Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہےدیے کو زندہ رکھتی ہے ہوا ایسا بھی ہوتا ہےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  2. اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کاابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  3. ایک مٹھی ایک صحرا بھیج دےکوئی آندھی میرا حصہ بھیج دےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  4. بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گامیں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  5. بلندی سے اتارے جا چکے ہیںزمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  6. بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نےہم تو تنہا تھے ہمیں پار اتارا کس نےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  7. پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہوخود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہوZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  8. پل پل جینے کی خواہش میں کرب شام و سحر مانگاسب تھے نشاط نفع کے پیچھے ہم نے رنج ضرر مانگاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  9. تو پھر میں کیا اگر انفاس کے سب تار گم اس میںمرے ہونے نہ ہونے کے سبھی آثار گم اس میںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  10. تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کیاس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  11. جب اتنی جاں سے محبت بڑھا کے رکھی تھیتو کیوں قریب ہوا شمع لا کے رکھی تھیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  12. جو آئے وہ حساب آب و دانہ کرنے والے تھےگئے وہ لوگ جو کار زمانہ کرنے والے تھےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  13. جو اپنی ہے وہ خاک دل نشیں ہی کام آئے گیگروگے آسماں سے جب زمیں ہی کام آئے گیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  14. چہرہ لالہ رنگ ہوا ہے موسم رنج و ملال کے بعدہم نے جینے کا گر جانا زہر کے استعمال کے بعدZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  15. دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میںسایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  16. دھوپ ہے کیا اور سایا کیا ہے اب معلوم ہوایہ سب کھیل تماشا کیا ہے اب معلوم ہواZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  17. دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دےاک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  18. روشنی پرچھائیں پیکر آخریدیکھ لوں جی بھر کے منظر آخریZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  19. رہے نہ گھر کے ہوئے خوار یہ تو ہونا تھاتری تلاش میں اے یار یہ تو ہونا تھاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  20. زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گاتجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  21. سلسلے کے بعد کوئی سلسلہ روشن کریںاک دیا جب ساتھ چھوڑے دوسرا روشن کریںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  22. طریق گریہ اب اس سے بہتر نہیں ملے گاکہ ایک آنسو بھی کوئی باہر نہیں ملے گاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  23. عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگو نےکچھ تم نے بدنام کیا کچھ آگ لگائیں لوگو نےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  24. کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیںدشت میں خوشبو کی بوچھاریں کہاں سے آ گئیںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  25. مرا قلم مرے جذبات مانگنے والےمجھے نہ مانگ مرا ہاتھ مانگنے والےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  26. میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیےبن گئی ہے مسئلہ سارے زمانے کے لیےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  27. نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھانہ بھر سکا کوئی اس کو خلا ہی ایسا تھاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  28. یقین کو سینچنا ہے خوابوں کو پالنا ہےبچا ہے تھوڑا سا جو اثاثہ سنبھالنا ہےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  29. اب تو علم کی پروازیںاور ہی قصے کہتی ہیںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  30. مرے عزیز وطن کے عزیز فرزندومرے وطن کی نئی صبح کے نقیب ہو تمZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  31. تنہائی کو گھر سے رخصت کر تو دوسوچو کس کے گھر جائے گی تنہائیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  32. خط لکھ کے کبھی اور کبھی خط کو جلا کرتنہائی کو رنگین بنا کیوں نہیں لیتےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  33. ذہنوں کی کہیں جنگ کہیں ذات کا ٹکراؤان سب کا سبب ایک مفادات کا ٹکراؤZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  34. شجر کے قتل میں اس کا بھی ہاتھ ہے شایدبتا رہا ہے یہ باد صبا کا چپ رہناZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  35. کتنی آسانی سے مشہور کیا ہے خود کومیں نے اپنے سے بڑے شخص کو گالی دے کرZafar Gorakhpuri (1935–2017)