Poetry
- ابر چھایا تھا فضاؤں میں تری باتوں کاکتنا دل کش تھا وہ منظر بھری برساتوں کاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیںدل کے جنگل یوں ہی بستے ہیں اجڑ جاتے ہیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- بدلتی رت پہ ہواؤں کے سخت پہرے تھےلہو لہو تھی نظر داغ داغ چہرے تھےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- بسنتی رت ہے سب پھولوں کو تو محفوظ رکھنامیرے اللہ کھلی سرسوں کو تو محفوظ رکھناRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنےلوگ جذبات میں ہو جاتے ہیں پاگل کتنےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- جاڑوں بھر کیوں میرے آنگن میں سایہ تھاسورج نے کس چھت پر خیمہ لگوایا تھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- جس کی خاطر عمر گنوائی اک دنیا کو بھولی میںجی کہتا تھا اس سے کہہ دوں لیکن کیسے کہتی میںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہےآج کے دور میں جینا بھی اداکاری ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھامیز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- روز اٹھتا ہے دھواں کوہ ندا کے اس پارچاند چپ چاپ سلگتا ہے فضا کے اس پارRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- گھرے ہیں چاروں طرف بیکسی کے بادل پھرسلگ رہا ہے ستاروں بھرا اک آنچل پھرRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھاگھٹا نے مجھ سے مرا آفتاب چھینا تھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- نارسائی کا چلو جشن منائیں ہم لوگشاید اس طرح سے کچھ کھوئیں تو پائیں ہم لوگRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- وہ تیری یاد کے لمحے ترے خیال کے دنعلاج درد کے زخموں کے اندمال کے دنRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ہوائیں بے عناں ہیں آج گھر سے دور مت جاؤ کہا تھا نااگر جاؤ چلے جانا مگر جلدی ہی لوٹ آؤ کہا تھا ناRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- آج بھی کوئی کہیں گوش بر آواز نہ تھاآج بھی چاروں طرف لوگ تھے اندھے بہرےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- آج پھر ذہن کے ان بند دریچوں کے تلےدل میں سوئے ہوئے احساس نے کروٹ بدلیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- اپنے بڑھتے ہوئے بالوں کو کٹا لوں تو چلوںغسل خانے میں ذرا دھوم مچا لوں تو چلوںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- اس دنیا میںچشم و زباں کےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- پر رنگ ہوس نے پھڑپھڑائےبڑھنے لگے نشے کے سائےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- زندگی ریشمیں قالین نہیں ہوتیخواب کے پاؤں بھی ہوتے ہیں کہاںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- زندگی سمٹتی ہےدائروں کے اندر ہیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- عجیب آندھیاں چلیںہوائیں تیز تر ہوئیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- مرا دل جیسے کوئی آئینہ ہےترا ہی عکس اس میں بس گیا ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- مرے خدائے بزرگ و برتریہ سچ ہے ذات و صفات تو ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ابھی کچھ اور سانسیں رہ گئی ہیںابھی کچھ اور رسالوں تک مجھے گننا ہے ان کوRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- دور تکہر طرفRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- سینکڑوں بار یہی دل میں خیال آیا ہےمیں تری راہ میں گل بن کے بکھر سکتی تھیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- مری جاں یہ مدت سے میں جانتی ہوںتمہارا یہ دل کوئی پتھر نہیں ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- نرم لہجے میں سہیاس نے کہا تھا اک دنRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- نہیں تھی وہتو جانےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- تری بے اعتنائی کابڑا احسان ہے مجھ پرRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- تم مرے پاس رہو ساتھ رہواور یہ احساس رہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- دھنک اوڑھ کر پھر رہی ہو مگرتم نے سوچا کبھیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- سانس لینے کے لئےقصر و کاشانہ ضروری تو نہیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ماںتیرے آنچل کے سارے پھول چنے میں نےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- یہ تم نہ کہناکسی سے تم کوRafia Shabnam Abidi (b. 1943)