Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھوں میں اک خواب ہے اس کو یہیں سجاؤں گاتھوڑی زمیں ملی تو اک دن باغ لگاؤں گاObaid Siddiqi (1957–2020)
  2. اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہےململ بدن پہ اس کے کمخواب ہو گئی ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
  3. اپنے بعد حقیقت یا افسانہ چھوڑا تھاپھول کھلے تھے میں نے جب ویرانہ چھوڑا تھاObaid Siddiqi (1957–2020)
  4. اس کے پرتو سے ہوا ہے زعفرانی رنگ کاآئینہ تو آج بھی ہے کہکشانی رنگ کاObaid Siddiqi (1957–2020)
  5. اگر اس شہر کی آب و ہوا تبدیل ہو جائےتو پھر سب کچھ بجز نام خدا تبدیل ہو جائےObaid Siddiqi (1957–2020)
  6. ایسی تن آسانی سےباز آ جا نادانی سےObaid Siddiqi (1957–2020)
  7. بیٹھے بٹھائے آج پھر کس کا خیال آ گیاچہرے کا رنگ اڑ گیا رنگ ملال آ گیاObaid Siddiqi (1957–2020)
  8. پہلے اک موج ہوا آتی ہےاور پھر گھر کے گھٹا آتی ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
  9. تری نسبت سے اپنی ذات کا ادراک کرنے میںبہت عرصہ لگا ہے پیرہن کو چاک کرنے میںObaid Siddiqi (1957–2020)
  10. تو بھی فریادی ہوا تھا التجا میں نے بھی کیتو نہ تھا مجرم اکیلا ہاں خطا میں نے بھی کیObaid Siddiqi (1957–2020)
  11. خشک دریاؤں کو پانی دے خدابادبانوں کو روانی دے خداObaid Siddiqi (1957–2020)
  12. خواب آنکھوں میں سوالی ہی رہےکاسۂ تعبیر خالی ہی رہےObaid Siddiqi (1957–2020)
  13. دریا جو چڑھا ہے وہ اترنے نہیں دینایہ لمحۂ موجود گزرنے نہیں دیناObaid Siddiqi (1957–2020)
  14. دنیا کو اس بار فسانہ کر دوں گاخوابوں کو ہر سمت روانہ کر دوں گاObaid Siddiqi (1957–2020)
  15. دیار خواب سے آگے سفر کرنے کا دن ہےتو کیا یہ قصۂ جاں مختصر کرنے کا دن ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
  16. رنگ ہوا میں پھیل رہا ہےدیکھو کیسا پھول کھلا ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
  17. زمین بارہا بدلی زماں نہیں بدلااسی لیے تو یہ میرا جہاں نہیں بدلاObaid Siddiqi (1957–2020)
  18. کار دنیا کے تقاضوں کو نبھانے میں کٹیزندگی ریت کی دیوار اٹھانے میں کٹیObaid Siddiqi (1957–2020)
  19. کب تک اس کا ہجر مناتا صحرا چھوڑ دیاجینے کی امید میں میں نے کیا کیا چھوڑ دیاObaid Siddiqi (1957–2020)
  20. کبھی کبھی یہ سونا پن کھل جاتا ہےبس اک لمحہ آتا ہے ٹل جاتا ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
  21. کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیایہاں کیسے ہر بت خدا ہو گیاObaid Siddiqi (1957–2020)
  22. کیا پھر زمین دل کی نمناک ہو رہی ہےاک بیل آرزو کی پیچاک ہو رہی ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
  23. کیا سنے کوئی زبانی میریاور پھر وہ بھی کہانی میریObaid Siddiqi (1957–2020)
  24. کیسے بدل رہے ہو بتاتا نہیں ہے کیاآئینہ کوئی تم کو دکھاتا نہیں ہے کیاObaid Siddiqi (1957–2020)
  25. مجھے اب نیا اک بدن چاہیئےاور اس کے لیے بانکپن چاہیئےObaid Siddiqi (1957–2020)
  26. منظر روز بدل دیتا ہوں اپنی نرم خیالی سےشام شفق میں ڈھل جاتی ہے رنگ حنا کی لالی سےObaid Siddiqi (1957–2020)
  27. میں خواب اپنے سارے نیلام کر رہا ہوںاور یہ بھی جان لو کہ بے دام کر رہا ہوںObaid Siddiqi (1957–2020)
  28. میں فرد جرم تیری تیار کر رہا ہوںاے آسمان سن لے ہشیار کر رہا ہوںObaid Siddiqi (1957–2020)
  29. نقصان کیا بتائیں ہمارا کیا بہتاس کاروبار دل نے خسارا کیا بہتObaid Siddiqi (1957–2020)
  30. ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گےبہت کچھ بھول جائیں گے بہت کچھ یاد رکھیں گےObaid Siddiqi (1957–2020)
  31. ہوائے شام نہ جانے کہاں سے آتی ہےوہاں گلاب بہت ہیں جہاں سے آتی ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
  32. ہونٹ کھلیں تو نکلے واہدنیا ایک تماشا گاہObaid Siddiqi (1957–2020)
  33. یقیناً ہم کو گھر اچھے لگے تھےمکیں پہلے مگر اچھے لگے تھےObaid Siddiqi (1957–2020)
  34. یہ شہر طرب دیکھ بیابان میں کیا ہےاے طائر وحشت ترے امکان میں کیا ہےObaid Siddiqi (1957–2020)