Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Salim Makhbun Mahzuf

رمل مثمن سالم مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. تنہاMustafa Zaidi (1930–1970)
  2. آ کے محفل میں تری غم سے کنارا نہ ہوامجھ سا دنیا میں کوئی درد کا مارا نہ ہواLateef Nazi (b. 1930)
  3. اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیںAhmad Faraz (1931–2008)
  4. پیچ رکھتے ہو بہت صاحبو دستار کے بیچہم نے سر گرتے ہوئے دیکھے ہیں بازار کے بیچAhmad Faraz (1931–2008)
  5. تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوستتو مری پہلی محبت تھی مری آخری دوستAhmad Faraz (1931–2008)
  6. تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغلوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغAhmad Faraz (1931–2008)
  7. جب تجھے یاد کریں کار جہاں کھینچتا ہےاور پھر عشق وہی کوہ گراں کھینچتا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
  8. چاک پیراہنیٔ گل کو صبا جانتی ہےمستئ شوق کہاں بند قبا جانتی ہےAhmad Faraz (1931–2008)
  9. سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کیدل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کیAhmad Faraz (1931–2008)
  10. وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھاب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھAhmad Faraz (1931–2008)
  11. ہم بھی شاعر تھے کبھی جان سخن یاد نہیںتجھ کو بھولے ہیں تو دل داریٔ فن یاد نہیںAhmad Faraz (1931–2008)
  12. ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہےکیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہےAhmad Faraz (1931–2008)
  13. یوں تو پہلے بھی ہوئے اس سے کئی بار جدالیکن اب کے نظر آتے ہیں کچھ آثار جداAhmad Faraz (1931–2008)
  14. کب سے سنسان خرابوں میں پڑا تھا یہ جہاںکب سے خوابیدہ تھے اس وادئ خارا کے صنمAhmad Faraz (1931–2008)
  15. مدتوں بعد ملا نامۂ جاناں لیکننہ کوئی دل کی حکایت نہ کوئی پیار کی باتAhmad Faraz (1931–2008)
  16. خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئےپھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئےJaun Elia (1931–2002)
  17. عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیںکہ نہ اس شخص کو بھولیں نہ اسے یاد رکھیںJaun Elia (1931–2002)
  18. شرم سے اس نے نگاہوں کو ملانے نہ دیاضبط نے حال دل زار سنانے نہ دیاDanish Aligarhi (b. 1931)
  19. اپنے انکار کے برعکس برابر کوئی تھادل میں اک خواب تھا اور خواب کے اندر کوئی تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  20. جس نے نفرت ہی مجھے دی نہ ظفرؔ پیار دیامیں نے سب کچھ اسے کیوں ہار دیا وار دیاZafar Iqbal (b. 1932)
  21. صرف آنکھیں تھیں ابھی ان میں اشارے نہیں تھےدل پہ موسم یہ محبت نے اتارے نہیں تھےZafar Iqbal (b. 1932)
  22. کس نئے خواب میں رہتا ہوں ڈبویا ہوا میںایک مدت ہوئی جاگا نہیں سویا ہوا میںZafar Iqbal (b. 1932)
  23. کھینچ لائی ہے یہاں لذت آزار مجھےجہاں پانی نہ ملے آج وہاں مار مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
  24. مسترد ہو گیا جب تیرا قبولا ہوا میںیاد کیا آؤں گا اس طرح سے بھولا ہوا میںZafar Iqbal (b. 1932)
  25. نہ گماں رہنے دیا ہے نہ یقیں رہنے دیاراستہ کوئی کھلا ہم نے نہیں رہنے دیاZafar Iqbal (b. 1932)
  26. ہم نے آواز نہ دی برگ و نوا ہوتے ہوئےاور ملنے نہ گئے اس کا پتا ہوتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)
  27. یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہوZafar Iqbal (b. 1932)
  28. میں بکھر جاؤں گا زنجیر کی کڑیوں کی طرحاور رہ جائے گی اس دشت میں جھنکار مریZafar Iqbal (b. 1932)
  29. جذبۂ نو بھی تو ہے حسرت ناکام کے ساتھخواہش صبح ابھرتی تو ہے ہر شام کے ساتھDaud Ghazi (1932–1963)
  30. میری محبوب یہ آنسو ہیں کہ موتی رخ پران کو اس طرح نہ بیکار گنوا مان بھی جاDaud Ghazi (1932–1963)
  31. داغؔ کے شعر جوانی میں بھلے لگتے ہیںمیرؔ کی کوئی غزل گاؤ کہ کچھ چین پڑےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
  32. میں نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے حفیظؔزندگی میری اک اجڑی ہوئی محفل ہی سہیHafeez Banarasi (1933–2008)
  33. ایک نالہ بھی نہیں شکوۂ بیداد نہیںکیا ستم ہے کہ ہمیں کوئی ستم یاد نہیںRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
  34. پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیںشام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیںGulzar (b. 1934)
  35. تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئےکچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئےGulzar (b. 1934)
  36. ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیںشمع جلتی ہے تو لازم ہے شعاعیں نکلیںGulzar (b. 1934)
  37. جی میں آتا ہے کہ اس کان سے سوراخ کروںکھینچ کر دوسری جانب سے نکالوں اس کوGulzar (b. 1934)
  38. کس قدر سیدھا، سہل، صاف ہے رستہ دیکھونہ کسی شاخ کا سایہ ہے، نہ دیوار کی ٹیکGulzar (b. 1934)
  39. آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرےجتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرےShakeb Jalali (1934–1966)
  40. غم الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہواآگ جب دل میں سلگتی تھی دھواں کیوں نہ ہواShakeb Jalali (1934–1966)
  41. غم دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیںجو کناروں میں سمٹ جائے وہ دریا ہی نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
  42. ربط احساس کہاں اب دل ناکام کے ساتھکیوں بجھا جاتا ہے یہ تیرگئ شام کے ساتھKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  43. یوں تو ہر داغ تجھے ہم نے دکھایا بھی نہیںلیکن اے دوست کوئی راز چھپایا بھی نہیںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  44. تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کیاس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  45. بات کی بات رہے بات کا مفہوم رہےاور تخیل مرا تازہ رہے معصوم رہےJagdish Prakash (b. 1935)
  46. تجھ سے بچھڑے بھی تو حالات نے رونے نہ دیادل شکن وقت کے لمحات نے رونے نہ دیاG R Kanwal (b. 1935)
  47. شور دریائے وفا عشرت ساحل کے قریبرک گئے اپنے قدم آئے جو منزل کے قریبIftikhar Aazmi (1935–1977)
  48. آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہواخوف کے مارے جدا شاخ سے پتا نہ ہواShahryar (1936–2012)
  49. تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیںزندگی دیکھیے کیا رنگ دکھاتی ہے ہمیںShahryar (1936–2012)
  50. دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہوخواب دیکھو کہ حقیقت سے پشیمانی نہ ہوShahryar (1936–2012)