Poetry
- آسماں آتش ظلمات میں جل جائے توخندۂ صبح کی تصویر بدل جائے توYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- اپنے مٹ جانے کا ادراک لئے پھرتا ہوںختم ہوتی ہوئی املاک لئے پھرتا ہوںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- اس کے شوخ لبوں کی لالی ڈس لے گیناگن جیسی آنکھوں والی ڈس لے گیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- اک لمحہ جو فرقت کے سوا اور بھی کچھ تھااک غم جو قیامت کے سوا اور بھی کچھ تھاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- اور پھر چہرۂ خاشاک بدل جائے گاایک دن موسم سفاک بدل جائے گاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- پہلے بے یار و مددگار کیا جاتا ہےپھر ہمیں حاشیہ بردار کیا جاتا ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- تری یادوں کے چراغوں میں یہ جلتی ہوئی راتمری آنکھوں سے چھلکتی رہی ڈھلتی ہوئی راتYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- تمہاری یاد میں کچھ یوں نئے موسم بناتا ہوںمیں صحرائے جنوں میں ریت سے شبنم بناتا ہوںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- تیری سانسوں کا زیر و بم جانمتوڑ دے صبر کا بھرم جانمYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- حیرت مآب ہوں کہ یہ کیا دیکھتا ہوں میںاے صاحب جمال ترا آئنہ ہوں میںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- درد کے سامنے دولت نہیں دیکھی جاتیجنگ میں صرف غنیمت نہیں دیکھی جاتیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- دل سے نکل نہ پائے گی موج ہوس کہ بساس طرح کھینچتی ہے یہ تار نفس کہ بسYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- دل کو کتنا سمجھایا ہے سب مایا ہےکون کسی کا ہو پایا ہے سب مایا ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- رنگ صحبت اڑا جبینوں سےجب مراسم ہوئے مشینوں سےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- سانپ جب آستین سے نکلاوہم کوئی یقین سے نکلاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- شمع امید جلاتے ہوئے مر جائیں گےدشت ظلمات بساتے ہوئے مر جائیں گےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- فلک پہ چاند ستارے کچھ اور کہتے ہیںمگر زمیں کے نظارے کچھ اور کہتے ہیںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- کتنے آزار مقدر سے لگے رہتے ہیںتیرے بیمار تو بستر سے لگے رہتے ہیںYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- کسی بھی خانماں برباد سے نہیں ہوگاہمارا عشق تو فرہاد سے نہیں ہوگاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- کوئی سرمایہ کب رہا محفوظاک فقیری کا راستہ محفوظYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- منزل تھی اک طرف تو سفر دوسری طرفاک سمت پیر اٹھے تھے نظر دوسری طرفYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- یہ مجھ میں جو بے انتہا تنہائی ہےاس دشت کی آب و ہوا تنہائی ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- جب ہم نے چلنا سیکھاہمیں دوڑنا سکھایا گیاYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- بنی آدمتمہیں کچھ یاد بھی ہےYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- نماز وحشت قبرسفید خون والے لوگYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- وہ چلی گئیوہ چٹاخ چڑیا چلی گئیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)
- ہماری نسلدشت نا مراد کیYahya Khan Yusuf Zai (b. 1981)