Poetry
- آنکھوں میں اک خواب ہے اس کو یہیں سجاؤں گاتھوڑی زمیں ملی تو اک دن باغ لگاؤں گاObaid Siddiqi (1957–2020)
- اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہےململ بدن پہ اس کے کمخواب ہو گئی ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
- اپنے بعد حقیقت یا افسانہ چھوڑا تھاپھول کھلے تھے میں نے جب ویرانہ چھوڑا تھاObaid Siddiqi (1957–2020)
- اس کے پرتو سے ہوا ہے زعفرانی رنگ کاآئینہ تو آج بھی ہے کہکشانی رنگ کاObaid Siddiqi (1957–2020)
- اگر اس شہر کی آب و ہوا تبدیل ہو جائےتو پھر سب کچھ بجز نام خدا تبدیل ہو جائےObaid Siddiqi (1957–2020)
- ایسی تن آسانی سےباز آ جا نادانی سےObaid Siddiqi (1957–2020)
- بیٹھے بٹھائے آج پھر کس کا خیال آ گیاچہرے کا رنگ اڑ گیا رنگ ملال آ گیاObaid Siddiqi (1957–2020)
- پہلے اک موج ہوا آتی ہےاور پھر گھر کے گھٹا آتی ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
- تری نسبت سے اپنی ذات کا ادراک کرنے میںبہت عرصہ لگا ہے پیرہن کو چاک کرنے میںObaid Siddiqi (1957–2020)
- تو بھی فریادی ہوا تھا التجا میں نے بھی کیتو نہ تھا مجرم اکیلا ہاں خطا میں نے بھی کیObaid Siddiqi (1957–2020)
- خشک دریاؤں کو پانی دے خدابادبانوں کو روانی دے خداObaid Siddiqi (1957–2020)
- خواب آنکھوں میں سوالی ہی رہےکاسۂ تعبیر خالی ہی رہےObaid Siddiqi (1957–2020)
- دریا جو چڑھا ہے وہ اترنے نہیں دینایہ لمحۂ موجود گزرنے نہیں دیناObaid Siddiqi (1957–2020)
- دنیا کو اس بار فسانہ کر دوں گاخوابوں کو ہر سمت روانہ کر دوں گاObaid Siddiqi (1957–2020)
- دیار خواب سے آگے سفر کرنے کا دن ہےتو کیا یہ قصۂ جاں مختصر کرنے کا دن ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
- رنگ ہوا میں پھیل رہا ہےدیکھو کیسا پھول کھلا ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
- زمین بارہا بدلی زماں نہیں بدلااسی لیے تو یہ میرا جہاں نہیں بدلاObaid Siddiqi (1957–2020)
- کار دنیا کے تقاضوں کو نبھانے میں کٹیزندگی ریت کی دیوار اٹھانے میں کٹیObaid Siddiqi (1957–2020)
- کب تک اس کا ہجر مناتا صحرا چھوڑ دیاجینے کی امید میں میں نے کیا کیا چھوڑ دیاObaid Siddiqi (1957–2020)
- کبھی کبھی یہ سونا پن کھل جاتا ہےبس اک لمحہ آتا ہے ٹل جاتا ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
- کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیایہاں کیسے ہر بت خدا ہو گیاObaid Siddiqi (1957–2020)
- کیا پھر زمین دل کی نمناک ہو رہی ہےاک بیل آرزو کی پیچاک ہو رہی ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
- کیا سنے کوئی زبانی میریاور پھر وہ بھی کہانی میریObaid Siddiqi (1957–2020)
- کیسے بدل رہے ہو بتاتا نہیں ہے کیاآئینہ کوئی تم کو دکھاتا نہیں ہے کیاObaid Siddiqi (1957–2020)
- مجھے اب نیا اک بدن چاہیئےاور اس کے لیے بانکپن چاہیئےObaid Siddiqi (1957–2020)
- منظر روز بدل دیتا ہوں اپنی نرم خیالی سےشام شفق میں ڈھل جاتی ہے رنگ حنا کی لالی سےObaid Siddiqi (1957–2020)
- میں خواب اپنے سارے نیلام کر رہا ہوںاور یہ بھی جان لو کہ بے دام کر رہا ہوںObaid Siddiqi (1957–2020)
- میں فرد جرم تیری تیار کر رہا ہوںاے آسمان سن لے ہشیار کر رہا ہوںObaid Siddiqi (1957–2020)
- نقصان کیا بتائیں ہمارا کیا بہتاس کاروبار دل نے خسارا کیا بہتObaid Siddiqi (1957–2020)
- ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گےبہت کچھ بھول جائیں گے بہت کچھ یاد رکھیں گےObaid Siddiqi (1957–2020)
- ہوائے شام نہ جانے کہاں سے آتی ہےوہاں گلاب بہت ہیں جہاں سے آتی ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
- ہونٹ کھلیں تو نکلے واہدنیا ایک تماشا گاہObaid Siddiqi (1957–2020)
- یقیناً ہم کو گھر اچھے لگے تھےمکیں پہلے مگر اچھے لگے تھےObaid Siddiqi (1957–2020)
- یہ شہر طرب دیکھ بیابان میں کیا ہےاے طائر وحشت ترے امکان میں کیا ہےObaid Siddiqi (1957–2020)