Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ابر چھایا تھا فضاؤں میں تری باتوں کاکتنا دل کش تھا وہ منظر بھری برساتوں کاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  2. ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیںدل کے جنگل یوں ہی بستے ہیں اجڑ جاتے ہیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  3. بدلتی رت پہ ہواؤں کے سخت پہرے تھےلہو لہو تھی نظر داغ داغ چہرے تھےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  4. بسنتی رت ہے سب پھولوں کو تو محفوظ رکھنامیرے اللہ کھلی سرسوں کو تو محفوظ رکھناRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  5. بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنےلوگ جذبات میں ہو جاتے ہیں پاگل کتنےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  6. جاڑوں بھر کیوں میرے آنگن میں سایہ تھاسورج نے کس چھت پر خیمہ لگوایا تھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  7. جس کی خاطر عمر گنوائی اک دنیا کو بھولی میںجی کہتا تھا اس سے کہہ دوں لیکن کیسے کہتی میںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  8. خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہےآج کے دور میں جینا بھی اداکاری ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  9. ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھامیز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  10. روز اٹھتا ہے دھواں کوہ ندا کے اس پارچاند چپ چاپ سلگتا ہے فضا کے اس پارRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  11. گھرے ہیں چاروں طرف بیکسی کے بادل پھرسلگ رہا ہے ستاروں بھرا اک آنچل پھرRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  12. مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھاگھٹا نے مجھ سے مرا آفتاب چھینا تھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  13. نارسائی کا چلو جشن منائیں ہم لوگشاید اس طرح سے کچھ کھوئیں تو پائیں ہم لوگRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  14. وہ تیری یاد کے لمحے ترے خیال کے دنعلاج درد کے زخموں کے اندمال کے دنRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  15. ہوائیں بے عناں ہیں آج گھر سے دور مت جاؤ کہا تھا نااگر جاؤ چلے جانا مگر جلدی ہی لوٹ آؤ کہا تھا ناRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  16. آج بھی کوئی کہیں گوش بر آواز نہ تھاآج بھی چاروں طرف لوگ تھے اندھے بہرےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  17. آج پھر ذہن کے ان بند دریچوں کے تلےدل میں سوئے ہوئے احساس نے کروٹ بدلیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  18. اپنے بڑھتے ہوئے بالوں کو کٹا لوں تو چلوںغسل خانے میں ذرا دھوم مچا لوں تو چلوںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  19. اس دنیا میںچشم و زباں کےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  20. پر رنگ ہوس نے پھڑپھڑائےبڑھنے لگے نشے کے سائےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  21. زندگی ریشمیں قالین نہیں ہوتیخواب کے پاؤں بھی ہوتے ہیں کہاںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  22. زندگی سمٹتی ہےدائروں کے اندر ہیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  23. عجیب آندھیاں چلیںہوائیں تیز تر ہوئیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  24. مرا دل جیسے کوئی آئینہ ہےترا ہی عکس اس میں بس گیا ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  25. مرے خدائے بزرگ و برتریہ سچ ہے ذات و صفات تو ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  26. ابھی کچھ اور سانسیں رہ گئی ہیںابھی کچھ اور رسالوں تک مجھے گننا ہے ان کوRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  27. دور تکہر طرفRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  28. سینکڑوں بار یہی دل میں خیال آیا ہےمیں تری راہ میں گل بن کے بکھر سکتی تھیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  29. مری جاں یہ مدت سے میں جانتی ہوںتمہارا یہ دل کوئی پتھر نہیں ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  30. نرم لہجے میں سہیاس نے کہا تھا اک دنRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  31. نہیں تھی وہتو جانےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  32. تری بے اعتنائی کابڑا احسان ہے مجھ پرRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  33. تم مرے پاس رہو ساتھ رہواور یہ احساس رہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  34. دھنک اوڑھ کر پھر رہی ہو مگرتم نے سوچا کبھیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  35. سانس لینے کے لئےقصر و کاشانہ ضروری تو نہیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  36. ماںتیرے آنچل کے سارے پھول چنے میں نےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  37. یہ تم نہ کہناکسی سے تم کوRafia Shabnam Abidi (b. 1943)