہ نہ اس شخص کو بھولیں نہ اسے یاد رکھیںJaun Elia (1931–2002)
- شرم سے اس نے نگاہوں کو ملانے نہ دیاضبط نے حال دل زار سنانے نہ دیاDanish Aligarhi (b. 1931)
- اپنے انکار کے برعکس برابر کوئی تھادل میں اک خواب تھا اور خواب کے اندر کوئی تھاZafar Iqbal (b. 1932)
- جس نے نفرت ہی مجھے دی نہ ظفرؔ پیار دیامیں نے سب کچھ اسے کیوں ہار دیا وار دیاZafar Iqbal (b. 1932)
- صرف آنکھیں تھیں ابھی ان میں اشارے نہیں تھےدل پہ موسم یہ محبت نے اتارے نہیں تھےZafar Iqbal (b. 1932)
- کس نئے خواب میں رہتا ہوں ڈبویا ہوا میںایک مدت ہوئی جاگا نہیں سویا ہوا میںZafar Iqbal (b. 1932)
- کھینچ لائی ہے یہاں لذت آزار مجھےجہاں پانی نہ ملے آج وہاں مار مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
- مسترد ہو گیا جب تیرا قبولا ہوا میںیاد کیا آؤں گا اس طرح سے بھولا ہوا میںZafar Iqbal (b. 1932)
- نہ گماں رہنے دیا ہے نہ یقیں رہنے دیاراستہ کوئی کھلا ہم نے نہیں رہنے دیاZafar Iqbal (b. 1932)
- ہم نے آواز نہ دی برگ و نوا ہوتے ہوئےاور ملنے نہ گئے اس کا پتا ہوتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
- یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہوZafar Iqbal (b. 1932)
- میں بکھر جاؤں گا زنجیر کی کڑیوں کی طرحاور رہ جائے گی اس دشت میں جھنکار مریZafar Iqbal (b. 1932)
- جذبۂ نو بھی تو ہے حسرت ناکام کے ساتھخواہش صبح ابھرتی تو ہے ہر شام کے ساتھDaud Ghazi (1932–1963)
- میری محبوب یہ آنسو ہیں کہ موتی رخ پران کو اس طرح نہ بیکار گنوا مان بھی جاDaud Ghazi (1932–1963)
- داغؔ کے شعر جوانی میں بھلے لگتے ہیںمیرؔ کی کوئی غزل گاؤ کہ کچھ چین پڑےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- میں نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے حفیظؔزندگی میری اک اجڑی ہوئی محفل ہی سہیHafeez Banarasi (1933–2008)
- ایک نالہ بھی نہیں شکوۂ بیداد نہیںکیا ستم ہے کہ ہمیں کوئی ستم یاد نہیںRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیںشام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیںGulzar (b. 1934)
- تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئےکچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئےGulzar (b. 1934)
- ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیںشمع جلتی ہے تو لازم ہے شعاعیں نکلیںGulzar (b. 1934)
- جی میں آتا ہے کہ اس کان سے سوراخ کروںکھینچ کر دوسری جانب سے نکالوں اس کوGulzar (b. 1934)
- کس قدر سیدھا، سہل، صاف ہے رستہ دیکھونہ کسی شاخ کا سایہ ہے، نہ دیوار کی ٹیکGulzar (b. 1934)
- آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرےجتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرےShakeb Jalali (1934–1966)
- غم الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہواآگ جب دل میں سلگتی تھی دھواں کیوں نہ ہواShakeb Jalali (1934–1966)
- غم دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیںجو کناروں میں سمٹ جائے وہ دریا ہی نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
- ربط احساس کہاں اب دل ناکام کے ساتھکیوں بجھا جاتا ہے یہ تیرگئ شام کے ساتھKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- یوں تو ہر داغ تجھے ہم نے دکھایا بھی نہیںلیکن اے دوست کوئی راز چھپایا بھی نہیںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کیاس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- بات کی بات رہے بات کا مفہوم رہےاور تخیل مرا تازہ رہے معصوم رہےJagdish Prakash (b. 1935)
- تجھ سے بچھڑے بھی تو حالات نے رونے نہ دیادل شکن وقت کے لمحات نے رونے نہ دیاG R Kanwal (b. 1935)
- شور دریائے وفا عشرت ساحل کے قریبرک گئے اپنے قدم آئے جو منزل کے قریبIftikhar Aazmi (1935–1977)
- آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہواخوف کے مارے جدا شاخ سے پتا نہ ہواShahryar (1936–2012)
- تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیںزندگی دیکھیے کیا رنگ دکھاتی ہے ہمیںShahryar (1936–2012)
- دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہوخواب دیکھو کہ حقیقت سے پشیمانی نہ ہوShahryar (1936–2012)