Poetry
- الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کادریا کا نہ جنگل کا سما کا نہ زمیں کاواجد علی شاہ
- اللہ اے بتو ہمیں دکھلائے لکھنؤسوتے میں بھی یہ کہتے ہیں ہم ہائے لکھنؤواجد علی شاہ
- اے نسیم سحری ہم تو ہوا ہوتے ہیںدم جو گھٹتا ہے محبت میں خفا ہوتے ہیںواجد علی شاہ
- برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لااے باد صبا خاک در یار ادھر لاواجد علی شاہ
- جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتیاس وقت مری جان مروت نہیں آتیواجد علی شاہ
- چاک چاک اپنا گریباں نہ ہوا تھا سو ہواوحشت دل کا جو ساماں نہ ہوا تھا سو ہواواجد علی شاہ
- حال دل اے بتو خدا جانےسچ ہے سچ اس کو غیر کیا جانےواجد علی شاہ
- دستار فقیرانہ اک تاج سے افزوں ہےراہ طرح خم خانہ معراج سے افزوں ہےواجد علی شاہ
- دکھاتے ہیں جو یہ صنم دیکھتے ہیںخدا کی خدائی کو ہم دیکھتے ہیںواجد علی شاہ
- سنا ہے کوچ تو ان کا پر اس کو کیا کہیےزبان خلق کو نقارۂ خدا کہیےواجد علی شاہ
- سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسےمرے کھو گئے کارواں کیسے کیسےواجد علی شاہ
- عشق سے کچھ کام نے کچھ کوئے جاناں سے غرضگل سے مطلب ہے نہ کچھ خار بیاباں سے غرضواجد علی شاہ
- غنچۂ دل کھلے جو چاہو تمگلشن دہر میں صبا ہو تمواجد علی شاہ
- کبھی لطف زبان خوش بیاں تھےزمین شعر کے ہم آسماں تھےواجد علی شاہ
- گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیںکیا ہی نادانیاں نادان سے ہم دیکھتے ہیںواجد علی شاہ
- لبالب کر دے اے ساقی ہے خالی میرا پیمانہسلامت دور گردوں تک یہ شیشہ اور یہ مے خانہواجد علی شاہ
- لجیائی سے نازک ہے اے جان بدن تیرااب چھو نہیں سکتے ہم پھولا یہ چمن تیراواجد علی شاہ
- محبت سے بندہ بنا لیجئے گابتا دیجیے کیا خدا لیجئے گاواجد علی شاہ
- نایاب ہے سکون دل بے قرار میںبسمل کی ہے تڑپ مرے کنج مزار میںواجد علی شاہ
- یاد میں اپنے یار جانی کیہم نے مر مر کے زندگانی کیواجد علی شاہ
- بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرویہ موم دل ہے ہمارا اسے جدا نہ کروواجد علی شاہ
- پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کابرا ہمارا ہوا ہو بھلا محبت کاواجد علی شاہ
- زہرہ سہیل شمس خور بدر بہا تو کون ہےہوش ربا ستم گر مہ لقا تو کون ہےواجد علی شاہ
- سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھادنیا یہ بری ہے یہ زمانہ نہیں اچھاواجد علی شاہ