Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آسماں آتش ظلمات میں جل جائے توخندۂ صبح کی تصویر بدل جائے توYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  2. اپنے مٹ جانے کا ادراک لئے پھرتا ہوںختم ہوتی ہوئی املاک لئے پھرتا ہوںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  3. اس کے شوخ لبوں کی لالی ڈس لے گیناگن جیسی آنکھوں والی ڈس لے گیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  4. اک لمحہ جو فرقت کے سوا اور بھی کچھ تھااک غم جو قیامت کے سوا اور بھی کچھ تھاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  5. اور پھر چہرۂ خاشاک بدل جائے گاایک دن موسم سفاک بدل جائے گاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  6. پہلے بے یار و مددگار کیا جاتا ہےپھر ہمیں حاشیہ بردار کیا جاتا ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  7. تری یادوں کے چراغوں میں یہ جلتی ہوئی راتمری آنکھوں سے چھلکتی رہی ڈھلتی ہوئی راتYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  8. تمہاری یاد میں کچھ یوں نئے موسم بناتا ہوںمیں صحرائے جنوں میں ریت سے شبنم بناتا ہوںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  9. تیری سانسوں کا زیر و بم جانمتوڑ دے صبر کا بھرم جانمYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  10. حیرت مآب ہوں کہ یہ کیا دیکھتا ہوں میںاے صاحب جمال ترا آئنہ ہوں میںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  11. درد کے سامنے دولت نہیں دیکھی جاتیجنگ میں صرف غنیمت نہیں دیکھی جاتیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  12. دل سے نکل نہ پائے گی موج ہوس کہ بساس طرح کھینچتی ہے یہ تار نفس کہ بسYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  13. دل کو کتنا سمجھایا ہے سب مایا ہےکون کسی کا ہو پایا ہے سب مایا ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  14. رنگ صحبت اڑا جبینوں سےجب مراسم ہوئے مشینوں سےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  15. سانپ جب آستین سے نکلاوہم کوئی یقین سے نکلاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  16. شمع امید جلاتے ہوئے مر جائیں گےدشت ظلمات بساتے ہوئے مر جائیں گےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  17. فلک پہ چاند ستارے کچھ اور کہتے ہیںمگر زمیں کے نظارے کچھ اور کہتے ہیںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  18. کتنے آزار مقدر سے لگے رہتے ہیںتیرے بیمار تو بستر سے لگے رہتے ہیںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  19. کسی بھی خانماں برباد سے نہیں ہوگاہمارا عشق تو فرہاد سے نہیں ہوگاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  20. کوئی سرمایہ کب رہا محفوظاک فقیری کا راستہ محفوظYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  21. منزل تھی اک طرف تو سفر دوسری طرفاک سمت پیر اٹھے تھے نظر دوسری طرفYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  22. یہ مجھ میں جو بے انتہا تنہائی ہےاس دشت کی آب و ہوا تنہائی ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  23. جب ہم نے چلنا سیکھاہمیں دوڑنا سکھایا گیاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  24. بنی آدمتمہیں کچھ یاد بھی ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  25. نماز وحشت قبرسفید خون والے لوگYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  26. وہ چلی گئیوہ چٹاخ چڑیا چلی گئیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
  27. ہماری نسلدشت نا مراد کیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)